ٹرمپ نے درحقیقت ہمیں ”ورنہ“ والا پیغام دیا ہے

ایک روزن لکھاری
نصرت جاوید، صاحب مضمون

ٹرمپ نے درحقیقت ہمیں ”ورنہ“ والا پیغام دیا ہے

(نصرت جاوید)

مولانا مودودی نے اپنا اصل مشن ”پیدائشی“ مسلمانوں کو ”عقلی“ مسلمانوں میں بدل کر بالآخر ”صالح“ مسلمان بنانا بتایا تھا۔ میری بدقسمتی کہ ان کی تعلیمات سے کماحقہ استفادہ نہ کرپایا۔ ”پیدائشی“ مسلمان ہی رہا۔ اپنی اس کجی کے باوجود مجھے ڈونلڈٹرمپ سے ”اسلام“ سمجھنے کی ہرگز ضرورت نہیں تھی۔ خاص طورپر جب وہ حرمین شریفین والی ارضِ مقدس میں کھڑے ہوکر تقریباََ 55ملکوں سے آئے مسلمان رہ نماﺅں کو ایک ہمدرد پروفیسر کی طرح یہ سمجھا رہا ہوکہ ”اسلام“ کو خطرہ اسرائیل سے نہیں،نہ ہی کشمیر میں کئی دہائیوں سے جاری بھارتی ظلم وستم سے ۔ بھارت کو بلکہ موصوف نے ”دہشت گردی کا شکار“ ملک قرار دیا اور اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کی ایک حقیقت کیونکہ ”اس دھرتی سے ابھرنے والا تمام ادیان کا حتمی ماخذ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وساطت سے پھیلا پیغام الٰہی ہے۔“
اسلام کو اصل خطرہ ”ڈونلڈٹرمپ کی نظر میں،داعش،حزب اللہ اور ”ان سب کے سرپرست“ ایران سے ہے۔ اس خطرے سے نبرد آزما ہونے کے لئے امریکہ کے اسلحہ ساز کارخانے اب 24/7کام کرتے ہوئے سعودی عرب کو جدید ترین ہتھیار فراہم کریں گے۔ ایک کھرب ڈالر سے خریدے یہ ہتھیار مختلف اسلامی ممالک سے اتحاد کی صورت میں اکٹھے ہوئے 34,000فوجیوں کے حوالے کئے جائیں گے۔ سنا ہے کہ اس ”لشکرِ اسلام“ کے سپہ سالار ہمارے جنرل راحیل شریف ہوں گے جو اس سے قبل پاک آرمی کے سربراہ تھے۔ ان کی معیاد ملازمت ختم ہونے لگی تو ہمارے درودیوار ”جانے کی ضد نہ کرو“ والے اشتہاروں سے لدگئے۔ جنرل صاحب مگر تیار نہ ہوئے۔ ویسے بھی ”مسلمان نیٹو“ کی قیادت ٹھکرانا شاید مناسب محسوس نہ ہوتا۔
جنرل صاحب نے داعش ، حزب اللہ اور ”ان سب کے سرپرست“ ایران سے ”اسلام“ کو بچانے کے لئے جس لشکر کی قیادت قبول کی ہے اس کا ذکر ٹرمپ نے سرسر ی انداز میں ضرور کیا۔ اپنی تقریر میں لیکن اس نے اس حقیقت کا تذکرہ کرنے کا تردد ہی نہیں کیا کہ اس اتحاد کے قائد جنرل راحیل شریف صاحب ہیں جن کا تعلق اسلامی جمہوریہ پاکستان سے ہے۔آبادی کے اعتبار سے یہ ملک انڈونیشیا سے تھوڑے سے فرق کے ساتھ مسلمانوں کا سب سے بڑا ملک ہے۔اقتصادی اعتبار سے بہت مضبوط نہ سہی مگر دفاعی اعتبار سے یہ ملک پوری عرب دنیا میں ”قوی“ کہلاتا ہے کیونکہ یہ وہ واحد ملک ہے جس نے کئی طرح کے خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے خود کو عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت بنایا ہے۔
”دہشت گردی“ کا ذکرکرتے ہوئے ٹرمپ انتہائی سفاکی سے یہ حقیقت بھی بھول گیا کہ دین اسلام کی چند مبادیات کی سفاکانہ تشریح کے ذریعے جو ظالم تیار ہوئے ہیں ان کا اصل نشانہ پاکستان ہی رہا ہے۔ 9/11تو امریکہ میں صرف ایک بار ہوا تھا۔ ہمارے ہاں 2002سے تقریباََ ہر ماہ ایسا کوئی واقعہ ہوتا رہا۔ 60ہزار سے زیادہ قطعی طورپر نہتے اور بے گناہ شہری عورتوں اور بچوں سمیت خودکش حملہ آوروں کا نشانہ بنے۔ ہماری افواج اور دفاعی تنصیبات کو سنگین حملوں کے ذریعے کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش ہوئی۔ 2014ءکے دسمبر سے ہماری افواج آپریشن ضربِ عضب کے بعد اب ”ردالفساد“ نامی ایک اور آپریشن کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی جنگ میں مصروف ہیں۔
ڈونلڈٹرمپ کو یہ بات بھی یاد نہ رہی کہ ”دہشت گردی کے خلاف“ اس کا خطاب سننے والوں میں پاکستان کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم بھی موجود ہیں۔اس وزیر اعظم کو امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد ایک ٹیلی فون گفتگو کے دوران اس نے Fantasticاور Terrificوغیرہ بھی کہا تھا۔
سعودی عرب پہنچتے ہی ٹرمپ نے اپنے میزبانوں کے علاوہ غیر ملکی مہمانوں میں سے صرف مصر کے فوجی آمر کو ”صدقے واری“ جانے کے لئے چنا۔ اس آمر سے وہ اپنے انتخاب کے فوری بعد واشنگٹن میں بھی ملاقات کرچکا ہے۔ مصر کے فوجی ا ٓمر کے صدقے واری جاتے ہوئے دُنیا بھر میں جمہوریت کی علامت ومحافظ بنے امریکہ نے درحقیقت مسلمان ملکوں کے لئے پیغام یہ دیا ہے کہ انہیں وہاں صرف Strong Manکی ضرورت ہے۔ ”مردِ آہن“ جو کبھی ایوب خان، بعدازاں جنرل ضیاءاور بالآخر جنرل مشرف کی صورت پاکستان میں بھی دس دس برس کی باریاں لگاتے رہے ہیں۔ پاکستانی عوام کی جمہوری اُمنگوں کو بے دریغ کچلتے ہوئے ان آمروں نے امریکی اسلحہ اور امداد کی مدد سے پہلے روس کے گرد گھیرا ڈالنے کے عمل میں حصہ لیا پھر جنرل ضیاءکے ”افغان جہاد“ نے سوویت یونین کو عالمی نقشے سے غائب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بالآخر جنرل مشرف نمودار ہوئے جنہوں نے امریکہ کی سہولت کے لئے مسلمانوں کو ”جہاد“ کو بھلاکر Enlightenedبنانے کے لئے دن رات کام کیا۔
9/11کے بعد امریکی صدر بش نے عراق اور افغانستان پر جنگیں مسلط کرنے کے بعد ان ممالک میں ”جمہوری نظام“ کو فروغ دینے کا ڈھونگ بھی رچایا تھا۔ صدر اوبامہ کے دنوں میں نام نہاد” عرب بہار“ کا فروغ ہوا تو امریکہ بہت شاداں ہوا۔ اسے بہت خوشی ہوئی کہ مسلم عوام اب ”آزادی¿ اظہار“ کو تڑپ رہے ہیں۔وہ اپنے حکمرانوں کو آزادانہ انتخابات کے ذریعے منتخب کرنے کے بعد جوابدہ بنانا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے انتخاب تک پہنچتے ہوئے امریکہ نے البتہ یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ ”اپنی ترکیب میں خاص“ مسلمانوں کو جمہوریت راس نہیں آتی۔ انہیں صرف کسی مردِ آہن کے ذریعے ہی قابو میں لایا جاسکتا ہے۔”خوش نصیب“ اور”مستحکم“ ہیں وہ مسلم ممالک جہاں بادشاہتیں اب بھی قائم ہیں۔ اطمینان مگر اب یہ بھی ہے کہ ”جمہوری“ ہونے کا ناٹک رچانے والے مصر اور ترکی جیسے ممالک بھی اب ”مردانِ آہن“ کی اہمیت کو بخوشی تسلیم کرچکے ہیں۔ترکی کا ”سلطان اردوان“ اگرچہ واشنگٹن کے مکمل قابو میں نہیں آرہا۔ مصر کا Strong ManالبتہGood Manہے۔ ویسے بھی اسرائیل کا ہمسایہ ہے اور ہمسایے ماں پیو جائے ہوتے ہیں ۔ مصر کا جنرل السیسی حماس ایسی”انتہاپسند“ تنظیموں سے اسرائیل کو محفوظ رکھے گا۔ شام کے بشارالاسد کوبھی نکیل ڈال سکتا ہے۔ عرب دُنیا میں حزب اللہ کا توڑ بھی قاہرہ ہی سے نمودار ہونا چاہیے۔
پاکستان فرقہ وارانہ منافرت سے حیران کن انداز میں کافی حد تک خود کو محفوظ رکھنے کے باوجود بھی ٹرمپ کے لئے اہم ملک نہیں رہا کیونکہ یہ عرب ملک نہیں ہے۔ ایران اس کا ہمسایہ بھی ہے جس سے خوامخواہ کا پنگالینے کو ہم تیار نہیں۔ اگرچہ Persian Empireوالی رعونت میں مبتلا ایرانی قیادت نے پاکستان کے Restraintکو ابھی تک دل سے نہیں سراہا۔
پاکستان کو ٹرمپ اب صرف افغانستان کے ہمسایے کی صورت دیکھے گا ۔ افغانستان میں امریکی فوج ابھی تک موجود ہے۔ اس کے تحفظ کے لئے پاکستان سے Do Moreکے تقاضے ہوں گے۔ بھارت کو سعودی عرب میں کھڑے ہوکر پاکستانی وزیر اعظم کی موجودگی میں ”ہشت گردی کا شکار“ بتاتے ہوئے درحقیقت ٹرمپ نے ہمیں ”ورنہ….“ والا پیغام دیا ہے۔
بدقسمتی سے میری قوم مگر متحد نہیں۔اندھی نفرتوں اور عقیدتوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ ہماری ”جمہوری حکومت“ بھی اب ترکی اور مصر کے ”مردانِ آہن“ کی نقالی کرتے ہوئے ”آزاد“ 24/7چینلوں کو مکمل طورپر اپنے کنٹرول میں لینے کے بعد اب اخبارات کے ذریعے پھیلائے بیانیے کو ریگولیٹ کرنے کے لئے APNSسے رجوع کرچکی ہے۔ سوشل میڈیا دریں اثناءکچھ تازہ آوازوں کو ابلاغ کی راہیں عطا کررہا تھا۔ اب اس پر بھی کریک ڈاﺅن کا آغاز ہوگیا ہے۔ ٹرمپ کی تقریر نے جو سوال ہمارے ذہنوں میں اٹھائے ہیں انہیں بیان کرنے کے کوئی پلیٹ فارم ہی ہم بدنصیب عامیوں کو نصیب نہیں ہوں گے۔


Courtesy: nawaiwaqt.com.pk