خوشبو، سرسراہٹ اور جل ترنگ

Iftikhar Ahmed aik Rozan writer
افتخار احمد، صاحبِ مضمون

خوشبو، سرسراہٹ اور جل ترنگ

افتخار احمد

چند روز قبل سوشل میڈیا پر محکمہ سیاحت خیبر پختونخواہ کی جانب سے تین پہاڑی مقامات پر کیمپنگ کیبنز کی تصاویر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ٹھنڈیانی، شاران اور بشی گرام کے پرفضا مقامات پر قائم کیے جانے والے یہ کیبن کے پی حکومت کی جانب سے سیاحت کو فروغ دینے کے لیے شروع کی جانے والی مہم کا حصہ ہیں۔ یہ کیبن ہائیکنگ کے شوقین افراد کی ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھ کر بنائے گئے ہیں اور انتہائی معقول کرایہ پر دستیاب ہیں۔

ان کیبنز کو دیکھ کر میں نوجوان ہائیکرز کی خوش قسمتی پر رشک کیے بغیر نہ رہ سکا۔ جنت نظیر وادیوں میں کیمپنگ کے دوران اگر بستر اور صاف چادر جیسی سہولت میسر ہو جائے تو اس سے بہتر کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس سب کے بارے میں پڑھنے کے بعد میں نا جانے کیوں سینتالیس سال پہلے کے پاکستان میں چلا گیا۔

یہ انیس سو انہتر، ستر کی بات ہے، میں اور میرا دوست اعجاز اکرم لاہور سے پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرنے کی خواہش دل میں لیے کاغان ویلی کی جانب روانہ ہوئے۔ ہماری منزل موسیٰ کا مصلیٰ نامی ایک چوٹی تھی جس کے بارے میں سن رکھا تھا کہ وہاں ایک پیر کا مزار ہے۔
بس کے ذریعے لاہور سے ایبٹ آباد پہنچے اور پھر وہاں سے ایک اور بس نے ہمیں مانسہرہ پہنچا دیا۔

جہاں سے ہم ایک جیپ پر سوار ہو کر پارس نامی ایک چھوٹے سے قصبے کی جانب روانہ ہوئے۔ ان دنوں مانسہرہ ۔ ناران روڈ ایک کچی سڑک ہوا کرتی تھی، آج جب میں پختہ سڑک پر فراٹے بھرتی گاڑیوں کو دیکھتا ہو ں تو مجھے اپنا وہ سفر اور بھی طویل معلوم ہوتاہے۔ کئی گھنٹوں کے تھکا دینے والے سفر کے بعد جب ہم پارس نامی قصبے پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہاں بس ایک چائے والا ہوٹل ہی ہے۔

اسی ہوٹل مالک نے ایک چھوٹے سے کمرے میں دو چارپائیاں ڈال رکھی تھیں جو وہ ہم جیسے دیوانے نوجوانوں کو کرایہ پر دیا کرتا تھا۔ رات اس کمرے میں گزار کر ہم صبح سویرے اپنی اگلی منزل شاران کی جانب روانہ ہوئے۔ پارس سے دریائے کنہار عبور کرنے کے بعد کافی چڑھائی کے بعد ہم ایک گائوں بیلہ پہنچے۔ یہاں پر ایک مقامی معزز شخصیت مزمل شاہ کے ڈیرہ پر ایک کپ چائے پی کر ہم پھر سے پیدل چل پڑے۔

سارا دن چلنے کے بعد آخر کار شام کو ہم ایک گھنے جنگل کے درمیان واقع شاران کے یوتھ ہوسٹل پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ اس زمانے میں شاران میں ایک یوتھ ہوسٹل، فارسٹ ریسٹ ہاؤس اور ایک چھوٹی سی دکان کے علاوہ کوئی اور انسانی تعمیرات موجود نہیں تھیں۔ صرف ایک گھنا جنگل جس کے فرش پر خوشبو بکھیرتے رنگ برنگے جنگلی پھولوں کا ایک قالین سا بچھا ہوا تھا۔

یوتھ ہوسٹل کے چوکیدار نے رجسٹر میں اندراج کرنے کے بعد ہمیں سونے کی جگہ دکھا دی، موسیٰ خان نامی چوکیدارنے ہماری مہمان نوازی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سارے دن کے طویل تھکا دینے والے سفر کے بعد مرغی کے سالن اور مسور کی دال سے ہماری تواضع کی اور ساتھ ساتھ ہمیں شاران اور اس سے ملحقہ مانشی دانہ جنگل میں موجود پہاڑی چیتے اور بھورے بھالو کے قصے بھی سناتا رہا۔

سینتالیس سال پہلے پہاڑوں سے محبت کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ پھر تھما نہیں۔ یہ شوق مجھے نہ صرف پاکستان کے شمالی علاقہ جات بلکہ برطانیہ، اٹلی، فرانس، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی علاقوں تک بھی لے گیا۔ پاکستان کے پہاڑی سلسلوں میں شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جو میں نے نہ دیکھ رکھی ہو۔

صحافتی مصروفیات کے باوجود میں ہر سال اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ شمالی علاقہ جات کا ایک نہ ایک چکر ضرور لگا ہی لیا کرتا تھا۔ نوے کی دہائی تک شمالی علاقہ جات میں آپ کو شاز و نادر ہی کوئی مقامی سیاح نظر آتے تھے۔ ان دنوں ان علاقوں کا رخ زیادہ تر غیر ملکی سیاح ہی کیا کرتے تھے، بڑی تعداد میں جاپانی اور جرمن سیاح گلگت، ہنزہ اورا سکردو آتے تھے۔ نائن الیون کے بعد سے جہاں ان غیر ملکی افراد کی تعداد میں کمی ہوئی وہیں مقامی افراد کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔

ان مقامی سیاحوں کی بدولت شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے بند ہوتے کاروبار کو ایک نئی زندگی مل گئی۔ آج بہت سے افراد اپنے خاندان کے ہمراہ ناران اوربابو سر پاس کے راستے سفر کرتے گلگت اور پھر ہنزہ جا پہنچتے ہیں۔ ہر سال ان سیاحتی مقامات کا رخ کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

عید اور دیگر چھٹی کے دنوں میں صرف مری ہی میں دس سے پندرہ ہزار گاڑیاں ایک دن میں داخل ہوتی ہیں۔ پچھلے سال ناران، کالام اور دیگر شمالی علاقہ جات کا رخ کرنے والے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ خدا نے پاکستان کو بے حد قدرتی خوبصورتی سے نوازا ہے، اس کے بہت سے سیاحتی مقامات دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ان کی موجودگی میں سیاحت کو فروغ دینا کسی صورت مشکل کام نہیں ہے۔

پچھلی دو دَھائیوں میں ہونے والی معاشی ترقی کے باعث ویسے بھی اب عوام کے بیشتر حصے کے پاس ڈسپوزبل انکم موجود ہے، جسے وہ سیاحت جیسی تفریح پر خرچ کرنے کے لیے آمادہ بھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاحت کے فروغ اور اس سے وابستہ روزگار کے مواقع بڑھانے کے علاوہ حکومتی ادارے ان سیاحتی مقامات کی صفائی و ستھرائی کے بارے میں بھی کوئی جامع حکمت عملی بنائیں۔

پہلے ہی بہت سے پر فضا مقامات مقامی سیاحوں کی بے حسی کے باعث گندگی کے ڈھیر بن چکے ہیں اب کم از کم نئے بسائے جانے والی مقامات کی حفاظت کے لیے تو ایسی قانون سازی کر لی جانی چاہیے، جس کے تحت سیاحت کی صنعت نہ صرف روزگار اورتفریح کے مواقع فراہم کرے بلکہ ماحول دوست بھی ہو۔

ہماری صوبائی حکومتوں کو بھی اس حوالے سے سوچنا چاہیے، ناران، ہنزہ، کالام اور ایسے دیگر مقامات پر موجود ہوٹل مالکان کو بھی اس بات کا پابند کیا جانا چاہیے کہ وہ قدرتی خوبصورتی کو اپنے منافع کی بھینٹ نہ چڑھائیں اور اس کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان مقامات پر جنگلات کے تحفظ کے لیے بھی حکومت کو سخت اقدامات کی ضرورت ہے، جن کا بڑا حصہ پہلے ہی تعمیرات کی نذرہوگیا ہے۔
ایسا کرنا کوئی بہت مشکل کام بھی نہیں ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے کئی علاقوں میں ہوٹل سیاحوں سے کمرہ کے کرایہ کے علاوہ بیڈ روم ٹیکس کی مد میں دس فرانک فی کس کے حساب سے وصول کرتے ہیں جو سرکاری خزانہ میں جمع کروا دیا جاتا ہے۔ حکومت اس رقم کو سیاحوں کے سبب پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں قدرتی مقامات کی حفاظت کی خاطر بہت سے مقامات پر گاڑی لے جانے پر پابندی ہے اور آپ وہاں تک صرف ٹرین یا ہنڈولے کی مدد سے ہی پہنچ سکتے ہیں۔

لاکھوں کی تعداد میں سیاحوں کی آمد کے باوجود، سکاٹ لینڈ، سوئٹزر لینڈ جیسے ممالک میں کسی تفریحی مقام پر آپ کو کاغذ کا ایک ٹکڑا بھی زمین پر گرا نظر نہیں آئے گا۔ نہ ہی کسی کی جرات ہے کہ وہ ایک درخت ہی کاٹ سکے یا بے ہنگم تعمیرات کھڑی کر لے۔

پاکستان میں بھی بیڈ ٹیکس کی مد میں بھاری رقم وصول کی جاتی ہے لیکن یہ رقم کن مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے اس حوالے سے کوئی محکمہ جواب دینے کو تیار نہیں۔

مغربی ممالک میں اگر حکومت اپنی ذمہ داری انجام دیتی ہے تو لوگ بھی اپنا فرض پورا کرتے ہیں۔ ہمارے عوام کی طرح نہیں کہ چاہے سیف الملُوک جیسی طلسماتی جھیل ہو یا نمکین پانی کی اوچھالی لیک، سری پائے ہو یا شوگران، مری کی وادیاں ہوں یا سوات کے حسین مناظرانہیں گندگی کا ڈھیر بنانا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔

ایسے لوگوں سے میرا بس ایک سوال ہے، اگر آپ خود اتنے گندے ہیں کہ گندگی پھیلائے بغیر رہ ہی نہیں سکتے تو کسی خوبصورت مقام پر جانے کی آپ کو ضرورت ہی کیا ہے؟ کیونکہ یقینی طور پر خوبصورتی اور قدرتی حسن آپ کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ٹھنڈی ہوا کے لیے آپ اے سی چلا کر باآسانی گزارا کر سکتے ہیں۔

اس لیے براہ مہربانی آپ اپنے گندگی کے ڈھیر میں زندگی گزاریے اور خدارا ان مقامات کو ان لوگوں کے لیے محفوظ رہنے دیں جو ان کی قدر جانتے ہیں، جو درختوں کی خوشبو، ہواؤں کی سرسراہٹ اور چشموں کی جل ترنگ کو محسوس کر سکتے ہیں اور ا ن سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

About افتخار احمد 9 Articles
افتخار احمد ملک کے معروف اور سینئر صحافی ہیں۔ ان دنوں جنگ اور جیو گروپ سے وابستہ ہیں۔ صحافت کے ساتھ مظاہر فطرت، پہاڑوں، درختوں، پودوں اور ان پر کھلنے والے پھولوں سے محبت کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ ماحولیات کو نا صرف مستقبل بلکہ حال کا بھی انتہائی اہم معاملہ سمجھتے ہیں۔ زندگی کو زندگی کی طرح جیتے ہیں۔