چور سپاہی، اداروں اور پیاروں کی باتیں

Naeem Masood aik Rozan
پروفیسر نعیم مسعود، صاحبِ مضمون

چور سپاہی، اداروں اور پیاروں کی باتیں

نعیم مسعود

اگرچہ حالات و واقعات زبوں حالی کی داستان پیش کرتے ہیں مگر سیاستدانوں، بیورو کریٹس، پولیس آفیسرز اور میڈیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بلا شبہ اس بات کی تصویر، تشہیر اور تحریر ہیں کہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔ میں نے اپنی زندگی میں کئی اساتذہ اور پروفیسر تک ایسے دیکھے ہیں جو درس و تدریس اور تحقیق کے نام پر دھبہ ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور میں کم و بیش ایک درجن ایسے حاضر سروس ایس پی، ایس ایس پی اور ڈی آئی جی حضرات گنوا سکتا ہوں جو اپنی جیب خاص سے مظلوموں اور بے کسوں کی مدد کرتے ہیں اور کانوں کان خبر نہیں ہونے دیتے پھر وہ ہمارے آگے اس بات کے لیے ہاتھ جوڑتے ہیں کہ کہیں ہماری تعریف و توصیف کر کے ہماری نیکیوں کو ضائع نہ کر دینا۔

سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ کسی کا نذرانہ، تحفہ یا ہدیہ قبول کر لیں اور یہ سب پولیس کے ماتھے کا جھومر اور قوم کے گلے کا ہار ہیں۔ پھر ایسے افسروں کو زمانہ یاد بھی کرتا ہے۔ پچھلے دنوں میں ملتان گیا تو وہاں ایک ڈاکٹر دوست اس آفیسر کی تعریفیں کرنے لگا جو بعد ازاں اسلام آباد پولیس کا آئی جی بھی رہا۔ اب وہ وہاں سے بھی ٹرانسفر ہو چکے۔ میں نے جب تصدیق کے لیے اس آفیسر سے رابطہ کیا تو کمال ہیرا پایا۔ کسی کا ہیرا ہونا ہیرو ہونے سے بھی بڑی بات ہے کیونکہ ہیرو تو سکرپٹ کے سبب ہوتا ہے اور ہیرا ضمیر، سوچ اور کیفیت بناتی ہے۔ ایسی مثالیں دیکھ کر میں مایوس کیسے ہو جاﺅں؟ کیوں نہ حسن ظن اپنے عہد شباب پر رہے؟ کیوں نہ 62 اور 63 دفعات کی اہمیت کا احساس رہے؟

آئی ایم سوری! میں اداروں سے مایوس نہیں ہو سکتا۔ میری دو کرنلوں اور بریگیڈیئر (ر) سے بہت دوستی رہی۔ کرنل اب بھی موجود ہیں تاہم بریگیڈیئر صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے۔ میں نے ان سب کو کھرا پایا۔ دونوں کرنلوں کی میں آج بھی قسم دے سکتا ہوں۔ میں تو انہیں 62 اور 63 پر آج بھی پورا سمجھتا ہوں۔ میرا سیاسی نقطہ¿ نظر ہمیشہ ان سے مختلف رہا۔ لیکن سوشیالوجی اور ایکالوجی میں ان میں کبھی دو نمبری نہیں دیکھی۔ پچھلے دنوں کراچی میں ایک حاضر سروس جرنیل سے ایک گھنٹہ اسکے آفس میں ملاقات ہوئی۔ ان دنوں وہ ڈی جی رینجرز تھے۔ میں نے اس ملاقات کا وقت ٹی وی اور نوائے وقت میں تذکرہ بھی کیا تھا۔ آج وہ اس سے بھی زیادہ ذمہ دارانہ سیٹ پر ہیں اور ملک و ملت کا اثاثہ ہیں۔ ایسے سبھی لوگوں کے لیے ہم دعا گو ہیں۔

ارے پیارے کالم نگارو اور تجزیہ کارو! پلیز ایسے لوگ دریافت کر کے ان کے تذکرے کیا کریں کیونکہ میں جب مختلف یونیورسٹیوں کے نوجوان محققین اور طلباءو طالبات کو دیکھتا ہوں تو عمومی تصویر سے بہت دلبرداشتہ اور مایوس ہو جاتا ہوں۔ نوجوان پود اور یونیورسٹیوں و کالجوں میں زیور تعلیم سے آراستہ ہونے والوں کو عمومی کے ساتھ ساتھ خصوصی تصویر کشی اور قلم کاری بھی دکھایا کریں تا کہ امید کا دامن تھما رہے۔ امید آنکھوں کو روشن، دلوں کو مضبوط، دماغوں کو زرخیز اور جذبوں کو توانا رکھتی ہے۔ اکثر ملاقاتوں، کانفرنسوں اور سیمینارز میں پھر ہر ساتویں، آٹھویں کالم میں طلبہ سے عرض کرتا ہوں کہ آئین کی 7 تا 28 دفعات، 62 اور 63 علاوہ بریں 175، 187 اور 190 کا مطالعہ ضرور کریں۔ زندگی میں سوشل انجینئر ہونا ہر ماہر اور افسر بلکہ ہر فرد کے لیے بہت ضروری ہے!

ممکن ہے اس وقت اداروں میں تصادم ہو۔ ممکن ہے جمہوریت کو بھی خطرہ ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے بین الاقوامی سازشیں بھی وطن عزیز کے خلاف ہوں۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ہفتہ قبل کی تقریر بلا شبہ ہمارے خلاف تھی، پاکستان کی سالمیت اور خارجی و داخلی امور کی ٹرمپ نے دھجیاں اڑائیں لیکن ہم سے پہلے چین نے اس کا جواب دیا۔ گرد و نواح کی طرح بین الاقوامی سطح پر بھی دوستیاں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں۔ اس گلوبل وِلج میں اگر بھارت جیسے دشمن ہیں تو چین اور سعودیہ جیسے دوست بھی تو ہیں۔ حتیٰ کہ ایران نے امریکی جارحیت کی پر زور مذمت کی۔

ہاں مگر جمہوریت کے مخالفین یہاں بستے ہیں تو اس سکول آف تھاٹ کے خلاف بھی تو اکثریت خم ٹھونک کر کھڑی ہے۔ اگر میاں نواز شریف سے شیخ رشید بچھڑے تو بلاول بھٹو زرداری بھی تو جنم لیتے اور آگے بڑھتے ہیں۔ اگر کوئی فیصل آباد سے راجہ ریاض جیسے لوگ مفادات کے بعد پارٹی کو داغ مفارقت دیتے ہیں تو اسی ڈویژن سے سید حسن مرتضیٰ جیسے لوگ دریافت ہو جاتے ہیں۔ بلاول کا چنیوٹ کا جلسہ گواہ ہے۔ جی بابر اعوان جاتے ہیں تو پی پی کو بیرسٹر عامر حسن جیسی نوجوان قیادت مل جاتی ہے۔

اگر کوئی عائشہ گلا لئی اپنی قیادت پر الزامات لگاتی ہے تو شیریں مزاری اور ڈاکٹر یاسمین راشد بھی ہیں نا جو عمران خان کے کردار کو قابل تحسین گردانتی ہیں۔ سب چلتا ہے! اور مایوسی گناہ ہے! سیاست، ریاست اور چاہت میں بھی بہر حال اعتدال ضروری ہے ایک اور سیاسی بات کے بعد پھر جنرل بات اور اداروں کی طرف آتے ہیں۔ مانا کہ ہر پارٹی کرپشن اور کردار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے الیکٹ ایبل اور سلیکٹ ایبل کی طرف آتی ہے لیکن پچھلے دنوں آصفہ بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری نے بہر حال زرداری صاحب کی خواہش اور تمنا کے باوجود عرفان اللہ مروت کی پی پی پی میں آمد کے آگے بند باندھ دکھایا۔ ویل ڈن! چلیں کہیں سے ننھی سی کوشش تو آئی!
تو جناب یہ شور و غل کہ اداروں کو یہ ہو گیا اداروں کو وہ ہو گیا‘ ارے بھئی! کچھ نہیں ہوا۔ اگر ہوا ہے تو چند اعلیٰ ظرف اور زیرک لوگ اپنا کردار ادا کریں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم کیوں توقیر شاہ ورائٹی سے نہیں سیکھتے اور فواد حسن فواد جیسی اور ورائٹی پیدا کر لیتے ہیں۔ ادارے مضبوط کریں، من پسند ورائٹیاں نہیں۔ کیوں کسی سیاست کے ٹپی کو بیورو کریسی کا بوسال اور کسی بیورو کریسی کے بوسال کو سیاست کا ٹپی بنا دیتے ہیں۔ یہ بھی تو ہوتا ہے نا ادارے بھی کیا کریں۔ بڑے عرصہ بعد پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ایک تعلیم دوست سیکرٹری ملا مگر وہ حاکموں کو بطور کمشنر لاہور پسند آ گیا۔ پھر طویل عرصہ بعد ایک اور تعلیم دوست سیکرٹری میسر آیا جس نے محنت کی لیکن اسے ٹرانسپورٹ سیکرٹری بنا دیا گیا۔ واہ! ”خاموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زبان میری!“

اگر سبھی اپنے اپنے حصے کی شمع فروزاں کرتے رہیں تو تاریکی کبھی غالب نہیں آئیگی۔ پارلیمنٹرین کو اپنا کردار پارلیمنٹ میں، استاد کو دانش گاہ میں، بیورو کریٹس کو اٹنے محکمے اور آفس میں ادا کرنا ہے۔ ہاکی کے آسٹرو ٹرف پر کرکٹ اور کرکٹ کی پچ پر ہاکی نہیں کھیلی جا سکتی اور نہ سچ جھوٹ کی ملاوٹ سے ترقی کا شاہراہ پر گامزن ہوا جا سکتا ہے۔ اپنے حصے کا کام کرنا ہو گا وہ بھی آج میں رہ کر صرف ماضی کے سہارے پر نہیں زندہ رہا جا سکتا اور نہ لوگوں اور مخالفین میں سے کیڑے نکال کر اپنی کارکردگی کو بہتر ثابت کیا جا سکتا ہے۔

افسوس تو یہ ہے کہ چور سپاہی کی لڑائی میں لوگ 62 اور 63 پر تنقید کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہم نے پچھلے کالم میں بھی عرض کیا تھا 62 اور 63 پیغمبرانہ وصف کی متلاشی ہیں نہ کسی کے آگے بند باندھتی ہیں کہ پارلیمنٹ میں نہ جا سکے یہ تو محض پروفیشنل دیانتداری آپس میں دیانتدارانہ تعلقات اور معاشرتی بناﺅ کا تقاضا کرتی ہیں۔ لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کہ ان دفعات پر پورا کون اترتا ہے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کون پورا نہیں اتر سکتا؟ میں آج بھی کہتا ہوں میرے 90 فی صد سے زائد دوست 62 اور 63 پر پورا اترتے ہیں۔ صداقت اور امانت کا خیال تو غیر مسلموں میں بھی ہے حتیٰ کہ جو اللہ پر یقین نہیں رکھتے ان میں بھی۔ یہ تو سوسائٹی کا اعتماد اور توازن ہے!

بحث برائے تعمیر کو فروغ دینا ہوگا اور یہ بھی لازم ہے کہ مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا ”کمرشل ازم“ پر نظر ثانی کرے تاکہ گلشن کا کاروبار چلے۔ عالم یہ ہے کہ حکومت کے اپنے پیش اور مرتب کردہ ریکارڈ کے مطابق 2014ءکے حج معاملات میں ڈیڑھ ارب سے زائد کی کرپشن ہے جبکہ ماضی میں حامد رضا کاظمی (سابق وزیر) اور چند افسروں کو ہم سلاخوں کے پیچھے ڈال چکے ہیں پھر جرم ثابت نہ ہونے پر بری بھی ہو گئے وہ تو صرف لگ بھگ 35 یا 40 کروڑ کی کرپشن کا معاملہ تھا۔ اب جو ڈیڑھ ارب سے زیادہ کا معاملہ ہے اس کا کیا کرنا ہے؟ یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں حال ہی میں جمع ہوئی ہے۔ پی آئی اے نے 13 لاکھ سعودی ریال جمع کرائے سعودیہ سے کچھ عمارتیں لینے کے لیے۔ مگر عملداری میں رخنہ ہونے کے سبب 13 لاکھ ریال بھی گئے۔ الٹا ان کے خلاف کیس ہوا اور پی آئی اے کو جرمانہ بھی ہو گیا۔ کون ذمہ دار ہے؟

پرانی بات نہیں کل کی بات ہے کہ اس حکومت نے پھر 145 ارب ڈالر قرضہ لیا تو دوسری جانب واشنگٹن ایمبیسی کی تزئین و آرائش پر 71 کروڑ لگا دیے ہیں۔ پارلیمنٹ میں پیش کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق 31 لاکھ ملین کی بے ضابطگیاں ابہام، فراڈ اور کرپشن وغیرہ ہیں۔ کیا کیا جائے؟ ابھی تو 62 اور 63 ہے۔ گر نہ ہو تو کیا ہو؟

بشکریہ : نوائے وقت

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*