ڈاکٹرائن

 ڈاکٹرائن

از، وارث رضا

ہم ایسے غیر ترقی یافتہ سماج اکثر و بیش تر زبان و بیان کے معاملے میں عجیب الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں، شاید کہ ترقی نہ کرنے کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ جب ہم ترقی کرتی ہوئی تیز رفتار دنیا کا مقابلہ نہیں کر پاتے تو بھاگتے چورکی لنگوٹی کی مانند ہم تیز رفتار دنیا کی زبان، یا لفظ کی لنگوٹ پکڑ کر خود کو ترقی یافتہ دنیا کی فہرست میں لا کر اپنے اصل کو بھی بھلا بیٹھتے ہیں۔

مثلاً، آج کل ایک جنگی اصطلاح کنوینشنل وار کا بڑا غلغلہ ہے حالاں کہ اچھا خاصا اسے ہم صلیبی جنگ کہا کرتے تھے، اسی طرح کسی سپہ سالار کی جرات اور حوصلہ مندی کے فیصلوں کو ہم زیرک فیصلے کہا کرتے تھے، مگر کیا کریں کہ ترقی کرتی دنیا ہماری صلیبی جنگ کی اصطلاح کو بھی روند چکی ہے تو زیرک فیصلے کرنے والے کی اصطلاح کو بھی ہمارا طعنہ بنا کر اپنی ترقی یافتہ اصطلاح  ڈاکٹرائن نافذ کر دی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ جس طرح حکیم سے ڈاکٹر کہلانا بہتر سمجھا جانے لگا ہے، اسی طرح شاید ’’زیرک‘‘ کی جگہ ڈاکٹرائن بہتر سمجھی جانے لگی ہو، حالاں کہ آج بھی نباض حکیم کی مہارت اور تشخیص کے مقابلے میں بہت سے افراد پوچھ گچھ کے بعد لکھے گئے ڈاکٹری نسخوں کو ’’کم علمی‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں، مگر مریض سے مکمل تشخیص کا چلن ہے کہ چلے ہی جا رہا ہے، جب کہ سرمایہ دار دنیا حکما کی جڑی بوٹیوں کے عرق کو جدید طریقے سے گولیوں کی صورت میں بیچ کر جدید سرمایہ کاری کے ترانے اور منافعے کے قصے سنائے چلے جا رہے ہیں۔

اب ڈاکٹر یا فارماسسٹ کی بلا سے مریض شفا یاب ہوتا ہے، یا مزید بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے، ایسی ہی ڈاکٹرائن کی اصطلاح بیش تر سالوں سے سرمایہ دار دنیا نے متعارف کروائی ہے جو کہ ہمارے ہاں ’’زیرک‘‘ کے مقابلے میں بڑے دھڑلے سے چلتی چلی جا رہی ہے، بل کہ سماج میں مراعات یافتہ طبقے کی پہچان بنا کر محروم و محکوم عوام پر تھوپ دی گئی ہے، جسے عوام نا سمجھ کر بھی ٹوٹے پھوٹے انداز سے اگلتے ہی رہتے ہیں۔

ہماری تحریر میں   ڈاکٹرائن کے تذکرے کی ذمے داری ہم سے زیادہ نجی ٹی وی کے خبروں میں تواتر سے اصطلاح   ڈاکٹرائن کا تذکرہ ہے۔

ہم ایک نیم سیاسی سے فرد کو ملک کی سلامتی سے زیادہ بھلا کس کی حاجت ہو سکتی ہے، ہم تو بہت خوش ہوئے کہ جب ہماری غیر منتخب اطلاعاتی وزیر نے یہ بتایا کہ اب ملک کی تمام قوتیں ایک پیج پر ہیں اور اب مستقبل میں عوام کی بھوک ننگ اور افلاس مکمل طور سے ختم ہو جائے گا اور ملک کے ہر غریب کے گھر میں دودھ کی نہریں کھودی جائیں گی، تا کہ عوام کو دودھ ایسی نعمت فوری طور سے میسر آ سکے۔

اب ہماری وزیر کے اس بیان پر چند جلنے والوں نے یہ تبصرہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی معاشی پالیسیوں سے ’’غریب‘‘ ہی نہیں رہنے دے گی تو یہ بھی ایک عوامی رائے ہے جسے حکومت نے نہایت خندہ پیشانی سے سن لیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں کشمیر کی آزادی کے نام پر غریبوں کا صفایا ہی کر دے۔

میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ ہمارے جلدی کے مارے عوام کو موجودہ حکومت سے آخر خیر کی توقع کیوں ہے، شاید ہمارے عوام اب تک اس امر سے لا علم ہے کہ منتخب کرائی گئی حکومتیں عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے قطعی نہیں لائی جاتیں، بل کہ حکومتوں کو اس لیے لایا جاتا ہے تا کہ حکمران طبقے میں نئی بھرتی کے ذریعے نئے حکمران طبقات پیدا کیے جائیں جو کہ حکمران اشرافیہ کی تمام تر سہولیات اور مراعات کا خیال رکھیں۔

ہمارے ہاں نا جانے کیوں عوام کی بھوک و پیاس اور ان کی معاشی نا ہمواری یا بے روز گاری کا رونا رو رو کر عوام کو سہارے کا محتاج کر دیا جاتا ہے اور وہ اپنی جمہوری آزادی اور خوش حالی کے حصول میں پھر سے انھی سیاسی جماعتوں کو منتخب کر دیتے ہیں جو اسمبلی میں جا کر عوام کے حقوق بَہ جائے حکم ران طبقات کے حقوق کی جنگ لڑتے رہتے ہیں اور عوام کو لولی پوپ دینے کے لیے جذباتی بیان یا پریس کانفرنس کر کے بے وقوف بناتے رہتے ہیں۔

اب بھلا پنجاب اسمبلی میں وزیر اعظم کے نوٹس کے بعد بھی اسمبلی ارکان اور وزرا کی مراعات میں بے تحاشا اضافہ کر دیا گیا، مگر مجال کہ کسی بھی عوامی نمائندے کے سر جوں رینگی ہو۔ بس عوام ہے کہ بھوکی رہے، افلاس زدہ رہے اور معاشی چکی میں پستی رہے اور پر فریب نعروں میں اپنا مقدر تلاش کرتی رہے وگرنہ بے روز گاری اور معاشی قتل کے ساتھ آئی ایم ایف کے نافذ کردہ ٹیکس دیتی رہے۔

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی حالاں کہ اس ملک میں عوام کے جمہوری، سیاسی اور معاشی حقوق کی بات کرنا جرم بنا دیا گیا ہے، جہاں عوام کو اپنے احتجاج کرنے کے آئینی حق کو انگریز کے قانون دفعہ  144 کے تحت روندا جائے تو بھلا اس دیس میں عوام کے علاوہ صرف ڈاکٹرائن ہی پر گفتگو ہو سکتی ہے، اور کم بخت  ڈاکٹرائن کی اصطلاح اتنی مشکل ہے کہ عوام اسے سن کر صرف ہکا بکا سے ایک دوسرے کو تکے جا رہے ہیں کہ تین برس بعد اس مردوئی  ڈاکٹرائن سے نا جانے کیا نکلے۔

اب تک حکومتی وزرا اورحکومتی دانش وروں تک اصطلاح ڈاکٹرائن مکمل طرح آشکار نہیں ہو پائی، بل کہ اس خوب صورت لفظ کی تراوٹ ہی سے حکومتی دانش ور ایسی مست کیفیت میں جا چکے ہیں کہ کوئی عوام کو یہ نہیں بتا رہے کہ  ڈاکٹرائن کا جن کس کروٹ بیٹھے گا، یا اس ڈاکٹرائن سے وہ کون سا ڈاکٹر نکلے گا جو عوام کی منتخب کردہ پارلیمان اور ان کے نمائندوں کی آزادی کا وہ سیرپ دے گا۔ جس کے پینے سے عوام کی پارلیمان آزادانہ اور عوامی فیصلے کر سکے گی اور اس قابل ہو سکے گی کہ کاغذ کے ٹکڑے ایسی حیثیت کے آئین کو اس کی اصل قوت میں نافذ کروا سکے گی۔

اگر واقعی  ڈاکٹرائن کی توسیع آئین ساز اسمبلی میں احتساب اور عوامی مسائل کا کوئی مضبوط نظام دے جاتی ہے تو ہمیں اس  ڈاکٹرائن کی توسیع پر کوئی اعتراض نہیں۔

About وارث رضا 9 Articles
وارث رضا کراچی میں مقیم سینئر صحافی ہیں۔ ملک میں چلنے والی مختلف زمینی سیاسی و صحافتی تحریکوں میں توانا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کا مستقبل عوام کے ہاتھوں میں دیکھنا ان کی جد وجہد کا مِحور رہا ہے۔