جب ماں غضب ناک ہوتی ہے

Atif Aleem

جب ماں غضب ناک ہوتی ہے

از، محمد عاطف علیم

 اے طاقت اور تکبر سے بھرے انسانو، سنو، میں تم سے مخاطب ہوں، تمہاری ماں، تمہاری مدر نیچر … تم پوچھتے ہو کہ میں نے کس جرم میں تمہیں گھروں میں بند کر دیا؟ لو سنو اور عبرت پکڑو!

تمہیں یاد ہیں وہ دن جب تم Hominid Family کا ایک بے بِضاعت حصہ تھے اور افریقی جنگلوں میں ایک لاچار جانور کی زندگی بسر کیا کرتے تھے؟ اور جب تم اتنے بے بس تھے کہ دوسرے جانوروں کے لیے لقمۂِ تر سے زیادہ کچھ نہ تھے؟

یہ وہ دن تھے جب مجھے ایسے ساتھی کی ضرورت محسوس ہوئی جو زندگی کی نمُو میں میرا ہاتھ بٹاتا، میری قوتوں میں میرا شریک ہوتا، اور اس کرۂِ ارض پر رنگ بہار لانے میں میرا معاون ہوتا۔

تب میں نے اپنی تمام مخلوقات کے لیے نیچرل سلیکشن کا قانون نافذ کیا اور تمہاری پوشیدہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے تمہیں حیاتیاتی طور پر توانا کرنا شروع کر دیا۔

شروع میں تم سیکھنے میں بہت خام اور سست تھے اور تمہارے لیے جنگل سے الگ اپنی شناخت کو پہچاننا مشکل ہو رہا تھا۔ تب تم ایک بندر سے زیادہ نہ دِکھتے تھے، گو ذرا چنچل اور پارہ صفت تھے، لیکن میرے کسی کام کے نہ تھے۔ سو میں نے یہ کیا کہ تمہاری کمر کو سیدھا کیا اور تمہیں دو ٹانگوں پر چلنا سکھا دیا تا کِہ تمہارا دماغ خون کے دباؤ سے آزاد ہو کر  نشو و نما پا سکے اور تم اس قابل ہو سکو کہ خود کو اور اپنے ماحول کو پہچان سکو۔

جنگل کے دنوں میں تمہارے حریف کسی نہ کسی ہُنر میں تاک تھے۔ وہ اپنا دفاع بھی کر سکتے تھے اور اپنی بھوک مٹانے کے لیے دوسری مخلوقات کو شکار بھی کر سکتے تھے، مگر تم اتنے بودے اور کم زور تھے کہ تمہارے پاس لقمۂِ تر بننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

سو میں نے تمہیں جنگل کے ماحول سے نکال کر ایشیاء اور یورپ کی وسعتوں پر روانہ کر دیا۔ اور ہاں، اس سے پہلے میں نے تمہارے ہاتھوں کی ساخت کو بدل دیا اور انہیں تمہارا ہتھیار بنا دیا۔

اگر تم اپنے لا شعور کو کھنگالو تو  لگ بھگ بیس لاکھ سال پہلے کی یاد داشت تمہارے دماغ میں تازہ ہو سکتی ہے۔ ذرا سا دماغ پُر زور دو تو تمہیں یاد آ جائے گا کہ جب تم کُھلے میں آئے تو تمہارے تن پر کپڑا تھا نہ سر پر چھت تھی، مگر ایک دماغ تھا جو سوچنے کے قابل ہو رہا تھا اور دو ہاتھ تھے جو اشیاء کو اپنی گرفت میں لے سکتے تھے۔

تمہارے سامنے اپنی نوع کے بقاء کا سوال تھا اور تم مجبورِ محض تھے، مگر خوش نصیب تھے کہ تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔

اور پھر میں نے تمہیں سوچنا اور اپنے ہاتھوں کو استعمال کرنا سکھایا۔ تم نے مجھ سے ایک اور سبق بھی سیکھا: وہ بقائے باہمی کا سبق۔

تم نے جان لیا کہ اگر تمھیں میری سفاک وسعتوں میں جینا ہے تو مل جل کر رہنا ہو گا اور مل بانٹ کر کھانا ہو گا۔ یوں تم نے غاروں میں پناہ لی، خاندان بنائے اور پھر مجھ سے آگ جلانے کا ہُنر سیکھ کر اپنے شکار کو پکا کر کھانا شروع کر دیا۔

یہ تہذیب کے سفر پر تمہارا پہلا قدم تھا۔ اس سفر میں تمہیں پنڈلیوں کی طاقت، ہاتھوں کی لچک اور دماغ کے تحرُّک کا آسرا تھا سو تم نے میرے سکھائے ہر سبق کو غور سے سننا اور میری ہر نشانی کو غور سے دیکھنا شروع کر دیا۔

تم نے پتھروں کو  توڑ کر چھوٹے چھوٹے اوزار بنانا شروع کر دیے، پہلے ان گھڑ اور پھر گھڑے گھڑائے۔ تم نے انہی ہاتھوں اور اسی دماغ سے اپنے لیے آسانی کے سامان مہیا کرنا شروع کیے۔

انہی دنوں تم نے پہیہ بنایا اور اس پر سوار ہو کر تمدن کے سفر پر گام زن ہو گئے۔ تم جہاں زاد تھے، اس دھرتی کے بیٹے تھے اور میرے لاڈلے تھے، میں کیسے تمہیں تُند موسموں اور برفانی ہواؤں کے رحم و کرم پر رہنے دیتی سو میں نے تمہیں گھر بنانا اور اس میں جوڑا جوڑا رہنا سکھایا۔

میں نے تمہیں کپڑا بُننا اور موسموں کی سختی سے محفوظ رہنے کے لیے لباس سینا سکھایا اور میں نے یہ بھی سکھایا کہ تم کیسے اپنی آسانی اور راحت کے لیے میرے وسائل کو استعمال کر سکتے ہو۔ اور پھر میں  نے تمہیں نطق کی قوت بخشی اور الفاظ دیے کہ تم ایک دوسرے سے کلام کر سکو۔ اور میں نے تمہیں ہُنر دیا کہ جنگل کے جانوروں کو سدھاؤ اور میرے مقاصد کی نِگہ بانی کے لیے انہیں اپنا معاون بناؤ۔

اس کے بعد میں تمہیں دریاؤں کے کنارے لے چلی جہاں تم نے بستیاں بسائیں اور دریاؤں کے بہاؤ پر حکم رانی کرنا سیکھی۔

مجھے اعتراف ہے کہ تم ایک ہونہار شاگرد ثابت ہوئے کہ میں تمہیں سکھاتی گئی اور تم سیکھتے گئے۔ میں تمہیں رنگوں کا استعمال اور تصویر کشی تو پہلے ہی سکھا چکی تھی، بستیوں میں آباد ہونے کے بعد میں نے تمہیں بانس سے بانسری  اور لکڑی سے بَربط بنانا بھی سکھادیا تا کہ حسن اور آہنگ کی تخلیق میں تم میرے ساتھی بن سکو۔ پھر میں نے تمہیں اعداد سکھائے اور اشیاء کو گننا سکھایا اور قلم بنانا اور بولے جانے والے الفاظ کو لکھنا سکھایا۔

تم نے جو سیکھا مجھ سے ہی سیکھا، میرے ہی بخشے ہوئے وسائل کو کام میں لا کر اپنی طاقت میں اضافہ کیا لیکن افسوس طاقت جو میں نے تمہیں اس لیے بخشی کہ اسے کام میں لا کر کل مخلوقات کے لیے بھلائی کا سامان کر سکو، اس نے تمہارے دماغ میں تکبر بھرنا شروع کر دیا۔ تم خود کو اس کرّۂِ ارض کا مالک سمجھنے لگے جو معلوم کائنات میں میرا اور میرے بچوں کا واحد گھر تھا۔

میرے بچے وہ تمام مخلوقات ہیں جن پر تم اپنے طاقت اور اپنے علم سے غالب آ چکے تھے۔ تم جانتے تھے کہ اس صد رنگ دھرتی کا اگر کوئی مالک ہے تو میں ہوں کیوں کہ میں ماں ہوں اور میرا مقام سب سے مقدّم ہے۔ مگر تم طاقت کے زُعم میں میری نا فرمانی اور میری تحقیر پر تُل چکے تھے۔

اگر تم چراغ آفریدم وغیرہ کی حد تک رہتے تو خوب تھا مگر تم نے تو میرے خلاف با قاعدہ جنگ چھیڑ دی تھی۔ میں تمھیں بقائے باہمی کی شرط پر جنگلوں سے نکال کر لائی تھی، مگر تم نے دھرتی پر طاقت کے قانون کو نافذ کرنا شروع کر دیا۔ تم نے قرار دیا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔

سو ہر بشر اس لاٹھی کے حصول کے لیے بولایا پھرنے لگا۔ یوں سارے میں افرا تفری سی مچ گئی، بستیوں پر دھاوے، مار دھاڑ اور جدال و قتال کا رواج عام ہونے لگا۔ تمہارے تکبر نے تمھیں چالاکی سے کام لینا سکھا دیا تھا سو تم نے کم زوروں پر اپنے تسلط  کے لیے فلسفے گھڑنا شروع کر دیے، قانون کی کتابیں لکھنا شروع کر دیں اور مذاہب کو اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا تا کہ تم اپنے تصرف کو جائز ثابت کر سکو۔

اس پر مُستزاد یہ کہ تم نے کم زوروں کو تقدیر اور توَکّل کا جھانسا دے کر چپ چاپ ظلم سہنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا۔

میں یہ سب دیکھتی رہی اور  اپنے طریقے سے تمہیں بار بار انتباہ کرتی رہی لیکن تمہارے دماغ پر تکبر کی چربی چڑھ چکی تھی سو تم نے اپنے کان بند کر لیے اور  آنکھیں مُوند لیں۔ تمہاری طاقت کی ہَوَس بڑھتی رہی اور اس کے ساتھ ساتھ تمہاری چِیرہ دستیاں بھی بڑھتی رہیں۔

تم میں سے جو طاقت ور تھے ان کے ظلم سے کسی کو مفر نہ تھا، نہ کسی چرند پرند کو اور نہ کسی کم زور اور نہتے انسان کو۔

تم اپنی طاقت بڑھانے اور دہشت پھیلانے کے لیے پُر امن بستیوں پر دھاوے بولنے شروع ہوئے، یہاں تک کہ تم نے کھوپڑیوں کے مینار بنانا شروع کر دیے۔ اپنی وحشت میں تم یہاں تک چلے گئے کہ بہت سی ایسی تہذیبوں کا نشان تک مٹا ڈالا جہاں پُر امن لوگ آباد تھے اور میرے بقائے باہمی کے سبق پر عمل پیرا تھے۔

جیسے خیر اور حسن لا محدود ہے ویسے ہی شر اور ہَوَس بھی کسی حد کی پا بند نہیں سو تم نے قومی ریاستوں کے نام پر زمین پر لکیریں کھینچیں اور ذاتی ملکیت کے نام پر مال سمیٹنے کا ایسا سلسلہ شرو ع کر دیا جس کی کوئی انت نہ تھی۔

میری کتابوں میں ترقی نام ہے مل جل کر آگے بڑھنے کا مگر تم نے تباہی کو ترقی قرار دے دیا اور ایک ایسی راہ پر چل نکلے جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔

تم نے دوسروں پر اپنی طاقت نافذ کرنے کے لیے جنگوں کو رواج دیا اور ان جنگوں کو جیتنے کے لیے تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنائے اور پھر انہیں زیادہ سے زیادہ تباہ کن بناتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ تم نے ذرے کے جگر کو چیر کر توانائی کو اپنے قابو میں لانا سیکھ لیا۔

اگر تم چاہتے تو اس لا انتہا توانائی کو بھلائی اور خیر کے لیے بھی استعمال کر سکتے تھے، لیکن صدیوں کی بربریت نے تمہارے genes میں بگاڑ پیدا کر دیا تھا سو تم نے اس سے ایٹمی ہتھیار بنائے اور پھر بناتے چلے گئے۔

یاد کرو اس دور کو جسے تم اَزمَنۂِ تاریک کہتے ہو اور یاد کرو ان مظالم کو جو کلیساء نے خدا کی حاکمیت کے نام پر روا رکھے۔ یاد کرو ان مذہبی عدالتوں کو جو اپنے شکنجے میں آنے والوں کو بھیانک موت بانٹا کرتی تھی؛ اور پھر یاد کرو بیسویں صدی کے وہ سال جب تم نے طاقت کے نشے میں اندھے ہو کر یکے بعد دیگرے دو غلیظ جنگیں لڑیں اور شہروں کے شہر ویران کر دیے۔ یاد کرو ان کنسنٹریشن کیمپوں کو جو تم نے آباد کیے اور یاد کرو ان بھیانک مظالم کو جو تم نے برسوں تک شہروں شہروں اور ملکوں ملکوں روا رکھے۔

اگر یاد کرنے پر آئے ہو تو اگست 1945 کے وہ دن بھی یاد کرو جب تم نے دو ہنستے بستے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی تباہی مسلط کر دی تھی جس نے لاکھوں کو موت میں دھکیل دیا اور اور لاکھوں مزید لوگوں کو کئی نسلوں تک عبرت کی تصویر بنائے رکھا تھا۔

اور پھر یاد کرو فلسطین کو اور صابرہ اور شتیلہ کی بھیانک یادوں کو۔ یاد کرو ان ہزاروں عراقی بچوں کو جن پر تم نے نو فلائی زُون مسلط کیا اور انہیں خوراک اور علاج سے محروم کر دیا۔ یاد کرو بے مثال تہذیب کی وارث ارضِ شام کو جس کی تم نے مل جل کر اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

یاد کرو لاطینی امریکہ کو، روانڈا کو سوڈان کو، اریٹیریا کو، ایتھوپیا اور صومالیہ کو جہاں تم نے جنگ اور بھوک نافذ کی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو جنگ کا ایندھن بنا دیا۔ اور پھر یاد کرو کشمیر کو، اس جنتِ ارضی کو جہاں تم نے جہنم کا دہانہ کھول دیا، چناروں میں آگ بھر دی اور گُلِ نَسترَن کھلانے والی دھرتی میں قبرستانوں کو آباد کر دیا۔

تم پوچھتے ہو کہ میں نے کس جرم میں تمہیں گھروں میں بند کر دیا؟ اگر میں ایک ایک کر کے تمہارے جرائم گنوانا شروع کروں تو دفتر کے دفتر بھر جائیں گے مگر تمہارے جرائم کی فہرست مکمل نہ ہو گی۔ تم وہ ہو جنہوں نے فری ٹریڈ اور مارکیٹ اکانومی کے نام پر لالچ اور ظلم کے تحفظ کا نظام قائم کیا۔

تم وہ ہو جنھوں نے سٹاک ایکسچینج بنائے کہ سرمائے کا ارتکاز چند ہاتھوں میں رہے، بنکوں کی دمکتی ہوئی عمارتیں بنائیں کہ  ان میں تمہاری لوٹی ہوئی دولت محفوظ رہے اور پھر اس دولت کو محفوظ تر بنانے کے لیے عدالتیں بنائیں جن کا کام انصاف کے نام پر لالچ اور ظلم کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اور تم وہ ہو جنھوں نے انسانوں کو طبقات اور ذاتوں میں بدل کر اور دین اور دھرم کی بیڑیوں میں جکڑ کر انسان سے نیم انسان بنا دیا۔

یاد رکھو، کوئی ماں اپنے بچوں کی تباہی نہیں چاہتی سو میں نے بھی تمہیں ڈھیل دیے رکھی کہ پلٹ آؤ اور سُدھر جاؤ لیکن  تم اتنے کوڑھ مَغز کہ تم نے کروڑوں انسانوں میں محرومی، بھوک اور موت بانٹتے ہوئے یہ نہ سوچا کہ ہر ڈھیل کی ایک حد ہوتی ہے اور ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے۔ میں نے اس دھرتی کو امن، آہنگ اور توازن کے اصول پر استوار کیا تھا۔

میں نے خیر کو شر پر اور حسن کو بد صورتی پر فوقیت بخشی تھی، لیکن تم نے سب کچھ برباد کر دیا۔ تم نے اس دھرتی کو دھوئیں، شور اور آلودگی سے بھر دیا۔ تم نے ہریالی سر زمینوں پر کنکریٹ بچھا دیا اور اپنے شہروں کو بد نُما اور بھدی عمارتوں سے بھر دیا۔

تمہارا یہ جرم بھی ہے کہ تم نے اپنے شہروں سے درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں کو نوچ پھینکا، اپنے پانیوں اور فضاؤں میں زہر گھول دیا اور اپنے آسمان کو پرندوں اور اپنے آنگنوں کو چڑیوں کی چہکار سے محروم کر دیا۔

اور یہ تم ہی تھے جنہوں نے اپنی سفاکی کو جنگلات تک دراز کر دیا اور جنگلی حیات سے ان کی قدرتی پناہ گاہیں چھین لیں۔ تم خود تو تباہ ہوئے سو ہوئے، لیکن اپنے ساتھ ساتھ آبی اور جنگلی حیات کو بھی لے ڈوبے۔

تم یہاں تک بڑھ گئے کہ تم نے آسمان میں سوراخ کر دیا اور میرے بنائے ہوئے اِیکو سسٹموں اور لائف سائیکل کو تباہ کر کے ارضی ماحول کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچا دیا۔

میرے بچو، اب تمہیں سبق سکھانے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ سو میں نے تم پر وائرس چھوڑ دِیے۔ کبھی ایک طرح کا وائرس تو کبھی دوسری طرح کا وائرس۔ ان وائرسوں کا مطلب ہے ایک ایسی موت جو تمہارے جسم میں داخل ہو کر تمہارے خلیات کو تباہ کردے اور تمہیں بے بسی کی موت مرنے پر مجبور کر دے۔

تم ان وائرسوں کا علاج ڈھونڈتے رہے اور میں نئے سے نئے وائرس تخلیق کرتی گئی۔

کرونا وائرس میرا اب تک کا سب سے مفید ہتھیار ثابت ہوا ہے جس نے تمہیں خوف زدہ ہو کر اپنے گھروں میں بند ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ اپنے سیٹلائٹس، اپنے ڈرونز اور اپنے جدید کیمروں سے پوچھو کہ جس روز سے تمہارے آباد کیے ہوئے شہر تمہارے وجود سے خالی ہوئے ہیں دوسری مخلوقات کی کیسے بن آئی ہے۔

اب ساحلوں، میدانوں اور فضاؤں میں قدرتی حیات مزے سے گھومتی پھرتی ہے کیوں کہ اسے تمہارے ہاتھوں غارت ہونے کا خوف باقی نہیں رہا۔

کہاں گئی وہ تمہاری military might، تمہارے ایٹمی ہتھیار، تمہاری آب دوزیں اور تمہارے بمبار طیارے؟ کہاں گئی تمہاری دنیا کو کئی بار تباہ کرنے کی صلاحیت؟ کہاں گئے تمہارے سٹاک ایکسچینج جو تمہاری دولت کے اتار چڑھاؤ کا پیمانہ تھے؟ کہاں گیا تمہارا مقدس کارپوریٹ سیکٹر جو غلامی کی جدید شکلوں کو رواج دینے اور ان  کی محنت پر ڈاکہ ڈالنے کا پیچیدہ ہتھیار تھا؟

کہاں گئے تمہارے مَعبد جن کی چوکھٹ پر انسانوں کے معصوم جذبات کی بَلّی چڑھائی جاتی تھی؟ کہاں گئے تمہارے عقائد جن کو ساری دنیا پر نافذ کرنے کے لیے تم انسانوں کا قتلِ عام کرتے تھے؟ کہاں گئی تمہاری میڈیکل سائنس جس کی بنیاد پر تم موت پر غلبہ پانے کا دعویٰ کرتے تھے؟ کہاں گئی وہ تمہاری ثقافت، تمہاری تہذیب اور تمہارا تمدن؟ کہاں گئی وہ تمہاری اقتدار کی دوڑ اور کہاں گئیں تمہاری قومی ریاستیں جو طاقت کو تحفظ دینے اور کم زور کو کچلنے کی بنیاد پر قائم تھیں؟

سنو، اے حماقت اور تکبر سے بھرے لوگو، میرے ایک ایک لفظ کو غور سے سنو۔ تم نے مجھے اپنی مہربان ماں کو تباہ کر دینا چاہا تھا، لیکن میں کوئی وجود نہیں ہوں جسے تباہ کیا جا سکے۔ میں ایک قوت ہوں اور مجھے ہر چیز پر قدرت حاصل ہے۔

میں اب تک زلزلے، سیلاب، خشک سالی اور بیماریوں کی زبان میں تم سے مخاطب رہی لیکن تم نہ اپنا چلن نہ بدلا۔ اب حجت تمام ہو چکی ہے۔ اب اس سَر زمین پر تمہارا نہیں میرا حکم چلے گا۔ میں نے اپنے فطری انتخاب کے قانون کی طرف رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے کیوں کہ اب مجھے اس سَر زمین پر زندگی کو نئے سرے سے استوار کرنا ہے۔ اس دھرتی اور اس پر آباد ہر ذی روح کو تمہارے شر سے بچانے کے لیے نئے قوانین اور نئے ضابطے وضع کرنے ہیں۔

اب میں نے تمہیں یہ یاد دلانا ہے کہ تم اس دھرتی کے واحد مالک نہیں ہو، لاکھوں اَنواع اور بھی ہیں۔ یاد کرو ان انواع کو جو اس لیے معدوم ہو گئیں کہ وہ میرے فطری انتخاب کے قانون پر پورا نہیں اترتی تھیں۔

تم میں سے بھی وہی باقی رہے گا جو اس قانون کا احترام کرے گا اور اپنے اندر عِجز اور تسلیم کی خُو کو پیدا کرے گا۔

خیر،یہ تو تم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ کیسے میں نے آن ہی آن میں تمہارے دس ہزار سال کے سفر کو بے معنی ثابت کر دیا ہے اور تمہاری طاقت کو خود تمہیں پر الٹا دیا ہے۔

اب تمہیں اس وقت تک اپنے گھروں میں  چھپے رہنا ہو گا اور ایک دوسرے سے ڈرے ڈرے رہنا ہو گا جب تک میں چاہوں گی۔ میں تمہاری جان بخشی کر دوں گی لیکن ابھی نہیں، ابھی مجھے اس دھرتی کو دھوئیں، آلودگی اور موت کے خوف سے پاک کرنا ہے جس کے واحد ذمے دار تم ہو۔

ابھی مجھے اس جہان رنگ و بُو کے خد و خال سنوارنا ہیں جسے تم نے بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس کے بعد تم بدلے ہوئے رویوں کے ساتھ  زندگی کے عمل میں واپس آ سکتے ہو۔

اور ہاں،بات کو صرف ایک کرونا پر موقُوف مت سمجھنا، میری زنبیل میں ابھی اور بہت کچھ ہے جو نہ سمجھنے والوں کو سمجھانے اور اطاعت پر مجبور کرنے کے لیے بہت ہے۔

About محمد عاطف علیم 21 Articles
محمد عاطف علیم شاعر، افسانہ اور ناول نگار ہیں۔ مشک پوری کی ملکہ اور گرد باد ان کے اب تک آنے والے ناول ہیں، جنہیں قارئین اور نقادوں میں بہت پذیرائی ملی ہے۔