نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل، از ڈاکٹر محی الدین غازی، پر تبصرہ

نماز کے اختلافات

نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل، از ڈاکٹر محی الدین غازی، پر تبصرہ

تبصرہ نگار: ڈاکٹر عرفان شہزاد

ڈاکٹر محی الدین غازی انڈیا سے تعلق رکھنے والے، دینی علوم کے ماہر اور متوازن فکر کی حامل شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر صاحب وحدتِ امت کے ایک متحرک داعی ہیں۔

غازی صاحب کی کتاب، “نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل”، ایک نہایت ہی اہم موضوع پر ایک چشم کُشا کتاب ہے، جس سے دین کے اندر علم کا ایک پورا پیرا ڈائم بدل جاتا ہے۔ پیش لفظ میں غازی صاحب لکھتے ہیں:

“راقم کے علم کی حد تک اس موضوع پر ایک مکمل کتاب کی صورت میں یہ ایک منفرد کوشش ہے۔”

غازی صاحب نے ایک نہایت اہم علمی حقیقت کی طرف رہنمائی کی ہے جو بوجوہ امت کے ذہن سے ذہول کر گئ، تاہم اس کا ادراک کسی نہ کسی درجے میں معدودے چند بڑے علمائے محققین کے ہاں مل جاتا ہے۔ انھوں نے اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دین اس امت کو تواترِ عملی کی صورت میں منتقل ہوا ہے، جس میں اہم ترین عمل نماز ہے۔  جو عمل تواتر سے امت کو منتقل ہو ا ہو، اس میں کسی قسم کے شک و شبہ اور اختلاف کی گنجایش نہیں ہو سکتی۔

اس کی وضاحت میں غازی صاحب لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوری امت نے نماز کا طریقہ سیکھ کر آگے پوری امت کو منتقل کیا، یہ سلسلہ بغیر کسی انقطاع کے مسلسل ہم تک چلا آتا ہے، اس لیے نماز میں کسی اختلاف کا کوئی سوال اٹھنا ہی نہیں چاہیے۔ نماز ایسا عمل تھا جو روزانہ دن میں پانچ بار ادا کیا جاتا تھا، اور آپ ﷺ نے اسے مسلسل کئی برس صحابہ کی معیت میں کھلے عام کر کے دکھایا تھا، یہ نہایت آسان عمل تھا اس کو یاد کر لینا اور دوسروں کو منتقل کرنا نہایت سہل ہے۔ آج کے گئے گزرے دور میں بھی ہر مسلم گھرانہ اہتمام کے ساتھ اپنے بچوں کو نماز سکھاتا ہے تو کیا کسی دور میں اس کے اہتمام میں کسی کوتاہی کا تصور  بھی کیا جا سکتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ سے ایک لاکھ سے زائد صحابہ نے نماز سیکھی، اور اسے اپنی اولاد اور انھوں نے اپنی اولاد کو سکھایا اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی نماز اپنی تمام کیفیات اور تنوع کے ساتھ پوری امت میں تواتر کے ساتھ رائج ہوئی ہے۔ نماز کے وہ تمام طریقے جو تواتر ِ عملی کی صورت میں امت میں رائج ہیں وہ در حقیقت رسول اللہ ﷺ کی نماز کی زندہ سنتیں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی طریقہ خلافِ سنت قرار دینا  تواتر ِ عملی سے تغافل اور سراسر غلط رویہ ہے۔

رہی یہ بات کہ نماز کے طریقوں میں اختلاف کیوں ہے، تو حقیقت اس کی یہ ہے کہ نماز کے کچھ اعمال رسول اللہ ﷺ ہمیشہ ایک طرح ادا فرماتے تھے، ان اعمال میں پوری امت کا ہمیشہ اجماع رہا ہے کہ وہ ایسے ہی ہیں اور ان میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں، جیسے ایک رکعت میں رکوع ایک اور سجدے دو ہیں، فجر کی نماز دو رکعات اور مغرب کی تین رکعات ہیں وغیرہ، لیکن نماز کے بعض اعمال میں آپ نے تنوع اور گنجایش رکھی تھی، آپ انھیں ہمیشہ ایک ہی انداز سے ادا نہیں کرتے تھے، مثلاً قیام میں ہاتھ باندھنے کی جگہ، تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین، جلسہ استراحت، قنوت کا وقت اور طریقہ وغیرہ۔ ان میں آپ نے امت کو کسی ایک چیز کا پابند نہیں کیا تھا۔ چنانچہ صحابہ تنوع کے اس دائرے میں اپنے اپنے ذوق کے مطابق کوئی ایک یا زائد طریقے اختیار کر لیتے تھے۔ صحابہ کے اپنائے ہوئے یہ مختلف طریقے مختلف علاقوں میں، جہاں جہاں وہ گئے، لوگوں میں پھیل گئے۔ یعنی یہ طریقے ان میں تواترِ عملی کے ذریعے سے رائج ہو گئے۔ پھر لوگ اپنے ہاں رائج نماز  کے طریقوں سے مانوس ہوگئے اور دوسرے  تنوعات کو اجنبی نظر سے دیکھنے لگے۔ پھر جب تدوین فقہ کا دور آیا تو فقھا نے اپنے اپنے علاقوں میں رائج طریقوں کو اپنی فقہی کتب میں مدون کر دیا۔ پھر یوں ہوا کہ تواترِ عملی سے حاصل ہونے والی نماز کو فقھا کے طرف منسوب کر دیا گیا، نماز حنفی، مالکی، شافعی کہلانے لگی، اور یہ تاثر قائم ہوتا چلا گیا کہ گویا نماز کا طریقہ ان کے ائمہ نے طے کر کے دیا تھا۔ حالانکہ لوگوں نے نماز فقھا سے نہیں سیکھی تھی، بلکہ فقھا نے اپنے دور کے لوگوں سے سیکھی تھی، انھوں نے تو بس ایک تواترِ عملی کو اپنی کتب میں درج کیا تھا۔ ان کے بعد کے لوگ پھر یہ اصرار بھی کرنے لگے کہ ان کی نماز کا طریقہ ہی افضل اور مطابقِ سنت ہے۔ کچھ حضرات  مزید مبالغے میں آگے بڑھے اور دوسروں کے طریقہ ہائے نماز  میں پائے جانے والے اختلاف کو باطل اور خلافِ سنت بھی قرار دینے لگے۔ یوں وحدت امت اور دینی ہم آہنگی کی ضامن نماز فرقہ واریت کی نظر ہوگئی۔

تواترِ عملی کی اس زبردست دلیل کے سامنے  نماز سے متعلق ہر اختلاف  بے وقعت ٹھیرتا ہے۔ مگر افسوس کے اس واضح اور ناقابل تردید دلیل کی طرف امت کے معدودے چند علما کے علاوہ کسی کا دھیان نہیں گیا، اور ان کی آواز بھی موثر نہ ہو سکی۔ شروع کے دور میں امام مالک تواتر عملی کو بہت نمایاں کیا۔ انھوں نے عملِ مدینہ پر اپنے مسلک کی بنیاد رکھی، لیکن بعد کے مالکی فقھا بھی یہ نظر انداز کر گئے کہ نماز سے متعلق یہ تواترِ عمل پوری امت کو منتقل ہوا ہے نہ کہ صرف اہلِ مدینہ کو، اس لیے ایسے معاملات میں ان کی طرف سے دوسرے طریقہ ہائے نماز پر طعن بے اصل تھا۔

اذان اور اقامت کے کلمات میں تکرار  کے اختلاف کی نوعیت بھی یہی تھی کہ یہ اصل میں تنوع کے اختلاف تھے، کوئی بھی طریقہ اپنایا جا سکتا ہے۔ مگر یہ بھی ہر گروہ کے مسلک کی پہچان بن جانے کے بعد بلا وجہ محلّ اختلاف بن گئے۔

غازی صاحب نے نماز کے ہر ہر عمل پر فقھا کے اختلافات نقل کر کے ان کے ہاں کے معتدل اور معروف فقھا کے اقوال بھی نقل کیے ہیں جن کے ہاں تواترِ عملی کی اہمیت کسی نہ کسی درجے میں پائی جاتی تھی اور وہ اپنے مسلک کے عمومی رجحان کے برعکس تواترِ عملی کی بنیاد پر اختلاف کو گنجایش دینے کی بات کرتے ہیں۔ بہر حال غازی صاحب کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے تواترِ عملی کی دلیل کو بہت خوبی سے نمایاں کیا ہے۔

اس امت کی فقہی روایت کی تاریخ میں یہ ہوا کہ نماز کے اختلافات کو حل کرنے کے لیے تواترِ عملی کی ناقابل تردید دلیل کو پیشِ نظر رکھنے کی بجائے، ہر گروہ اپنی اپنی نمازوں کے مختلف طریقوں کے ثبوت میں رسول اللہ ﷺ سے منسوب روایات سے استشھاد کرنے لگا۔ ایک  گروہ نے یہ دعوی کیا کہ اس کے پاس اپنے طریقے کے ثبوت میں احادیث دوسرے سے زیادہ ہیں، تو دوسرے نے یہ دعوی کر دیا کہ اس کے پاس دوسرے گروہ کے طریقہ نماز کی منسوخی کی روایات موجود ہیں۔

محی الدین غازی صاحب نے یہ توجہ دلائی ہے کہ نماز کے سلسلے میں وارد ہونے والی روایات سے نماز نہیں سیکھی گئی، نماز تو امت نے ہر دور میں اپنے بڑوں کے عمل سے سیکھی ہے،  ان روایات اور آثار میں البتہ نماز کے ان طریقوں میں سے بعض یا اکثر اعمال کا تذکرہ بھی آ گیا ہے، لیکن نماز کا انحصار روایات پر نہیں، عملِ تواتر پر ہے۔

غازی صاحب نے اس اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا کہ نماز کے بارے میں روایات پر انحصار کرنا یوں بھی غلط ہے کہ نماز کے بعض متفقہ اعمال کے  بارے میں کوئی مستند روایت موجود نہیں، اس کے باوجود امت کو ان کا نماز کا حصہ ہونے پر کبھی کوئی شبہ نہیں ہوا۔ مثلاً خواتین کی نماز کا انداز مردوں کی نماز سے مختلف ہے، اس بارے میں روایات میں مردو عورت کی نماز کے اس اختلاف کی تفصیل موجود نہیں، لیکن امت ہمیشہ سے متفق رہی ہے خواتین کی نماز کا انداز مردوں کی نماز سے مختلف ہے۔ اسی طرح رکوع و سجدے کی تسبیحات، تشھد اور درود کا بلا آواز پڑھنا، اسی طرح جہری نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں بنا آواز قراءت کے اجماعی عمل کے پیچھے کوئی مضبوط اور قابل اطمینان روایات موجود نہیں ہیں، لیکن ساری امت کا ان عمال پر اتفاق ہے۔ یہ کہنا کہ کسی فقیہ کو کچھ روایات نہیں پہنچیں تھیں اس لیے انھوں نے مسائل میں اختلاف کیا تو یہ بات کبھی کبھار پیش آنے والے مسائل کے بارے میں تو کہی جا سکتی ہے لیکن نماز جیسے متواتر عمل کے بارے میں کہنا غلط ہے۔

ایک اور اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غازی صاحب نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پوری نماز امت کو سکھائی ہے، اس میں یہ نہیں بتایا کہ اس میں کیا فرض ہے، کیا واجب اور کیا سنت۔ یہ تعیین فقھا نے کی، جس میں اختلافات ہو گئے۔ یعنی، نماز کے وہ اعمال  بھی جو سب کے نزدیک نماز کا حصہ تھے ان کی حیثیت  کہ وہ فرض، واجب یا سنت ہیں، اس تعیین میں فقہی اختلاف ہو گیا، جیسے قیام میں امام کے پیچھے مقتدی کو فاتحہ پڑھنی چاہیے یا خاموش رہنا چاہیے۔ اس میں فقھا کی طرف سے حد درجہ تشدد برتا گیا۔ فاتحہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کی بنا پر ایک دوسرے کی نماز کو باطل تک قرار دے دیا گیا، حالانکہ اس کا حل یہ تھا کہ یہ کہا جاتا کہ اس بارے میں تواترِ عمل موجود ہی نہیں ،جس کی بنیاد پر حق و باطل کا فیصلہ ہوتا، اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ یہ بھی تنوع کا مسئلہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے امت کو کسی ایک طریقہ کا پابند نہیں کیا تھا، چنانچہ مقتدی اپنے مزاج و مذاق کے اعتبار سے کوئی بھی طریقہ اختیار کر سکتا ہے۔

اس بے جا تشدد نے امت کو تقسیم کر رکھا ہے۔ کرنے کا کام یہ ہے نماز کی کیفیت کی پر توجہ دی جائے جو بندے کو خدا سے اور فرد کو فرد سے جوڑنے کا ذریعہ ہے نہ کہ نماز کے فقہی اختلافات کو ہوا  دی جائے، جن کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔

آخر میں غازی صاحب نے  تجویز پیش کی ہے کہ فقہ کے نصاب کی تدوین نو کی ضرورت ہے۔ لکھتے ہیں:

“بلا شبہ، آج ضرورت ہے کہ فقہ کی ایسی کتابوں کی تیاری کی، جن میں تمام شرعی دلیلوں کا احترام ہو، متواتر عملی سنت کا بھی لحاظ ہو، احادیث اور آثار کا بھی خیال ہو، اور پھر ساتھ ہی ساتھ ائمہ کرام کے اجتہاد و استنباط کا بھی احترام ہو۔ مدارس میں جب اس طرح کی کتابیں پڑھائی جائیں گی تو مثبت سوچ رکھنے والا اور پوری امت اور ساری شریعت سے محبت کرنے والا ذہن تیار ہوگا۔”

راقم کے مطابق، صرف نماز ہی نہیں بلکہ پورے کا پورا دین، اپنی عملی صورت میں اس امت کو اجماع اور تواتر کے ذریعے سے منتقل ہوا ہے۔ چنانچہ اصلی اور بنیادی دین میں پوری امت میں حقیقتاً کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا اور اس کی اس حیثیت کے باوجود جو اعتراضات یا شبھات پیش کیے گئے ہیں وہ لائق اعتنا نہیں ہیں۔ قرآن مجید، دین کی علمی اساس ہے جو اجماع و تواتر کے قطعی ذریعہ سے امت کو منتقل ہوا ہے اور سنتِ متواترہ سارا عملی دین ہے جو اجماع اور تواترِ عملی سے امت کو منتقل ہوا ہے۔ فروعات میں اختلافات ہیں لیکن اصل دین میں کوئی بھی اختلاف نہیں۔ یہ دین روایات پر منحصر نہیں رہنے دیا گیا۔ روایات کی اپنی جگہ اہمیت ہے، لیکن ثبوت دین کا انحصار روایات پر نہیں ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہر مسلمان کو یہ کتا ب ایک بار ضرور پڑھ لینی چاہیے۔ غازی صاحب سے میں یہ گزارش بھی کروں گا کہ کتاب اگرچہ پہلے ہی کم ضخامت کی ہے، تاہم اس کے بنیادی استدلال کو بغیر فقہی تفصیلات کے الگ سے مرتب کر کے بھی شائع کریں تاکہ ایک مختصر تر جامع ورژن بانداز راست عام قاری کو میسر آ سکے۔

کتاب درج ذیل پتے سے حاصل کی جا سکتی ہے:

  1. ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز

F-155، فلیٹ نمبر: 204، ہدایت اپارٹمنٹ، شاہین باغ، جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی، 110025

فون: 0981051676

  1. منشورات پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز

E-61, ابو الفضل انکلیو، جامعہ نگر،اوکھلا، نئی دہلی، 110025

فون: 09810650228

  1. البلاغ پبلی کیشنز

N-1,  ، ابو الفضل انکلیو، جامعہ نگر،اوکھلا، نئی دہلی، 110025

فون: 09971477664

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*