اللہ میاں کا کارخانہ از، محسن خان (ہندوستان) کے زیرِ طباعت ناول سے اقتباس

اللہ میاں کا کارخانہ ناول محسن خان
محسن خان کے اشاعت پذیر ناول کا ٹائٹل پیج، تصویر بَہ شکریہ محسن خان، ہندوستان

اللہ میاں کا کارخانہ از، محسن خان (ہندوستان) کے زیرِ طباعت ناول سے اقتباس

از، روزن رپورٹس 

تعارف: پتے کا ڈالی سے جوڑ

اللہ میاں کا کارخانہ کا مرکزی کردار اور متکلّم، narrator، معصوم اور ذہنی نمو، mental development، کے مراحل کی اوسط میں پیچھے رہ جانے والا بچہ جبران ہے۔ ناول میں بیان کردہ واقعات جبران کی چودہ برس کی زندگی پر محیط ہیں۔

جبران کو اوسط عقل فہم والی معاشرت کُند ذہن سمجھتی یے، لیکن اس کے پاس اپنے معاشرے کی بنیادوں کے متعلق سادہ سے لیکن اہم سوال ہیں۔ ان اہم سوالوں کو جبران کا معاشرہ لا سوال باور کرنے اور ان پر سوچ کو معطل رکھنے کو معاشرتی پختگی کا اساسی حوالہ سمھجتا ہے۔

اس بچے کے والد تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی شریکِ حیات کے پاکستانی نژاد اور آئی ایس آئی کی ایجنٹ ہونے کے شکوک وشُبہات کے بَہ وجوہ، ہندوستانی ریاست گجرات کی قانون کے نفاذ کی ذمے دار ایجنسیوں کے ہَتھے چڑھ جاتے ہیں۔ 

اپنے والد کی حراستی گم شدگی کے نتائج و عواقب میں جبران اپنے چچا کے زیرِ کفالت آ جاتے ہیں۔ 

اپنے بھائی کی حراستی گم شدگی کے دکھ، ان کی بازیابی کی فکر اور اپنی بیوی کے ساتھ اپنے بھائی کی اولاد سے بے گانگی کے سلوک کی وجہ سے اختلافات کے بَہ وجوہ ایک دن ناول کے متکلم بچے جبران کے چچا کی بھی دل کے دورے کے باعث زندگی چلی جاتی ہے۔ بعد میں چچی جبران کو گھر سے نکال دہتی ہیں۔ 

لاچار پھرتے جبران کو حاجی جی ملتے ہیں اور جبران کو مدرسے میں داخل کرا کے ان کی کفالت شروع کر دیتے ہیں۔ 

سماجی زندگی کے متعلق معصومانہ بنیادی سوال رکھنے والے بچے کا عام سے مدرسے میں تعلیم پانا کئی طرح کے دل چسپ احوال کے سامنے آنے کا باعث بنتا ہے۔ 

ذیل میں دیے گئے ناولی اقتباس میں جبران کے اپنے کفیلِ حالات حاجی جی کے ساتھ بازار میں بقر عید کے کپڑے وغیرہ خریدنے کے دوران کے احوال ہیں۔

مدیرِ ایک روزن

رات کو تیز ہوا کے ساتھ خوب بارش ہوئی تھی۔ کھیتوں کی مٹی گیلی ہو گئی تھی اور درختوں کے پتّے دُھل کر چمک رہے تھے۔ جب میں بکری کو لے کر قبرستان پہنچا تو میں نے دیکھا اماں اور چچا جان کی قبریں کچھ نیچی ہو گئی تھیں اور ان کے کَتبوں پر لکھی ہوئی تحریریں ایسی ہو گئی تھیں جیسے آنسووں سے بھیگ کر آنکھوں کا کاجل پھیل جاتا ہے۔ اب ان تحریروں کو پڑھ پانا بھی مشکل تھا۔ اماں کی قبر کا کتبہ تو ایک طرف کو جھک بھی گیا تھا۔

بکری کو چرا لینے کے بعد پہلے میں نے اماں کی قبر کا کَتبہ سیدھا کرنے کی کوشش کی، مگر قبر کے سرہانے کی مٹی اتنی گیلی ہو گئی تھی کہ کَتبے کی لکڑی اس میں رک ہی نہیں رہی تھی اور کَتبہ بار بار ایک طرف کو جُھکا جارہا تھا۔

اماں کی قبر بھی تو ایسی جگہ پر تھی جہاں بارش کا پانی رک جاتا تھا۔ پوری لکڑی قبر میں کھونس دینے پر کَتبہ چھوٹا اور برا لگ رہا تھا۔ پائنتی کی مٹی ذرا سخت تھی، مگر کتبہ پائنتی نہیں لگایا جا سکتا تھا۔

میں نے گھاس پھونس کی مدد سے کتبے کو ٹِکا تو دیا تھا، مگر مجھے امید نہیں تھی کہ وہ زیادہ دیر تک ٹکا رہے گا۔ ہاں اگر دوبارہ تیز بارش نہ ہوئی اور دھوپ نکلنے کے بعد مٹی سخت ہو گئی تو ٹکا بھی رہ سکتا تھا۔

کوئلہ تو میں لے کر گیا تھا مگر کَتبے کی لکڑی اتنی گیلی تھی کہ اس پر کچھ لکھا نہیں جا سکتا تھا۔ چچا جان کی قبر کا کتبہ ٹیڑھا تو نہیں ہوا تھا مگر پانی سے بھیگ کر بھیگ کر اس کا رنگ ذرا اور دُھندلا ہو گیا تھا اور تحریر مٹ گئی تھی۔

جب میں بکری کو لے کر مدرسے پہنچا تو حاجی جی نے میرے کپڑوں کی طرف دیکھ کر کہا:

’’یہ کیا حال بنا رکھا ہے۔ کیا کسی سے کُشتی لڑ کر آ رہے ہو۔‘‘

میں نے انھیں بتایا کہ اماں کی قبر کا کتبہ گر گیا تھا، اسی کو لگانے میں کپڑے میلے ہو گئے تو حاجی جی نے کہا، ’’میں تم سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ان سب سے کوئی فائدہ نہیں تمھارے لگائے ہوئے کتبے نہ تو تمھاری اماں اور چچا جان پڑھ سکیں گے اور نہ دوسرے لوگ پڑھنے جائیں گے۔ وہاں اب تمھاری اماں رہ گئی ہیں نہ تمھارے چچا جان۔ ان کی روحیں آسمانوں میں اللہ کے پاس چلی گئی ہیں، لہٰذا ان کی مغفرت کے لیے یہاں بیٹھ کر بھی فاتحہ اور قرآن پڑھا جا سکتا ہے۔ جاؤ جا کر ہاتھ مُنھ دھو اور کپڑے بدل کر میرے ساتھ چلو تم کو بازار سے بقر عید کے کپڑے دلوا دوں۔‘‘

نئے کپڑوں کے خیال سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ جلدی جلدی ہاتھ مُنھ دھو کر دوسرے کپڑے پہنے۔ ان کپڑوں پر پریس نہیں کی گئی تھی اس لیے ذرا گنجلے تھے۔ میں نے ہاتھوں سے رگڑ کے شکنیں برابر کیں آئینے کے سامنے پنجوں پر کھڑے ہو کر کنگھی کی اور جانے کے لیے حاجی جی کے پاس گیا تو انھوں نے میرے سر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’تمھارے سر پر ہر وقت شیطان کیوں بیٹھا رہتا ہے۔‘‘

میں سمجھ گیا کہ حاجی جی میرے ننگے سر کی بات کر رہے ہیں۔ مجھے ٹوپی پہننے کا خیال تو آیا تھا مگر میں نے جان بوجھ کر نہیں پہنی تھی۔ چچا جان کے گھر میں ٹی وی پر میں نے ایک فلم دیکھی تھی جس میں ہیرو موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گانا گاتا ہوا جا رہا تھا اور اس کے بال ہوا میں اڑتے ہوئے بہت اچھے لگ رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ جب میں سائیکل پر بیٹھوں گا تو میرے بال بھی اسی طرح ہوا میں اڑ کر اچھے لگیں گے۔ مگر جب حاجی جی نے ڈانٹا تو مجھے ٹوپی پہننی پڑی۔

سائیکل باہر نکالنے کے بعد حاجی جی نے کہا، ’’کیا تم مجھے بٹھا کر سائیکل چلا سکتے ہو؟‘‘

معلوم نہیں وہ مذاق کر رہے تھے، یا سچ مچ کہہ رہے تھے۔ میں نے کہا۔ ’’نہیں چلا پاؤں گا گر جاؤں گا۔‘‘

حاجی جی نے کہا، ’’ٹھیک ہے ذرا روانی آ جائے اور تمھارے اندر اعتماد پیدا ہو جائے تب مجھے بٹھا کر چلانا اور انھوں نے گدی پر بیٹھ کر سائیکل آگے بڑھائی تو میں دوڑ کر کیرِیئر پر بیٹھ گیا۔

حاجی جی نے ذرا دور تک تو سائیکل ذرا آہستہ آہستہ چلائی اور جب پکی سڑک پر پہنچے تو تیز تیز چلانے لگے۔ انھوں نے گردن گھما کر پیچھے دیکھتے ہوئے کہا، ’’اور تیز چلاؤں۔‘‘

’’جی اور تیز چلائیے۔‘‘ میں نے کہا تو حاجی جی اچک اچک کر سائیکل خوب تیز تیز چلانے لگے۔ کل رات کو بارش ہو جانے کی وجہ سے ہوا ٹھنڈی ہو گئی تھی اور اس کا بدن میں لگنا اچھا لگ رہا تھا۔

حاجی جی پیچھے مڑ کر یہ تو دیکھ نہیں سکتے تھے کہ میں سر پر ٹوپی لگائے ہوں یا نہیں لگائے ہوں، اس لیے میں نے ٹوپی اتار کے جیب میں رکھ لی۔

اب میرے بال ہوا میں خوب اُڑ رہے تھے۔ حاجی جی کے اتنی تیز سائیکل چلانے سے مجھے یہ ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں گر نہ جاؤں اس لیے میں نے ان کی کمر زور سے پکڑ لی۔

حاجی جی پہلے مجھے کپڑے کی دُکان پر لے گئے اور کہا کہ یہاں سے تم اپنے لیے کرتے اور پاجامے کا کپڑا پسند کر لو۔ دکان دار نے جو تھان دکھائے ان میں مجھے پیلے رنگ کا قمیص کا کپڑا اور سفید رنگ کا پاجامے کا کپڑا پسند آیا۔ حاجی جی نے اپنے لیے سفید کرتے اور سفید پاجامے کا کپڑا پسند کیا۔

اس کے بعد انھوں نے چپلوں کی دکان سے میری پسند کی موٹے تلوں والی چپلیں اور ایک رومال دلایا۔ میں دکان میں ٹنگے ہوئے رنگین چشموں کی طرف دیکھنے لگا تو حاجی جی نے پوچھا، ’’چشمہ لو گے؟‘‘

’’ہاں،‘‘ میں نے کہا تو حاجی جی نے مجھے گلابی رنگ کا چشمہ بھی دلا دیا۔

اس کے بعد وہ مجھے درزی کی دکان پر لے گئے۔ میں نے چچا جان کے گھر میں ٹی وی پر ایک فلم میں سلمان خان کو جس طرح کی پاکستانی قمیص پہنے دیکھا تھا ویسی ہی دو جیبوں والی قمیص سلوانا چاہتا تھا۔ جب میں نے درزی کو یہ بات بتائی تو اس نے دکان میں ٹنگی ہوئی قمیصوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’ان میں دیکھ لو جو ڈیزائن تم کو اچھا لگ رہا ہو ویسی ہی سی دوں۔‘‘

مجھے ان میں کوئی ڈیزائن اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے درزی سے کہا، ’’یہ اس طرح کی نہیں ہیں جیسی میں سلوانا چاہتا ہوں اور درزی کو بتانے کی بہت کوشش کی کہ میں کس طرح کی سلوانا چاہتا ہوں۔

جب میں نے اس سے کہا کہ جیسی سلمان خاں پہنتا ہے تو حاجی جی نے کہا: وہ لوگ معلوم نہیں کیا کیا پہنا کرتے ہیں۔ شریفوں کا سا لباس بنواؤ۔ جب میں سمجھا نہیں پایا اور درزی سمجھ نہیں پایا تو اس نے کہا: ’’اچھا مجھے اپنے حساب سے بنا لینے دو تم کو پسند آئے گی۔‘‘

جب میں نے درزی سے یہ کہا کہ میری قمیص میں دو جیبیں لگائیے گا تو اس نے ہنس کر کہا، ’’جیبوں کا کیا ہے جتنی چاہے لگوا لو۔‘‘

جب درزی کی دکان سے باہر نکلے تو حاجی جی نے کہا، ’’چلو تمھارے بال بھی کٹوا دوں۔‘‘

اور وہ مجھے نائی کی دکان پر لے گئے۔ حاجی جی تو یہ چاہتے تھے کہ میرے بال اتنے چھوٹے کر دیے جائیں کہ ماتھے پر نہ آئیں مگر میں یہ نہیں چاہتا تھا۔ نائی نے میری بات مانی نہ حاجی جی کی اس نے اپنی مرضی سے ایسے کاٹ دیے کہ وہ بڑے رہ پائے نہ زیادہ چھوٹے ہوئے۔

بال کٹنے کے بعد جب میں نے آئینے میں غور سے اپنی شکل دیکھی تو مجھے بڑی بری لگی۔ کان کھڑے ہو گئے تھے اور آنکھیں بندروں جیسی دکھائی دے رہی تھیں۔

جب میرے بال کٹ گئے تو حاجی جی نے بال کٹانے والی کرسی پر بیٹھ کر نائی سے کہا: بال چھوٹے کر دو اور تھوڑی داڑھی بھی ترش دینا۔

میں کچھ دیر تک آئینے میں حاجی جی کے بال کٹتے ہوئے دیکھتا رہا، پھر مجھے کتابوں کی دکان کا خیال آیا۔ کتابوں کی دکان زیادہ دور نہیں تھی میں حاجی جی سے پوچھ کر کتابوں کی دکان پر چلا گیا۔

کچھ دیر تک کتابوں کو دیکھتا رہا۔ دکان میں مجھے حدیثیں، قرآنِ پاک، سپارے، پنج سورے اور دعاؤں وغیرہ کی کتابیں ہی دکھائی دے رہی تھیں۔

’’کیا چاہیے؟‘‘ دکان دار نے پوچھا۔

میں نے کہا، ’’کہانیوں کی کتابیں دیکھ رہا تھا۔‘‘

دکان دار نے کہا، ’’یہاں شیخ چِلیوں کی، جھوٹی کہانیوں کی کتابیں نہیں ملتیں۔‘‘

میں کتابوں کی دکان سے ہٹ کر بازار کی اور چیزیں دیکھنے لگا۔ ایک جگہ فٹ پاتھ پر مجھے ایک آدمی دکھائی دیا۔ وہ اپنے سامنے پلاسٹک بچھائے ہوئے تھا جس پر چھوٹی بڑی شیشیاں اور کچھ جڑی بوٹیاں رکھی تھیں۔ وہیں پر ایک جلتا ہوا اسٹوو رکھا تھا۔

اسٹوو پر چڑھے ہوئے بھگونے میں تیل کھول رہا تھا۔ اور اسٹوو کے پاس دھوپ میں گلہریوں کے جتنے بڑے آٹھ دس جان ور الٹے لیٹے موٹے پپوٹوں والی آنکھوں سے ٹکر ٹکر آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ تیل بیچنے والے نے شہادت والی انگلی ہلا کے مجھے دکھاتے ہوئے کہا، ’’کیا کوئی سمسیا ہے؟‘‘

میں اس کی بات سمجھ نہیں پایا تو اس نے ذرا تیور بدل کر کہا:

’’چلو جاؤ کسی دکان پر جا کر کھلونے دیکھو۔ یہاں تمھارے مطلب کی کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘

میں وہاں سے نائی کی دکان پر چلا گیا۔ حاجی جی کے بال کٹ چکے تھے داڑھی بھی تھوڑی چھوٹی ہو گئی تھی۔ وہ اپنے سر کو گھما گھما کے اور جھکا جھکا کے آئینے میں دیکھ رہے تھے۔

واپسی پر میں نے گلابی چشمہ لگایا تو راستے کے کناروں پر لگے ہوئے درخت اڑتے ہوئے پرندے اور آسمان سب رنگین اور خوب صورت دکھائی دینے لگے۔

’’چشمہ کیسا ہے؟‘‘ حاجی جی نے مڑ کر زور سے پوچھا۔

’’بہت اچھا ہے۔ اس سے سب چیزیں بڑی خوب صورت دکھائی دے رہی ہیں۔‘‘ میں نے حاجی جی کو بتایا تو انھوں نے کہا، ’’اب اسے ہر وقت نہ لگائے رکھنا ورنہ خوب صورتی دیکھنے کے چکر میں ٹھوکر کھا کے گر جاؤ گے۔‘‘


نوٹ:  محسن خان کا یہ ناول اللہ میاں کا کارخانہ اگلے چند روز (ستمبر 2020) میں ایم آر پبلی کیشنز نئی دلّی، ہندوستان سے شائع ہونے والا ہے۔