تین سو تیرہ لفظوں کی مثبت خبریہ کہانی

Atif Aleem

تین سو تیرہ لفظوں کی مثبت خبریہ کہانی

از، محمد عاطف علیم

چڑیاں چہک رہی ہیں، صحرا میں پھول کھلنے کو ہیں 

بعد از سلام روستائی عرض ہے کہ صبح کا وقت ہے، فضاؤں میں بہ دستور دور دور تک سموگ کی نقرئی چادر نے گویا جادو سا کر رکھا ہے۔

ہر طرف امن ہے، شانتی ہے، خوشی ہے اور خوش حالی ہے۔ ہمیشہ چین لکھنے والا راوی بہ دستور تمام و کمال ڈھٹائی کے ساتھ چین لکھ رہا ہے اور اپنی جیب میں پڑے سکے کھنکھنا رہا ہے۔

دیس کی فضاؤں میں سکون ہے کہ گھاس میں چھپے پالتو افعی تک شیریں مقال طوطیوں کے ترانوں کی لے پر جھوم رہے ہیں۔ امن ہے کہ امڈ کر آ رہا ہے،عورتیں زیور اچھالتی گزرتی ہیں تو کوئی اُچکا آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔

خوشی ہے کہ تن من سے پھوٹی پڑ رہی  ہے۔ قبریں تک شاد و آباد ہیں اور خوش حالی کا تو مت پوچھو ہا! ڈالر خوار و زبوں ہے، معیشت کی گرم بازاری سے سٹاک ایکسچینج کی کمپیوٹر سکرینیں تک جل گئی ہیں۔


مزید دیکھیے:  مشترکہ مفاداتی کونسل اور مرزا نوشہ  از، نصیر احمد


اہل دبدبہ کا بندوبست اس قدر چست و کامیاب ہے کہ مُلّائے طفل باز سے اہلِ ساز باز تک ہر کوئی خوش ہے، ہر کوئی شاد کام ہے۔

ایک جانب اگر انصاف کے ایوانوں میں کالی عینک لگائے پستہ کردار جن موبائل پٹخ پٹخ کر انصاف کررہا ہے تو دوسری جانب سالار اعظم اینٹ اینٹ جوڑ کر نئے سرے سے اپنی راج دھانی کی تعمیر کر رہا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وزارت عظمیٰ پر مجسمہ عقل و دانش اپنی تدبیر قے آور سمیت موجود ہے؛ اور قومِ یوتھ کی پر جوش داد میں کتاب لطائف ظریفانہ تخلیق فرما رہا ہے۔

القط ایسا مثالی بند و بست ہے کہ چرخ ِنیلی فام اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اسی لیے تو ہم بہ زبانِ شعر عرض کرتے ہیں:

رب کا شکر ادا کر بھائی

جس نے ہماری مقدس گائے بنائی

About محمد عاطف علیم 14 Articles
محمد عاطف علیم شاعر، افسانہ اور ناول نگار ہیں۔ مشک پوری کی ملکہ اور گرد باد ان کے اب تک آنے والے ناول ہیں، جنہیں قارئین اور نقادوں میں بہت پذیرائی ملی ہے۔