سماجی چیلنجز: ادب کو کیا ہوا، ادیب کہاں ہے؟

(نعیم بیگ)

معاشرہ ہے کیا؟ یہ کس طرح سے اپنے ارتقائی اور تخلیقی مراحل سے گزر کر اس مسلمہ حیثیت کو اپنانے میں کامیاب ہوا ہے جہاں اسے کسی بھی قوم کا سماج یا معاشرہ کہا جا سکے۔ اس کا احاطہ کرتے ہوئے ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ جب ہم کسی معاشرے کی حدود کا تعین کر تے ہیں تب اس کی اصلاح اور اس سے منسلک اجزا پر بھی بات کرتے ہیں اور ان معروضات بھی کو دائرہ گفتگو میں لایا جا تا ہے کہ ہم اسے کیسے مثالی معاشرے میں بدل سکتے ہیں۔

بیسویں صدی کے وسط میں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی صورتِ حال اور بعد ازاں نو آبادیت کے خاتمہ کا اعلان جہاں عالمی امپیریلسٹ کو یک و تنہا کرتا ہے وہیں برآعظموں میں جغرافیائی تقسیم نئی ریاستوں اور ان کے معاشروں کو جنم دیتی ہے۔ ایک طرف امریکہ میں لاطینی ریاستوں کا قیام، دوسری جنگِ عظیم کے بعد مشرقی و مغربی یورپ اور اس کی نئی ریاستوں کا قیام، برلن کی تقسیم، جیسے معاشرتی نظام اپنے جغرافیائی تقسیم کے ساتھ اپنے الگ نظریاتی وجود اور تشخص کا احساس دینے لگتے ہیں تو دوسری طرف مکمل آزادی اور نوآبادیت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عالمی منظر پر افریقہ اور ایشیا میں دنیا نے نئے ملک جنم لیتے ہوئے دیکھے، جہاں نئے معاشروں نے اپنے قیام کے قانونی اور اخلاقی جواز کے پیشِ نظر اپنی تاریخی، لسانی و ثقافتی روایات کو ساتھ لے کر اپنی آزادی کے نئے آغاز کی شروعات کیں۔ اب وہ کس حد تک اپنے داخلی مسائل اور بیرونی مداخلت سے اپنے آپ کو بچا سکے ہیں، یہ پہلو اس وقت ہماری گفتگو کا محور نہیں ہیں۔ لیکن جب ہم اپنے معاشرے کی بات کریں گے تو ان تمام جزیات کو مدِ نظر رکھنا ہوگا۔ جبھی ہم ان مسائل سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت کو زیر بحث لا پائیں گے۔

تاریخی طور پر یہ دعوٰی کیا جاتا ہے کہ بیسویں صدی کی پانچویں دھائی میں دو ممالک پاکستان اور اسرائیل کا جنم لینا ان کی نظریاتی اور مذہبی بنیادوں پر تجسیم ہے۔ بظاہر یہ دعوٰی اپنے اندر ایک مکمل فلسفہ رکھتا ہے اور ان ملکوں کے قیام کی وجوہات میں اس تھیسس کو جلاِ بھی بخشتا ہے کیونکہ عوامی سطح پر ہر دو ریاستوں میں مذہبی بنیاد کو ہی مقامی ووٹر اور عالمی منظر نامے کے تخلیق کاروں کے سامنے لایا گیا تاکہ اسے خصوصی عالمی مقبولیت سے نوازا جائے۔ لیکن حقیقی طور پر ان ممالک کے قیام کے مقاصد اور بعد ازاں ہونے والے تاریخی عوامل اور حالات و واقعات کی روشنی میں انہیں حقیقت نفس الامری کے مصداق مقبولیت کا وہ مطلوب رتبہ نا مل سکا، بلکہ بعض نظریاتی و واقعاتی مناظر میں انہیں یکسر مسترد بھی کر دیا گیا۔ تاہم اس سلسلے میں دونوں طرف کے دلائل ہیں۔ لیکن یہاں موقع نہیں کہ ہم اس پر گفتگو کریں۔

تاہم میری ذاتی رائے میں ان دو نئے معاشروں (برصغیر ہند میں پاکستان اور مشرقِ وسطی میں اسرائیل) کا قیام، قطع نظر اس کے کہ ہماری آزادی میں مقامی سیاسی، جانی و مالی اور نظریاتی قربانیوں کی ایک طویل داستان موجود ہے، دراصل مذہبی عقاید کی آڑ میں ایسی ریاستوں کا قیام مقصود تھا جہاں استعماریت اپنے بورژوائی مقاصد کو درونِ خانہ اپنے طور پر بروئے کار لا سکتی ہو۔ بظاہر ان ریاستوں کو انکی فطری آزادی بشمول اسکے اعلیٰ و ارفع مقاصد کے حصول کی خاطر نئے وجود سے آشنا کیا گیا تھا جبکہ درحقیقت انہیں ایک نئی سنہری سرمایہ دارانہ ذہنیت کے جبر کی زنجیر میں پرو دیا گیا۔ جسے آج ہم صارفیت اور مارکیٹ اکانومی کی صورت میں روبہ عمل اور ترقی پذیر دیکھتے ہیں۔

میں اپنے تئیں یہ سمجھتا ہوں کہ اسرائیل کی حد تو وہ ایک خاص مقصد کے حصول میں کامیاب رہے۔ تاہم ایشیا میں ابھرنے والی نئی ریاست جسے پاکستان کہا گیا صورتحال کچھ مختلف رہی؛ گو یہاں بھی تاریخی طور پر متحدہ ہندوستان کی بات کہی جا رہی تھی، اور اس پر کسی حد تک ہمارے مسلم لیگی لیڈرز بھی اپنی آمادگی دکھاتے رہے، لیکن برِ صغیر میں ہندو سیاسی پنڈتوں کے زیر اہتمام ہندو ازم کے اٹھتے ہوئے بے جاطوفان کو ہماری لیڈر شپ اور ملک کو آزادی بخشنے والے امپیرئیلسٹ اربابِ اختیار دیکھ چکے تھے، جس کی بنیاد پر انیس سو سینتالیس میں ایک علیحدہ ریاست کو وجود میں لانے کا فوری فیصلہ ہو گیا۔ یوں ریاست کا قیام تو وجود میں آ گیا لیکن اس سے منسلک بہت سے مسائل وراثت میں نومولود کی جھولی میں ڈال دیئے گئے۔

اس ضمن میں ایک عرض اور کر دوں۔ بعد از تقسیم بھارت کو صرف ایک بڑے سماج کی پرورش کا مسئلہ درپیش تھا، عقائد کی بنیاد پر مبنی ہندو تحریک وہاں بھی عروج پر تھی لیکن ان کی لیڈرشپ نے مبینہ طور پر سیکولرازم کا سہارا لیکر اپنی معاشی حالت کو پنپنے دیا اور ساتھ ہی اس نے سماجی ارتقا اور معاشرتی بڑھوتری کو پہلے وار میں ہی جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کر کے ایک سمت دے دی۔ انہیں اس بات کا بھی احساس تھا کہ انہیں گھر بیٹھے سکون سے آزاد ی مل گئی ہے لہٰذا انہوں نے اپنے معاشرے کی زمین میں اس فخر کو ایک پنیری کی طرح بو دیا۔ جبکہ ہمیں پہلے دن سے ہی اپنی جغرافیائی حدود کے تنازعے، اس میں شامل ہونے والی طے شدہ ریاستوں میں ہندو جبر، نئے معاشرہ کی تشکیل، علیحدہ سماجی وراثت کا انتقال، معاشی بدحالی، ہجرت کا غم، ماس لیول پر مہاجروں کی زبوں حالی اور اسکے نفسیاتی اثرات اور مغرب و مشرق میں دو حصوں پر مشتمل ومنقسم ریاست میں لسانی مسائل سے دوچار ہونا پڑ گیا۔ ہم بدقسمتی سے اپنے ابتدائی دنوں میں لیڈروں سے محروم ہونے اور آ ئین کے نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی و سماجی ارتکازِ عمل کے بحران، گونا گوں عقائد کی فقہی و لسانی تقسیم کا شکار ہو گئے۔ یہی وہ پسِ منظر تھا جس کی وجہ سے ہم بجائے معروف جمہوری طریقے اور عمرانی اصولوں پر مبنی سماجی تشکیل کرتے ہم خود رو معاشرتی و سماجی و مذہبی بگاڑ کی طرف نکل پڑے۔

یہ وہ بڑے چیلنجز تھے جن سے اُس عہد کے ادیب کو واسطہ پڑا۔ لیکن یہاں یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ عصری عہد میں ادیب کو کن مبارزت طلب موضوعات کا سامنا ہے۔ کیا وہ کماحقہ اس بارِ کفالت سے نبرد آزما بھی ہے کہ نہیں۔ ادب اگر زندگی ہے تو کیا آج کی زندگی کے ہمارے سماجی و تہذیبی و سیاسی مسائل وہی ہیں جو عالمی سطح پر محسوس کئے جا رہے ہیں۔ کیا انسان اپنی حقیقی و فطری عمرانی طرزِ معاشرت کو پا چکا ہے، یا ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے؟ کیا سائنس کی دنیا اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سرخ رو ہوتے ہوئے، تمام مذاہب کے سامنے سر بسجود ہوتے ہوئے، منطق اور فلسفے کے تمام مروجہ اصول سامنے رکھتے ہوئے کیا وہ مکمل انسان بن چکا ہے؟ ان سوالات کے جواب اتنے آسان نہیں ہیں۔

ابھی جب انسان آزاد ہی نہیں، وہ زمانوں اور صدیوں کے ارتقائی عمل سے گزرنے کے باوجود مہا بیانیوں اور ان کے ذہن سازی اور عقائد کے چنگل سے نہیں نکل سکا، اور بنیادی انسانی حقیقتیں ابھی واشگاف الفاظ میں اس پر عیاں نہیں ہو سکیں تو ادیب کہاں ٹھہرے گا؟ اسی لئے حقیقت کو پا لینے کے لئے فلسفہ اور ادب کا تسلسل سے سہارا لیا جاتا ہے۔ نظریات کی آبیاری کرتے ہوئے اسکے بہترین پہلوؤں کو اپنایا جاتا ہے اور ان کے غیر مرئی منفی پہلوؤں کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں لکھنے والے گو سچائی اور موجودات کا منظر پیش کر رہے ہیں، تاہم ان میں عالمی بورژوائی اور سامراجیت کا مقابلہ کرنے کی سکت روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے چندے کچھ ادیب ایسے ہیں جو ان منفی رحجانات کے باوجود قابلِ فخر ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ اپنے فن پاروں میں انسانی اور معاشرتی مسائل کو سامنے لا رہے ہیں اور اپنے مضامین میں کسی حد تک ممکنہ حل بھی پیش کرتے ہیں۔

بدقستی یہ رہی کہ پاکستان بننے کے بعد کا اولین دور سیاسی ابتری کا دور رہا۔ سیاسی لیڈر شپ منقسم رہی اور آئین سازی کا کام ہو نہ سکا۔ جس کی وجہ سے معاشرتی اٹھان اور اس کے تزویراتی و اخلاقی اور عمرانی جوہر کی طرف کوئی توجہ ہی نہ دے سکا۔ پاکستان میں ہجرت کرکے آنے والے چند جید ادباء ترقی پسند تحریک کے عَلم تلے جمع تھے لیکن انہیں بولنے سے منع کر دیا گیا اور یک طرفہ طور ان ادیبوں کو سامنے لایا گیاجو کسی حد تک رجعت اور انتہا پسندی کو اپنے فکری آدرش کا منبع سمجھتے تھے۔ میں کسی حد تک ان ادباء کی تحاریر سے بھی فیض یاب رہا لیکن بوجہ متفق نہ ہو پایا۔ مملکت اور ریاست کی کمزوری کو اساطیری داستانوں سے مماثلت رکھتے ہوئے ایسے ادب کو تخلیق کیا گیا جہاں خطے کی پر امن تہذیبی و ثقافتی روایات کے برعکس تلوار بردار ہیرو ورشپ کو مہمیز دی گئی۔

اتفاق یہ ہوا کہ ابھی ہم ۶۵ کی جنگ کے اثرات سے ہی نہیں نکلے تھے کہ ایک اور سیاسی غلغلہ مچا اور مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا۔ نئے پاکستان کی اب آئینی حدود تو متعین ہو گئیں لیکن مسائل وہی رہے اور پھرسرد جنگ کے بعد
یو ایس ایس آر، افغانستان میں اتر آیا۔ ان حالات میں ملکی سطح پر ظلم و جبر اور انتہاپسندی کا پہلے سے رائج استبدادی رویہ مزید توانا ہوگیا۔ جس کے منفی اور دیرپا اثرات نے سماج میں عوامی سطح پر اپنی جڑیں مزید مضبوط کر لیں جنہیں ہم تاحال بھگت رہے ہیں۔

ایسے جبر و استبداد کی صورتِ حال میں جہاں ان دھائیوں میں پہلے سے ہی ترقی پسند ادیبوں کو مٹانے کی ایک وسیع تر کوشش حکومتی سطح پر رہی، علامتی ادب کو جو پہلے سے ہی ساٹھ کی دھائی سے معرضِ وجود میں آ چکا تھا، مزید فروغ ملتا گیا۔ یہ علامتی اور کسی حد تک مزاحمتی ادب ایک مخصوص ادبی و عوامی شہری حلقے میں تو کامیابی کے جھنڈے گاڑتا رہا، لیکن ملک گیر دیہی اور عوامی سطح پر تعلیم کی کمی کی وجہ سے اسے وہ پذیرائی نہ مل سکی جو حقیقتاً سماج میں فکری سطح پر روشن خیالی کے ساتھ ساتھ اسکی تعلیمی و فکری افزودگی کا باعث بنتی۔

ایک طرف ملکی سطح پر ادب و ادیبوں کی یہ صورتِ حال تھی، تو دوسری طرف ہم نے پھیلی ہوئی توہم پرستی، فرقہ وارانہ مذہبی عقائد اور انتہا پسندی کو ریاستی سطح پر اس قدر قوت بخش دی، اور حاصل کر دہ طاغوتی قوتوں کے اثر میں ہم نے طارمِ اعلیٰ کو نہ صرف چھو لینے کا اہتمام کر لیا، بلکہ ہم نے اپنے تخلیق کردہ خداؤں کی شبیہ تک طشت از بام کردی۔ ہم نے مخلوق ہوتے ہوئے اپنے خالق کو بیچ دیا، اور اس سے کئی ایک نئے خدا خرید کر اپنی اپنی چاندنی بچھائے سِکوں کی بارش کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ منافقت کے بازار سرگرم کر دیئے۔ سستے داموں کی آڑ میں جھوٹ سے لبریز تھیلے بانٹے جانے لگے۔ شعر و ادب اور میڈیا پروپیگنڈا کے نام پر کمزور اور پلپلاتی تحاریر ہمارا خاصہ بنیں اور منقسم فقہی عقیدوں کے کوئلوں پر بھُنی ہوئی لاشیں ہمارا کاروبار بنیں۔ اور ہم نے طے کر دیا کہ اب کوئی بھی مر سکتا ہے۔

لیکن! الوہی کائناتی نظام اپنے فطری سطح سے کم پر کبھی راضی نہیں ہوتا۔ یوں تبدیلی کی راہیں ہموار ہوتی رہیں، لیکن تغیر اپنے آفاقی راستے خود نکالتا رہا اور یوں قیاس و امکان سے گمان اور پھر گمان سے یقین تک کا سفر جاری رہا۔ آج ادب اپنے روایتی مدار سے نکل کر جدید عالمی کیفیات سے اتصال کر رہا ہے۔ جدیدیت اور مابعد جدیدت کی کیفیات انسانی ارتقائی تقاضوں پر اترنے کی کوشش میں برسر پیکار ہیں، اسی تناظر میں ہم اگر اپنے معاشرے کو پرکھیں گے تو بہت سے معاملات میں یہ کہنا پڑے گا کہ گو ہم صنعتی انقلاب کی طرف گامزن ہیں لیکن عقلیت کی بنیاد پر کئے فیصلے ابھی اپنی مروجہ روایات کے پابند نظر آتے ہیں اور یہی اثرات ہمارے ادبی رحجانات پر بھی ہیں۔

میں ادبی نامیاتی جوہر کے عناصر میں توازن کا قائل ہوں روایت سے ترقی پسندی اور پھر جدیدیت ایک مسلمہ حقیقی ارتقائی ادبی سفر ہے جس سے کسی صاحبِ علم و دانش کو انکار نہیں۔ اسی لئے عرض کرتا ہوں کہ عصرِحاضر کے ادیب کو اب اپنے روایتی مدار سے نکلنا ہوگا۔ ریاست میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی ترویج کے لئے ایک مکمل علمی و سائنسی انفرا سٹکچر کا ہونا لازم ہے۔ تمام علوم اور فنون کا مقصد صرف اور صرف انسان اور انسانیت کی ترقی و بھلائی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس حد تک اِن علوم و فنون کی روح کو اس جاں بَلب اخلاقی اقدار سے پیچھے ہٹتے معاشرے میں دوبارہ پھونک سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ غور طلب بات یہ ہے کہ فنون لطیفہ کی تمام اصناف جو انسانی زندگی اور اسے سے جڑت رکھتے ہوئے سماج سے تعلق رکھتی ہیں، کو اس طرح سے تجسیم کیا جائے کہ ان کے براہِ راست اثرات سماجی زندگی کے ماضی میں نظر انداز کئے گئے لیکن توجہ طلب پہلوؤں کا احاطہ کر سکیں تاکہ نفسیاتی طور پر ایک انقلابی تبدیلی کے ساتھ متوازن سماج کو جنم دیا جا سکے۔ آرٹ و کلچر پنپنے کا سامان پیدا کیا جائے۔ ادبی تقریبات کا تسلسل سے اہتمام کیا جانا ضروری ہے، اور نوجوان نسل کی ادبی اور نیم ادبی کاوشوں کو سامنے لایا جائے تاکہ اعتماد کی فضا قائم ہو سکے۔

معاشرہ متوازن رکھنے کے لئے ہر ریاستی اکائی کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا پڑتا ہے۔ ادیب صرف ایک اکائی ہے پورا معاشرہ نہیں مگر ادب اس معاشرے کی وہ پہچان ہے، جس سے ادیب کے کردار کی ذاتی رونمائی بھی ہوتی ہے۔ تاہم ادیب صرف لٹمس ٹیسٹ ہی ہوتے ہیں مرض کا سراغ لگا سکتے ہیں۔ دراصل کوئی بھی شاعر یا ادیب واعظ ہوتا ہے نا پروہت۔ ملاٗ ہوتا ہے اور نہ ہی سوشل ورکر کہ وہ معاشرہ سدھار عمل میں عملی طور پر کنٹریبیوٹ کرے۔ اسکی تخلیقات ہی دراصل اس کا سارا کام ہوتی ہیں جسے وہ سماج کے سامنے لاتا ہے۔ وہ اپنے فن پاروں سے سماجی، معاشرتی، ثقافتی اور لسانی برائیوں یا ان سے منسلک مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہے یا نشان دہی کرتا ہے جسے عمومی طور پر لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے دیکھ نہیں پاتے یا اس قدر گہرائی تک نہیں پہنچتے جتنا ایک ادیب اپنے فکری و علمی سطح پر سوچتا ہے۔ کسی بھی ادیب کی یہ بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ اس کے شہ پارے اپنے اثرات کو تادیر انسانی ذہن میں نقش کر دیں۔ ادیب کا مکمل سچ، زندگی کی حساسیت سے آراستہ آفاقیت اور فطری تقاضوں کو اپنے الفاظ میں کہہ دینا ہی اثر انگیزی رکھتا ہے اور یہی ادب کہلاتا ہے۔

عالمی سطح پر تو پہلے سے ہی ’’متوازن عالمی سماج ‘‘ کے چیدہ چیدہ اجزاء سے روگردانی کی جارہی ہے جس کے اثرات ہم تک تواتر سے پہنچ رہے ہیں۔ نئی صدی کے آغاز میں ہی نائن الیون کے واقعے سے متشددانہ رویوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مغرب کی ترقی کا مکمل دار و مدار اکیسویں صدی میں اسکی نشاۃ ثانیہ میں پنہاں ہے کہ ترقی پسند نظریات کے تحت جو انسان اس کے اند آ چکا ہے اسے نکال باہر کر دینا چاہتا ہے ورنہ معاشی استعماریت کا میدان کم پڑ جائے گا کیونکہ اسے انسان سے زیادہ صارف چاہئے۔

عالمی طور پر فریڈم آف سپیچ کے نام پر انتہا پسندی کی تالیف ( کارٹون فلاسفی) عالمی سیاست میں ’’ دیکھو اور انتظار کرو ‘‘ مشرقِ وسطی میں جنگ کے نئے میدان، غرض کہ ہر سطح پر معاشی اور روایتی تہذیبی جنگوں جیسا ماحول بنا کر ایک سوچا سمجھا انتشار پھیلایا جا رہا ہے جس کے اثرات تیسری دنیا کے معاشروں پر قدرے زیادہ ہیں۔ عالمی سرمایہ دار ایک نئی قسم کی معاشی استعماریت کے تحت ان تمام نظریات کو رد کر رہا ہے جس میں امن، سکون و شانتی پنہاں ہو اور انسان سب سے پہلے ہو۔ اور تو اور وہ ممکنہ طور پر مابعد جدیدیت کی نت نئی تھیوریز اور کیفیات کے ذریعے ان تمام لٹریری لوپ ہولز کو بھی پلگ کر رہا ہے جہاں جہاں سے اسے مزاحمت کی توقع ہے۔

ایسے حالات میں ہمارے ادیب کی ذمہ داریاں انتہائی نازک موڑ پر متواز ن فہم کی متقاضی ہیں۔ دجلہ و نیل و سندھ کے کنارے جنم لینے والی جادوئی تہذیبوں کے مغرب سے آمدہ جدید فکری سوچوں کے اتصال میں ہم نے اپنی نئی نسل کو ایسے طرز احساس اور فکر و خیال کا مجموعہ دینا ہے جہاں وہ عالمی سطح کے چیلینجز کا سامنا بھی کر سکے اور اپنی تمدنی و تہذیبی اقدار کا پاسبان بھی ہو۔ چنانچہ ایسی تخلیقات اور مباحث کے مواقعوں کی از حد ضرورت ہے جہاں نوجوان نسل اپنی پوری نمائندگی کے ساتھ حاضر ہو اور اپنے خیالات کا اظہار بلا روک ٹوک کر سکے۔ ہاں البتہ تخلیق کے وقت ادیب کو یہ حقیقت مدِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس میں مکمل سچ ہو کیونکہ مکمل سچ ہی اس کے آدرش کو جِلا بخشے گا ورنہ وہ تحریر بر آب ثابت ہوگی۔

ادب اور ادیب کے کردار سے ہٹ کر اپنی گذارشات کے آخر میں، مَیں یہاں کچھ اپنے ملکی ڈیموگرافک حقائق کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ تفصیلات میں جائے بغیر جولائی ۲۰۱۴ میں کی جانے والے سروے کے مطابق ہمارے ہاں زیرو سے پندرہ سال کے بچے تقریباً پوری ملکی آبادی کا چونتیس فیصد ۵۹۵۔۳۳ ملین ہے۔ اس تعداد میں اگر ہم پندرہ سے چوبیس سال تک کے بائیس فیصد بچے اور شامل کر لیں تو مجموعی طور پر یہ تعداد ۴۰۰۔۵۵ ملین ہے ۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انکی تعلیمی سرگرمیوں کا احیاٗ کیا ہم کر پائے ہیں ؟ تعلیم کے بغیر ہم اس پوری نسل کو ورثہ میں کیا دے رہے ہیں۔ جنگ اور جرم کے بازار کے وہ اوزار جن سے وہ اپنے ملکی اور عالمی امن کو پامال کریں۔
دوسری بات قوم کے ان نونہالوں کے لئے کیا کسی ادیب کی بھی کوئی ذمہ داری ہے؟ کیا ہم بچوں کا ادب تخلیق کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی ادبی سرگرمیوں میں نئی نسل کی علمی و فکری روئیدگی کا سامان پیدا کر رہے ہیں۔ ہم کیا ایسا ادب تخلیق کر رہے ہیں جو نوجوان نسل دل چسپی سے پڑھے۔ کیا اس کے عہد کی وہ سائنسی اور کائناتی حقیقتوں کا منظر نامہ لکھا جا رہا ہے؟

آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آرٹ و کلچر ایک ایسا وصف ہے
جسے بچہ ماں کی گود سے لوری کے ساتھ وصول کرتا ہے۔ ساری زندگی اس لوری سناتی کہانی کے ساتھ رومانس میں اپنی زندگی گزارتا ہے اور پھر مرتے ہوئے اسے نئی نسل کو سونپ کر آگے نکل جاتا ہے۔ ہم نے اس انسانی سلیقہ، جوہر اور کمال ہنر کو انجانے میں جرم و تشدد کے بازار میں کہیں بیچ دیا ہے۔ کیا ہم اس سلیقہ اور کمالِ ہنر کو دوبارہ گھر لا سکتے ہیں۔ میرا یہ سوال ان معروف تعلیمی، ریاستی اور نجی اداروں سے ہے جو علم کی روشن قندیلوں کو اپنے صحنِ چمن میں سجائے درد دل کا درماں لئے بیٹھے ہیں۔

About نعیم بیگ 144 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔