احمد رشدی کی یاد میں

احمد رشدی کی یاد میں
احمد رشدی

احمد رشدی کی یاد میں

از، خضر حیات

احمد رشدی کے نام سے کون واقف نہیں ہوگا؟ ایک ایسے دور میں جب گلوکار ایک ہی جسمانی حالت میں کھڑے اور چہرے کے ایک جیسے تاثرات لیے  پورا پورا گانا ریکارڈ کروا دیتے تھے۔ ایک ایسا گلوکار نمودار ہوا جو نا صرف خود تھرک تھرک کے گاتا تھا بلکہ سننے والوں کو بھی تھرکنے پہ مجبور کر دیتا ہے۔ یہ شوخ، چنچل، چُلبلا اور زندگی سے بھرپور وجود اس احمد رشدی کا تھا کہ 60ء کے عشرے میں پاکستان میں بننے والی ہر دوسری فلم میں جن کے گیت لازمی شامل ہوتے تھے۔ ان کے گائے ہوئے ‘کو کو رینا’ نے انہیں پورے جنوبی ایشیاء میں زبردست پاپ سنگر کے طور پر مشہور کر دیا تھا۔

حیدر آباد دکن میں تقسیم سے پہلے 24 اپریل 1934ء کو پیدا ہونے اور تقسیمِ برصغیر کے بعد پاکستان میں منتقل ہونے والے احمد رُشدی پاکستان کے پہلے پاپ سنگر کے طور پر مشہور ہوئے اور نوجوانوں کے دل کی دھڑکنوں ترتیب دینے لگے۔ معروف فلمی گلوکار نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ 1955ء میں دیگر گلوکاروں کے ساتھ مل کر پاکستان کا قومی ترانہ پہلی مرتبہ گانے والوں میں ایک نام احمد رشدی کا بھی ہے۔

1954ء میں انہوں نے بچوں کے ایک ریڈیو پروگرام ‘بچوں کی دنیا’  کے لیے مہدی ظہیر کا لکھا ہوا گیت ‘بندر روڈ سے کیماڑی، میری چلی ہے گھوڑا گاڑی’ گا کر پہلے پہل شہرت حاصل کی جس کے بعد ان کی شہرت کا یہ سفر ہمیشہ جاری و ساری رہا۔ یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں ہے کہ پلے بیک گائیکی میں شہنشاہِ غزل مہدی حسن، ایس بی جون، مسعود رانا، سلیم رضا اور دیگر معروف گلوکاروں کے ہوتے ہوئے انہوں نے اپنا ایک منفرد مقام بنایا اور اپنے یونیک انداز سے شائقین کو اپنی آواز کا دیوانہ بنا لیا۔ انہوں نے سولو، ڈسکو، پاپ میوزک، کلاسیکل میوزک، ہِپ ہاپ میوزک، راک اینڈ رول اور غزل جیسی تمام اصناف میں اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کیا اور دنیائے موسیقی کو رنگ برنگے گیتوں سے مالامال کر دیا۔

فلموں  کے لیے پلے بیک سنگر کے طور پر انہوں نے بہت سے مشہور ہیروز  کے لیے گانے گائے مگر جس اداکار پر ان کی آواز سب سے زیادہ جچی وہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد تھے۔ دونوں کے سنگم نے ایسے ایسے شاہکار گانے دنیا کو دیے کہ جن کی چمک آج بھی آسمانِ موسیقی پر قائم و دائم ہے۔ صرف وحید مراد پر پکچرائز ہونے والے ان کے گانوں کی تعداد 150 سے اوپر ہے جو اپنی جگہ ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ گلوکارہ مالا کے ساتھ مل کر انہوں نے 100 سے زیادہ دوگانے گائے اور پاکستان میں دوگانوں کا یہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔ ایک کیلنڈر ایئر میں سب سے زیادہ گیت گانے اور ایک ہی موسیقار کی دھنوں پہ سو سے زائد گیت گانے کا اعزاز بھی انہی کے نام ہے۔ ایم اشرف وہ موسیقار تھے جنہوں نے احمد رشدی  کے لیے اتنی دھنیں ترتیب دیں۔

انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے دور کے نامور موسیقاروں نثار بزمی، ایم اشرف، اے حمید، کریم شہاب الدین، ماسٹر عنایت حسین، کمال احمد لال، محمد اقبال، روبن گھوش، خورشید احمد، جے اے چشتی اور دیگر کی دُھنوں پر کسی بھی گلوکار کی نسبت پاکستان میں سب سے زیادہ فلمی گیت گائے۔ انہوں نے انگریزی سمیت اردو، پنجابی، گجراتی، مراٹھی، تامل، تیلگو، بھوجپوری سبھی زبانوں میں گانے گائے۔ 583 ریلیز فلموں  کے لیے ان کے گائے گئے گیتوں کی تعداد کم و بیش پانچ ہزار بنتی ہے جس میں ہندوستانی فلم ‘عبرت’ کے لیے گائے گئے گیت بھی شامل ہیں۔

11 اپریل 1983ء کو آج ہی کے دن کراچی میں ہارٹ اٹیک کے باعث احمد رُشدی اس جہانِ فانی سے محض 48 برس کی عمر میں ہی کوچ کر گئے مگر ان کی آواز ہمیشہ ہمارے کانوں میں گونج کر ان کی موجودگی کا احساس دلاتی رہے گی۔

انہیں پانچ نگار ایوارڈز، بیسٹ سنگر آف ملینئیم، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، لیجنڈ ایوارڈ، لکس اسٹائل ایوارڈ اور وفات کے بعد 2003ء میں صدر پرویز مشرف کی جانب سے ستارہء امتیاز جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔

ان کے گائے ہوئے بے پناہ گیتوں میں سے ان کے مقبول ترین گیتوں کی ایک فہرست یہاں دی جا رہی ہے، سُنیے اور سر دُھنیے:

1۔ میرے خیالوں پہ چھائی ہے۔۔۔۔۔ کوکو رینا

2۔ الف سے اچھی گاف سے گڑیا جیم سے جاپانی

3۔ اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم

4۔ کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے

5۔ گول گپے والا آیا گول گپے لایا

6۔ اے بہارو گواہ رہنا

7۔ تمہیں کیسے بتا دوں تم میری منزل ہو

8۔ سوچا تھا پیار نہ کریں گے

9۔ اے ابرِ کرم آج اتنا برس اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں

10۔ کیا ہے جو پیار تو پڑے گا نبھانا

11۔ ہاں اسی موڑ پر اس جگہ بیٹھ کر

12۔ کبھی تو تم کو یاد آئیں گی

13۔ بھولی ہوئی ہوں داستاں

14۔ موسم حسیں ہے لیکن تم سا حسین نہیں ہے

15۔ بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی

******

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

1 Comment

  1. مصنف نے زیر نظر مضمون مین موسیقاروں کی فہرست پیش کرتے ہوئے تھوڑے سہو کا ارتکاب کیا ہے لکھتے ہیں: “کمال احمد لال، محمد اقبال۔۔۔۔۔” نہ میرے بھائی یوں نہیں بلکہ یوں: کمال احمد، لعل محمد اقبال۔۔۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*