فرشتے

فرشتے
Illustration DNA India

فرشتے

کہانی از، جواد حسنین بشر

حالات نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا، پریشانیاں، الجھنیں اور اندیشے جیسے اس کی رگ رگ میں سرایت کر چکے تھے۔ خالی ہاتھوں سے خالی پیٹ کیسے بھرے جا سکتے ہیں۔ نوکری جا چکی تھی۔ وہ دارالحکومت کے پہلو میں ہی کہیں رہتا تھا۔

نوکری چلی گئی۔ کیوں چلی گئی؟ کیا بتانا پڑے گا؟ نوکری نہیں مل رہی، کیوں نہیں مل رہی؟ کیا اب بھی بتانا پڑے گا؟

وہ اپنے جیسے بے شمار کرداروں میں سے ایک کردار تھا اور اس کی کہانی ماضی و حال کی لاکھوں کروڑوں کہانیوں میں سے ایک۔۔۔ ہاں ناں! ایک پرانا موضوع، کیا مسائل کو موضوع بنا لینے سے مسائل ختم ہو جاتے ہیں؟

لکھت کی تاریخ میں اس کی کہانی کی کئی جِہات وہی پرانی گِھسی پِٹی تھیں لیکن حقیقت کے کیمیکل میں اس کی حالتِ زار مرہم نا آشنا کسی تر و تازہ زخم کی طرح باقی تھی۔

ایسے میں وہ دو آدمی فرشتوں سے کم نہیں تھے جو اسے نوکری لے کر دینے والے تھے۔ وہ ان سے کہاں ملا تھا؟ جہاں بھی ملا تھا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

وہ دونوں کون تھے؟ جو بھی تھے، یہیں کے تھے۔ شاید وہ بھی بے شمار کرداروں میں سے دو کردار تھے، وہ ان سے ملنے جا رہا تھا۔

۔۔۔

حالات نے انہیں خوب سہارا دیا تھا۔ وہ پھلنے پھولنے لگے تھے۔ وہ جیسے ایک تالاب کے کنارے بیٹھی کچھا کھچ بھیڑ کا حصہ تھے؛ ہاتھ بڑھایا اوربھوکی مچھلی پکڑ لی۔ شکار ہی شکار اور وہ بھی اتنا آسان۔ دونوں ہاتھوں سے بھی سمیٹو تو بھی پیٹ کیسے بھر سکتا ہے، سو وہ بھی سمیٹ رہے تھے؛کبھی ایسے کبھی ویسے، وہ بھی دارالحکومت کے پہلو میں ہی کہیں رہتے تھے۔ اشتہاروں کی شکل میں ان کی ڈالی گئی کُنڈیاں بھی دیواروں پر جگہ جگہ آویزاں تھیں۔

دو دن پہلے ہی ایک کنڈی ہِلی تھی، ایک بھوکی مچھلی ان کی بھوک مٹانے کے لیے آمادہ تھی جو اُن کے لیے بھی کسی فرشتے سے کم نہیں تھی۔

مزید ملاحظہ کیجیے: نائن الیون، سائبر ورلڈ اور ہماری کہانیاں از، مشرف عالم ذوقی

۔۔۔

وہ پانی میں تیزی سے تیرتی کسی مچھلی کی سی رفتار سے ان دو آدمیوں سے ملنے جا رہا تھا، جو اسے نوکری لے کر دینے والے تھے۔ وہ چشمِ تصور میں اپنے تمام مسائل کو حل ہوتا دیکھ رہا تھا۔ آسرا ہاتھ آنے والا تھا، روزی لگ جانی تھی اور پھر چل سو چل۔ وہ ان کے پاس پہنچ گیا، وہ دو آدمی جو اس کے لیے فرشتوں سے کم نہیں تھے۔

۔۔۔

کسی عمارت کی کسی منزل میں کسی کمرے میں وہ تینوں بیٹھے تھے۔ حالات نے انہیں ملوایا تھا، وہ تینوں ہی ایک دوسرے کے لیے کسی فرشتے سے کم نہیں تھے۔ تینوں ہی دارالحکومت کے پہلو میں ہی کہیں رہتے تھے۔ چائے کا تیسرا دور چل رہا تھا اور خوب چل رہا تھا۔

پہلے اور دوسرے دور میں تینوں فرشتوں نے چائے پی۔ لیکن تیسرے دور میں صرف دو چائے پی رہے تھے، جبکہ تیسرا بے ہوش پڑا ان دونوں کی نظروں میں خوب جچ رہا تھا۔

۔۔۔

اُس کا جسم سُن تھا لیکن اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، وہ دیکھ رہا تھا کہ دو فرشتے کسی ایک تیسرے فرشتے کے ساتھ مل کر بڑی چابک دستی سے اس کا گردہ نکال رہے ہیں؛ اور پھر وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا، جیسے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ لیا ہو۔

وہ ایک خالی پارک نما کسی جگہ کے الگ تھلگ گوشے میں رکھے ایک بنچ پر لیٹا تھا، اور وہ پارک نما جگہ دارالحکومت کے پہلو میں ہی کہیں تھی۔ شاید وہ کسی واقعہ کا حصہ تھا، ماضی و حال کے لاکھوں کروڑوں واقعات میں سے کسی ایک واقعہ کا حصہ۔

لکھت کی تاریخ میں وہ واقعہ نیا نہیں تھا، لیکن حقیقت کے کیمیکل میں اس پر گزری قیامت مرہم نا آشنا کسی ترو تازہ زخم کی طرح تھی۔

کوئی بھوکی مچھلی، جس نے کسی کی بھوک مٹائی تھی۔ تینوں ایک دوسرے کے لیے کسی فرشتے سے کم نہیں تھے۔

جواد حسنین بشر کی ایک روزن پر شائع دیگر تحریریں

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.