سچ کہنے کی مشکلات

لکھاری کی تصویر
ارشد معراج

سچ کہنے کی مشکلات

از، ارشد معراج

آزادئ اظہار کا اُصول نئے معاشرہ کا اُصول ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو اسی اصول کی مدد سے ہم ’’شاہی‘‘ زمانہ سے ’’جمہوری‘‘ میں داخل ہوئے ہیں۔ بظاہر معمولی سے دو لفظوں کے ردّوبدل سے ہماری زمین اور آسمان کس طرح بدل گئے۔ اس کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں رہا۔ جمہوری نظامِ ملک کے تمام پرانے اداروں کی موت تھا۔ حکومت یا معاشرے کا اجتماعی نظام کے بارے میں بنیادی تصوّر بدل جائے تو گھر کا نظام اپنے آپ بدل جاتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں ’’بادشاہ‘‘ معزول ہوتا ہے اور گھر میں ’’باپ‘‘ کی حکومت بھی اپنے آپ ختم ہو جاتی ہے۔ ریاستی جبر کے خلاف ڈاکٹر سلیم اختر سارتر کے نقطۂ نظر کو یوں بیان کرتے ہیں:
سارتر جس بے باکی سے حکومت کو ہدفِ تنقید بناتا رہا وہ بھی سب پر عیاں ہے اور اِس تنقید کے معاملے کتنا بے باک بلکہ تلخ تھا۔ اس سے بھی سب آگاہ ہیں حتیٰ کہ اُس نے نوبل پرائز لینے سے انکار کر دیا تو یہ الجزائر پر اپنے مؤقف کی بنا پر تھا۔ الجزائر کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی سے اِس دہریہ ادیب کی اس شدید دلچسپی سے جہاں اس کی انسان دوستی کا ثبوت ہے وہاں انعام نہ لینے سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ وہ دل کا کتنا غنی تھا۔
بریخت نے بھی انسانی حقوق کے حوالے سے فاشزم کی مخالفت کی ہے۔ وہ شخصیت پرستی کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ جن معاشروں میں شخصیتیں چھاجاتی ہیں۔ وہاں لوگوں کی تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔ جس طرح ایک چھاؤں دار درخت کے نیچے اور کوئی پودا یا درخت سرسبز نہیں رہتا یہی صورت حال عظیم شخصیتوں کی تشکیل سے ہوتی ہے۔ بریخت ’’سچ کہنے کی پانچ مشکلات‘‘ میں کہتے ہیں:
آج کے زمانہ میں اگر کوئی جھوٹ اور جہالت کے خلاف جہاد کرنا چاہتا ہے اور سچ لکھنا چاہتا ہے تو اسے کم از کم پانچ مشکلات پر قابو پانا ہو گا۔ اس کے لیے لازمی ہو گا کہ جرأت مند ہو تاکہ سچ لکھ سکے اور کسی کے دباؤ میں نہیں آئے۔ ہوشیار ہو تاکہ اپنی بات خوبصورتی سے کہہ سکے۔ فن میں ماہر ہو، اپنے فیصلے کا اظہار اس طرح کرے کہ جو مؤثر ہو، اس میں چالاکی بھی ہو کہ سچ کہے اور پکڑا نہ جائے۔ سچ کہنے کی یہ پانچ مشکلات فاشسٹ حکومتوں میں بہت زیادہ ہوتی ہیں خاص طور پر اُن کے لئے جو ان حکومتوں کے اندر رہتے ہیں حالانکہ وہ جلاوطن ہیں یا ملک سے بھاگے ہوئے ہیں۔ انھیں بھی اِن مشکلات سے سابقہ پڑتا ہے بلکہ وہ لوگ بھی اس سے دو چار ہوتے ہیں جو کہ نام نہاد بورژوا آزادی والے ملکوں میں رہتے ہیں۔
جو شخص آزادئ اظہار کو اپنا ناچاہتا ہے وہ نہ تو کسی کے دباؤ میں آنا پسند کرتا ہے اور نہ ہی خاموش رہنا اور نہ ہی وہ جھوٹ بات کہنا چاہتا ہے اس لئے سچ کہنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ نہ سوچے کہ اپنے سچ سے صرف طاقتور کو جھکائے، بلکہ یہ سوچے کہ اپنے عمل سے کمزور کو دھوکہ نہ دے۔ اس طرح جرات کے ساتھ نچلے طبقوں کی بات کرے اور ان کی محرومیوں کو سامنے لے کر آئے۔ بریخت کا کہنا ہے:
سچائی کو لکھنے کے لئے صرف جرأ ت ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ ایک اور چیز جو بہت ضروری ہے وہ یہ کہ سچائی کو کس طرح سے تلاش کیا جائے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ سچائی کو پانا کوئی سہل کام نہیں ہے دوسرے یہ بھی کوئی آسان بات نہیں کہ اِس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ کون سا سچ ایسا ہے جس کو بیان کیا جائے اور جس کے بیان کرنے سے کچھ فائدہ ہو گا مثلاً یہ تو سب کو معلوم ہے کہ کس طرح دنیا کی بڑی بڑی مہذب ریاستیں وحشی قبیلوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں اور ختم ہو گئیں اور یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ خانہ جنگی جو مہلک ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہے ، اپنے پیچھے انتشار اور لاتعداد مسائل چھوڑ جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سچائی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی اور سچائیاں ہیں مثلاً یہ کہ کرسی کی سطح برابر ہوتی ہے اور یہ کہ بارش اوپر سے نیچے کی جانب ہوتی ہے۔ اکثر شاعر اسی قسم کی سچائی لکھتے ہیں اور یہی حال آرٹسٹوں کا ہے جو ایک ڈوبتے ہوئے جہاز کی تصویر بناتے ہیں اور اپنے عمل سے طاقتوروں کو ناراض نہیں کرتے اور یہی لوگ اپنی تصویریں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں لیکن ظاہر ہے یہ لوگ سچائی کو نہیں پا سکتے۔
ایسے لوگ بھی ہیں جو نہ تو طاقتور سے ڈرتے ہیں، اور نہ غربت و مفلسی سے خوف کھاتے ہیں لیکن اس کے باوجود سچائی کو نہیں پاسکتے۔ دراصل ان میں علم کی کمی ہوتی ہے اور یہ قدیم توہمات میں گرفتار رہتے ہیں ان کے لئے دنیا ایک پیچیدہ چیز ہوتی ہے اس لئے نہ تو وہ واقعات سے واقف ہوتے ہیں اور نہ اِن کے باہمی اثرات سے اس لئے اس وقت کے تمام لکھنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ زمانہ کی تبدیلی، مادی، جدلیاتی عمل، معاشیات اور تاریخ سے واقف ہوں جو کتابوں اور عملی تجربات سے سیکھتا ہے وہی کئی سچائیوں کو اُجاگر کر سکتا ہے۔
سچائی کے لئے ضروری ہے کہ اسے لکھنے اور پڑھنے والا دونوں ہی پہچان سکیں۔ اگر کوئی سچ بولے، تو سچ سننے والے بھی موجود ہونے چاہئیں اس لئے لکھنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ دیکھیں کہ وہ کس کے لئے لکھ رہے ہیں۔ ہمیں خراب صورت حال پر اس وقت لکھنا چاہیے جب ہمیں اُس کا تجربہ ہو اور ان لوگوں کو مخاطب کیا جائے جو مسائل سے گھرے ہوئے ہوں۔سچائی جنگ لڑنے والی چیز ہے کیونکہ یہ نہ صرف جھوٹ کیخلاف لڑتی ہے بلکہ ان انسانوں کیخلاف بھی جو جھوٹ پھیلاتے ہیں۔ بریخت لکھتے ہیں’’جب سچائی کو دبایا اور چھپایا جاتا ہے تو اسے بیان کرنے کے لئے چالاکی کی ضرورت ہوتی ہے۔ الفاظ کا صحیح استعمال سچائی کو ظاہر کرتا ہے اور جھوٹ کا پردہ چاک کرتا ہے۔‘‘
اس سلسلے میں بریخت مثالیں دیتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں جب عوام (Folks) کی جگہ قوم اور زمین کی جگہ جائیداد کی اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں تو یہ گمراہی کی جانب لے جاتی ہیں کیونکہ لفظ عوام ایک اتحاد اور اکائی کی علامت ہے اور اجتماعی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے جب کہ قومیں ایک ہی ملک میں کئی ہوتیں ہیں اور اُن کے مفادات بھی ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے ہیں اور یہ سچائی ہے کہ جسے چھپایا جاتا ہے اسی طرح جب زمین کی خوشبو کی بات کی جاتی ہے تو یہ حکمرانو ں کا جھوٹ ہوتا ہے کیونکہ اس میں عوام کی محبت شامل نہیں ہوتی بلکہ اس سے مراد اناج کی قیمت اور محنت کی قیمت ہوتی ہے جو زمین کی محنت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ لوگ ہیں جو خود اناج پیدا نہیں کرسکتے اور زمین کی خوشبو ان کے پہیوں کے مقابلے میں دب جاتی ہے اور وہ اس خوشبو کی بجائے کچھ اور ہی سونگھتے ہیں اس لیے زمین کے بجائے جائیداد یا قبضہ زمین صحیح لفظ ہے کیونکہ اس سے آدمی کو دھوکہ نہیں ہوتا۔ ان ملکوں میں جہاں آمرانہ طرزِ حکومت ہو وہاں ’تنظیم‘ کی جگہ ’فرماں برداری‘ لکھنا چاہیے کیونکہ تنظیم تو بغیر حکمران کے بھی ممکن ہے۔ لکھنے والا الفاظ کی تبدیلی کے ذریعے بہ آسانی اپنی بات کہہ سکتا ہے مثلاً انگلستان کے ٹامس مور نے ایک ایسی یوٹوپیا کا نقشہ کھینچا کہ جہاں انصاف کا دور دورہ تھا اور وہ اس سرزمین سے مختلف تھی جہاں وہ رہ رہا تھا لیکن حالات کے لحاظ سے وہ اس سے ملتی جلتی تھی۔ لینن جِسے زار کی پولیس نے تنگ کر رکھا تھا اس نے روسی بورژوا استحصال اور ظلم کو جو انھوں نے جزیرہ زخالین میں کر رکھا تھا، اس طرح بیان کیا کہ اس نے روس کی جگہ ’’جاپان‘‘ اور زخالین کی جگہ ’’کوریا‘‘ لکھا اور پڑھنے والوں کو جاپانی نظام میں روسی استحصالی طریقے نظر آئے جو وہ زخالین میں استعمال کر رہے تھے۔ یہ تحریر ممنوع قرار نہیں دی گئی کیونکہ اس وقت جاپان روس کا دشمن تھا اس لئے جو بات جرمنی میں رہتے ہوئے جرمنی کے بارے میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ وہ بات آسٹریا کے بارے میں لکھ کر کی جاسکتی ہے۔ والیٹر نے چرچ اور اعتقادات اور معجزوں کے خلاف جنگ لڑی، لینن نے ایک نوجوان خاتون پر نظم لکھی اور اس معجزہ کا ذکر کیا کہ یوہانا فوجیوں اور راہبوں کے درمیان ایک مدت رہی اور اس کے باوجود وہ کنواری کی کنواری رہی۔ شیکسپیئر کے ہاں بھی چالاکی کا ایک نمونہ ہم اس تقریر میں دیکھتے ہیں جو انطونیو نے سیزر کی لاش پر کی۔ وہ بار بار اس بات کو دہراتا ہے کہ سیزر کا قاتل ’’بروٹس‘‘ ایک قابلِ احترام شخص ہے لیکن پھر وہ اس قتل کے عمل کو بھی دہراتا ہے اور اس کا یہ بیان مؤثر ہوتا ہے۔ ایک مصری شاعر نے جو چار ہزار سال قبل گزار ہے، سچ کہنے کے لئے اس نے بھی اس قسم کے طریقے استعمال کئے تھے۔ اس کا دور طبقاتی کشمکش کا اہم دور تھا اور حکمران عوامی طبقے عوامی دباؤ میں آئے ہوئے تھے اس موقع پر دربار میں ایک دانش مند آتا ہے اور حکمران اور امراء کے سامنے اندرونی دشمنوں اور خطرات سے انہیں آگاہ کرتا ہے، اپنے طویل بیان میں وہ اس بے چینی کا ذکر کرتا ہے جو نچلے طبقوں میں پائی جاتی تھی۔ اس کا بیان اس قسم کا ہے اور یہ اس طرح ہے کہ اونچے لوگ شکایتیں کر رہے ہیں جب کہ نچلے طبقوں کے لوگ خوشی سے بھرپور ہیں۔ ہر شخص یہ کہتا ہے کہ ہم اپنے شہر کے طاقتوروں کو نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔
ہم ان پانچ مشکلات کو بریخت کے مطابق ایک مقصد کے لئے استعمال کریں، اور سچائی کو اس انداز میں کہیں کہ دشمن اسے نہ پا سکے اور سچ کہنے والے کو نہ روک سکے۔
انسانی سماج میں خواہ وہ قدیم دور ہو یا جدید انسان کے بے شمار حقوق میں آزادئ اظہار کا حق سب سے زیادہ اہمیت کاحامل رہاہے۔ قدیم تہذیبوں میں اس اہم مسئلہ کی طرف کم توجہ کی گئی ہے مگر جدید عہد میں اس امر کی ضرورت کو خاص طور پر محسوس کیاگیا اور ’’انسانی حقوق کااعلامیہ‘‘ اور ’’آئین پاکستان‘‘ میں آزادئ اظہار کے حوالے سے تفصلاً درج کیاگیا۔اس سلسلہ میں جو قوانین مرتب کیے گئے ان میں اقلیت کی آواز اور انفرادی رائے کی اہمیت پر زور دیاگیا اور ریاستی جبر اور سماجی و معاشرتی دباؤ کی مذمت کی گئی ہے لہذا یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آزادئ اظہار فرد کا بنیادی اور ناقابل انتقال حق ہے۔

3 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.