وہ جعلی پری ڈاکٹر اور موجودہ دور میں اس کے مریض

ایک روزن لکھاری
نسیم سید، صاحبہ تحریر

وہ جعلی پری ڈاکٹر اور موجودہ دور میں اس کے مریض

(نسیم سید)

گزشتہ جمعہ مبارک کی صبح میں ’’اے آر وائی ’’ کے اقرارالحسن کے پروگرام کی روح پرور فضاؤں میں چائے پیتی ہوں۔ سو آج بھی ایسا ہی ہوا۔ ( اقرارالحسن سچ کہتی ہوں بس چلے تو اپنی زندگی تمہیں دے دوں بچے۔ اپنی جان کی بازی لگا کے عوام کی آنکھیں کھولنے کی انتھک محنت، اقرارالحسن تم سلامت رہو، محفوظ رہوملک میں دندنا تے پھرتے بھیڑیوں سے)۔
سو صاحبو، آج کی روح پرور فضاؤں کی سیر کیجئے۔ اقرارالحسن نے ایک ایسی پری ڈھونڈ نکالی جوغریب، جاہل، توہم پرست اورپکے قسم کے مسلمانوں کا آپریشن کرتی تھی۔ جی ہاں، گردے کا، دل کا، پھیپھڑوں کا آپریشن۔ اوراب تک ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس پری کولاکھوں روپے علاج کا نذرانہ دے چکے تھے۔ اقرارالحسن تو ڈھونڈ ڈھونڈ کے ایسی مکروہ پریوں اورعیارجنوں کونکال لاتے ہیں۔ سو ان کو خبر ملی اوروہ پہنچ گئے اس آستانے پر۔

خیرقصہ مختصر، ایک زری کے کام والے برقع میں ملبوس پری کی نقاب نوچی گئی تو ہٹا کٹا مرد برآ مد ہوا۔ جوچودہ سال سے ہزاروں غریبوں کوروحانی علاج کے نورانی طریقے سے لوٹ رہا تھا۔ ثابت ہوا کہ اصل مسئلہ اس پری جیسی پریاں اورجن نہیں بلکہ اصل مسئلہ اس پری کی گرفتاری کے بعد جو ہزاروں ناموں کی فائیلیں ملیں جن پر اس پری کے مریضوں کی وہ تعداد ہے، اور وہ افراد ہیں۔ وہ توہم پرست جاہل ہیں جن کے ناموں کا اندراج ان فائلوں میں تھا اور ایسے نہ جانے کتنے روحانی شفاخانوں کی فائلوں میں ہوگا۔
یہ نام یہ فائلیں کیا بتا رہے، کونسا آ ئینہ ہیں؟ یہاں سوال یہ ہے۔ اس ملک کو دراصل اسی جہالت کی دیمک نے اندر سے کھا لیا ہے۔ یہ توہم پرست، جاہل، سیاست دانوں کے ٹکڑوں پرپلنے والے، داڑھی والوں کے آستانون پرجھاڑو دینے والے، تعویز گنڈوں پریقین رکھنے والے، پریوں سے اپنا آپریشن کرانے والے ملک کی آ بادی کا بہت بڑا، بہت ہی بڑا حصہ ہیں۔ ان حالات میں کیا ہم امید کرسکتے ہیں کہ حالات بدلیں گے؟