ٹشو پیپر

ٹشو پیپر

ٹشو پیپر

انشائیہ از، عبدالواجد تبسم

ٹشو پیپر بظاہر ایک نرم و نازک لطیف کاغذ کا ٹکڑا ہے اور اس کی اپنی اپنی صورتیں ہیں: بعض کثیف، بعض نرم، بعض نرم و نازک، بعض اتنے لطیف کے لطافت کا احساس ہر لمحے رہے، بعض مُعَطر کہ ان کے عِطر سے ایک احساس دل و دماغ میں بسا رہتا ہے؛ بلکہ ہر لمحے ساتھ رکھنے کو دل کرتا ہے تاکہ لطف کا احساس باقی رہے اور مشام جاں معطر رہے۔ مگر کب تک؟

یہ عارضی عِطر انسان کو تسکین دے سکتا ہے۔ آخر ایک دن انسان اس کی افادیت کے ختم ہونے کے بعد اُسے خود سے جدا کر ہی دیتا ہے، پھر وہی نرم و نازک کاغذ کا پُرزہ کسی گورے کی رونق بن جاتا ہے اور بیچارہ  غریب انسان کے جس نے کبھی ایسا لطیف کاغذ نہیں دیکھا ہوتا، اُمرا کے ہاتھوں سے آلودہ اس کاغذ کےٹکرے کی گورے میں رونق دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے، اور اگر ذرا صاف نظر آ جائے تو اٹھا بھی لیتا ہے۔

مگر یہ  رونق بھی چند روز سے  زیادہ کی نہیں ہوتی۔ اسے بھی آخر ایک دن اسے پھینکنا ہوتا ہے۔ کچھ روز کی بات ہے۔ پھر اس کی رنگینی اور لطافت کا فریب نظر کو مسحور نہیں کرتا بلکہ خاک میں مل کر خاک ہو جاتا ہے۔

ٹشو پیپر کیا ہے؟ انسانی سوچ کا عکاس کہ اس نے  اپنی تسکین کے لیے ایک بے جان سے کاغذ میں بھی جان ڈال کر  اپنے لیے راحت و سکون کا سامان کر دیا ہے۔

انسان کے بھی بظاہر کچھ ایسے ہی درجے ہیں۔ بعض لطیف احساس رکھنے والے، بعض کثیف، بعض کھردرے؛ بعض بظاہر نرم و نازک اندر سے سخت، بعض بظاہر سخت، مگر اندر سے نرم و نازک۔ بعض بظاہر نرم خو مگر اندر سے  درشت۔ بعض بظاہر شریف ونجیب مگر اندر سے وحشی۔ غر ض انسان کا ہر رنگ اپنا ہے۔

انسان جو بھی ہو اسے اپنے رنگ میں ہونا چاہیے کیوں کہ عارضی لبادہ کسی وقت بھی اتر سکتا ہے اور بھر اس کی عریانی کو کوئی لباس ڈھانپ نہیں سکتا، مگر یہ بات ہر ایک کی سمجھ سے باہر ہے اور اسی نے انسان  کی اتنی صورتیں پیدا کر دی ہیں کہ انھیں کسی درجہ بندی میں نہیں رکھاجا سکتا۔ اگر کریں بھی تو کچھ پتا نہیں کہ انسان کب اس درجہ سے نکل جائے اور آپ کا فلسفہ دھرے کا دھرا رہ جائے کیونکہ انسان سے زیادہ پیچیدہ مخلوق کوئی نہیں۔

مگر بعض انسان بعض اوقات اتنے کم مایا ہو جاتے ہیں کہ ہم انھیں ٹشو پیپر سے بھی کم تر درجے  پر رکھتے ہیں، یہ جاننے کے باوجود کہ یہ انسان ہے۔ اس سے تعلق تو در کنار ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتے اور اگر ملاتے بھی ہیں تو ہمیں اس بات کا افسوس رہتا ہے کہ ہمارا ایک قیمتی ٹشو پیپر ضائع ہو جائے گا۔ اسے اگر ملانا پڑ ہی جائے تو مقصد کوئی منفعت ہوا کرتی ہے۔ اور اس کے پسینے کی بد بو کو خوشبو میں بدلنا مقصود ہوا کرتا ہے، یا اس کے خون دل سے اپنے تن بدن کی آبیاری کرنا ہوتی ہے، پھر خواہ کتنے ہی ٹشو پیپر ضائع کیوں نہ ہو جائیں ہمیں  فکر نہیں ہوتی۔

جس سے ہاتھ ملایا جا رہا ہوتا ہے وہ بھی اس پر اتراتا پھرتا ہے، اور اس بیچارے کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ اس کی اہمیت کسی صاحب کی جیب میں پڑے ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں ہے۔ اس  کی جب تک ضرورت ہے استعمال ہو گا اور پھر پھینک دیا جائے گا۔ مگروہ نہایت سادگی سے اپنا سب کچھ گنواتا رہتا ہے۔ جب پھینک دیا جاتا ہے تو پھر اسے اپنی اوقات پتا چل جاتی ہے۔

بعض انسان، بظاہر ان کی کوئی حیثیت نہ بھی ہو، مگر بعض اوقات ہمارے لیے اتنا اہم  ہو جاتا ہے کہ ہم اس سے تعلق رکھنا باعثِ شان سمجھتے ہیں؛ ہماری اس سے قرابت داری ہو جاتی ہے؛ ہمارا شجرہ اس سے ملنا شروع ہو جاتا ہے؛ ہم سوچنا بھی اسی طرح شروع کر دیتے ہیں جیسے وہ سوچتا ہے؛ ہم بولنا بھی اسی طرح شروع کر دیتے ہیں جیسے وہ بولتا ہے؛ ہمارا دل و دماغ، خواب، تصورات اس کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔

وہ سمجھتا ہے کہ یہ سب میرے ہیں اور اگر میں چاہوں  تو دنیا بدل دوں بس ایک اشارے کی دیر ہے مگر اسے کیا پتا کہ یہ سب ٹشو پیپر ہیں  جو اپنے اپنے مفاد کے لیے اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اور ہر کوئی اپنی اپنی جگہ استعمال ہو کے گورے کی رونق میں اضافہ کر رہا ہے۔ جس  کی اہمیت تھی ختم ہو نے کے بعد اس کی حیثیت بھی ایسی ہی ہو جائے گی۔

دنیا فانی ہے۔ سب خاک ہو جانا  ہے، مٹ جاناہے، کچھ بھی تو نہیں رہنا۔ پھر عارضی تعلق کو نبھانا، جوڑنا اور توڑنے کا  کیا فائدہ۔ تعلق وہی زندہ رہتا ہے جو زمانے کے سرد و گرم سے آزاد ہو۔ جس پر وقت کی رو اثر انداز نہ ہو۔ جو زمانوں کی قید سے آزاد ہو۔ جس پر موسمی تغیر و تبدل اثر انداز نہ ہوں۔ جو سرو کے مانند تر و تازہ ہو اور ہر رُت میں کھڑا رہے۔

یہ وہ تعلق ہے جو  انسان کی ذات سے ہوتا ہے۔ خون دل اس کی آبیاری کرتا ہے اور اسے تر و تازہ رکھتا ہے پھر کسی ٹشو پیپر کی ضرورت نہیں پیش آتی بلکہ اس رومال کی ضرورت ہوتی ہے جو کبھی آنسو پوچھنےکے لیے، کبھی دامن کے داغ صاف کرنے کے لیے اور کبھی چہرے کی ندامت چھپانے کے لیے جیب سے نکلتا ہے۔ لاکھ میلا بھی ہو جائے تو  کوئی اسے پھینکتا نہیں بلکہ دھو کر صاف ستھرا کر لیتا ہے، اور ہر وقت جیب کی زینت بنا رہتاہ؛ اور کہیں سے گرا پڑا بھی مل جائے تو انسان اسے اٹھا لیتا ہے۔ میلا کچیلا ہے تو کیا ہوا۔ دھونے سے صاف ہو جائے گا اس کے داغوں سے کئی یادیں وابستہ ہوتی ہیں جو ہر لمحے اسے احساس دلاتی رہتی ہیں کہ کوئی تو تھا کہ جس کی اہمیت ٹشو پیپر سے زیادہ تھی۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*