محبّت کا مقدمہ

Khizer Hayat
خضرحیات

محبّت کا مقدمہ

از، خضرحیات

ہم سہمے ہوئے دور میں ایک ایسے ہوا بند (ایئر ٹائیٹ) خطے میں سانسیں لے رہے ہیں جہاں محبت سمیت ہر صحت مند جذبے پر تو پابندی ہے مگر نفرت سمیت ہر دیمک زدہ جذے پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔

یہاں محبت کے بارے میں فوراً طے کر لیا جاتا ہے کہ یہ اخلاق باختہ جذبہ ہے جبکہ نفرت کو اتنی شدومد اور اہتمام سے کبھی کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا جاتا۔ ہمیں محبت زیادہ نقصان دینے والی چیز لگتی ہے جبکہ نفرت کو ہم پھر بھی قابلِ برداشت اور قابلِ ہضم گولی سمجھتے ہیں۔

یہاں محبت کرنے اور اس کے اظہار کے لیے تو کئی طرح کے اجازت نامے لینا پڑتے ہیں مگر نفرت کا لائسنس آپ بیٹھے بٹھائے خود بھی بنا سکتے ہیں۔

محبت کرنے کے لیے پہلے اپنے آپ سے، پھر گھر والوں سے، معاشرے سے، (بے جاء) روایات سے، قانون سے، حکومت سے اور پھر ریاست سے اجازت لو تب کہیں جا کے آپ محبت کر سکتے ہو یا اس کا اظہار کر سکتے ہو۔

ایک لمبی قطار ہے جس میں کھڑے ہونا پڑتا ہے اور اسی اجازت نامے کے چکر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ یونہی لڑھکتے رہنا ہے۔ اگر کوئی خوش نصیب یہ سب رکاوٹیں عبور کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے تو اس کی خلاصی نہیں ہو جاتی۔ اسے اس ساری تگ و دو کے بعد بھی سوالیہ نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متعصّب اور محرُوم نگاہیں مسلسل سینہ چھلنی کرتی رہتی ہیں۔ ایسے ایسے لوگوں کے سامنے بھی اپنی محبت کے لیے جوابدہ ہونا پڑتا ہے جنہیں عام حالات میں ہم منہ بھی لگانا گوارہ نہیں کرتے۔

اس کے برعکس اسی معاشرے میں اگر آپ کسی سے نفرت کرنا چاہتے ہیں، تعصب رکھنا چاہتے ہیں، بُغض رکھنا چاہتے ہیں، انتقام لینا چاہتے ہیں، زیادتی کرنا چاہتے ہیں، کسی کا حق مارنا چاہتے ہیں، کسی مظلوم کی جان لینا چاہتے ہیں، کسی کا مال کھانا چاہتے ہیں، کسی کو ہراساں کرنا چاہتے ہیں، کسی کو اغواء کرنا چاہتے ہیں یا کسی کو غیرت کے نام پہ قتل کرنا چاہتے ہیں تو آپ پہ کوئی روک ٹوک ہی نہیں ہے۔ آپ جب چاہیں جیسے چاہیں یہ سب کچھ یا ان میں سے کچھ نہ کچھ آزادی سے کر سکتے ہیں اور آسانی سے ڈکار مار کے اپنی زیادتی ہضم بھی کر سکتے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جذبے قید کر دیے جائیں تو مجموعی ماحول گھٹن زدہ ہونا شروع ہو جاتا ہے اور یہ گھٹن کسی بند کمرے میں مسلسل جمع ہوتے ہوئے دھوئیں کی مانند ایک خاص سطح پہ پہنچ کر سانس لینا بھی دشوار کرتی جاتی ہے۔ ہم لوگ اپنی برداشت سے بھی زیادہ دھواں اندر لے جا چکے ہیں۔ اب تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ یہ دھواں دماغ کو چڑھ گیا ہے اور اسی دھوئیں کے زیر اثر ہم ایسی ایسی مثالیں بنانے میں سرگرم ہیں جو گلشن میں ویرانی کے بیج بوتی جا رہی ہیں۔ اسی بیمار ذہنیت کے ساتھ ہم اس زُعم میں بھی مبتلا ہو گئے ہیں کہ حقیقت اور سچائی بس وہی ہے جو میری آنکھوں کو نظر آ رہی ہے۔ یہی متعفّن ماحول ہمیں پورا ہاتھی دیکھنے سے باز رکھ رہا ہے اور اسی نشے کا اثر ہے کہ ہم میں سے جس کو ہاتھی کا جتنا حصہ نظر آتا ہے ہم نہ صرف اسے پورا ہاتھی سمجھنے لگتے ہیں بلکہ ہماری زندگی کا مقصد ہی یہ بن جاتا ہے کہ ہم باقی لوگوں کو بھی اس بات پہ قائل کرکے دم لیں کہ ہاتھی ایسا ہی ہوتا ہے جو مجھے نظر آ رہا ہے۔

اس اندھیرے ماحول میں اکثر لوگ تو فقط ٹامک ٹوئیاں ہی مار رہے ہیں کیونکہ وہ اس سے زیادہ کچھ کرنے کی حالت میں ہی نہیں ہیں۔ ایسے ماحول میں زندہ بچ رہنے کی یہی صورت نظر آتی ہے کہ دروازہ، کھڑکی، چھت یا دیوار توڑ کے تازہ ہوا کو اندر آنے کا اجازت نامہ دے دیا جائے، یہ تازہ ہوا ہی ماحول کو خوش گوار بنا کے آپ کو زندگی لوٹا سکتی ہے۔ اور دھوئیں کے یہ بادل چھٹیں گے تو آسمان صاف نظر آئے گا۔ اسی صاف آسمان کے نیچے ہی ہمیں پورا ہاتھی نظر آئے گا اور ہماری یہ غلط فہمی بھی دور ہو سکتی ہے کہ ہاتھی تو اس سے کہیں بڑا تھا جتنا مجھے نظر آ رہا تھا۔

ہمارے سماج کو بھی اس وقت ایک ایسی ہی کھڑکی، ایسے ہی کسی روشندان کی اشد ضرورت ہے جس میں سے محبت اور برداشت کی تازہ ہوا چھن چھن کر اندر آتی رہے اور ماحول کی گھٹن کو اپنی لانڈری میں پروسیس کرکے باہر پھینکتی رہے۔ فاسد مادے زیادہ دیر تک جمع ہوتے رہیں تو ماحول زہریلا ہو جاتا ہے، ان کے نکاس کے لیے ضروری ہے کہ چمنیاں لگائی جائیں، کھڑکیاں کھولی جائیں اور تازہ ہواؤں کی آمدورفت کو یقینی بنایا جائے۔

محبتوں پہ جہاں سخت پہرے ہوں اور نفرتیں چہار سُو دندناتی پھریں تو ایسی سرزمینوں کا وہی حال ہوتا ہے جو اس وقت ہماری سرزمین کا ہو چکا ہے۔ یہاں سرے سے جینے پر ہی پابندیاں ہیں۔ یہاں آپ محض وجود رکھ سکتے ہیں، جگہ گھیر سکتے ہیں، وزن رکھ سکتے ہیں مگر جی نہیں سکتے اور نہ ہی خود سے سوچ سکتے ہیں۔

نفرت کیا کیا گُل کھلاتی ہے، انتقام کیسے کیسے گلشن اجاڑ دیتا ہے، تعصّب کیسے کیسے دلکش مناظر نظروں سے اوجھل کر دیتا ہے، زیادتی کیسے کیسے اندھیرے پھیلاتی ہے، حسد کیسے کیسے وجود مٹی میں رول دیتا ہے، یہ سب ہم اچھی طرح دیکھ چکے ہیں اور آئے روز اس دیکھا دیکھی کے عذاب سے آنکھیں ویران بھی کر چکے ہیں۔ مگر ہمیں اب کہیں نا کہیں رکنا ہوگا۔

اس سماج کے ٹھیکے داروں سے دست بستہ گزارش ہے کہ خدارا محبت کو جگہ دے دیں، برداشت کو آگے آنے دیں، رواداری کو قدم جمانے دیں، اختلاف کے حُسن کو سماجی پورٹریٹ میں داخل ہونے دیں اور نفرتوں، وحشتوں، دہشتوں، متعصّب رویوں، خوف و ہراس سے لتھڑے جذبوں، گالیوں، ڈنڈوں، گولیوں، بارُودوں اور آک اُگلتی نظروں کے عفریت کا راستہ روکیں۔ خدارا لوگوں کو اپنی مرضی سے جینے کے بنیادی حقوق دے دیں۔ محبتوں کو عام کرنے کا وسیلہ بنیں۔ سماج کی شکل ہی بدل جائے گی۔

Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.