‘ایک روزن’ سائبر دنیا میں متوازن سوچ کا درخشاں ستارہ : کھلا اِک دریچہ مہکتی فضا لئے

ایک روزن لکھاری
نعیم بیگ، صاحبِ مضمون

‘ایک روزن’ سائبر دنیا میں متوازن سوچ کا درخشاں ستارہ : کھلا اِک دریچہ مہکتی فضا لئے

(نعیم بیگ)

یہ شاید جون ۲۰۱۶ء کی بات ہے، میں نے ہندوستان کے ایک معروف ادبی جریدے کے لئے اُن کی خواہش پر سعادت حسن منٹو پر ایک تنقیدی مضمون رقم کیا، جو اشاعت کے لئے انہیں بھجوا دیا۔ تاہم پاکستان میں اسے ویب سائٹ ’ہم سب‘ پر اشاعت کے لئے بھجوا یا جہاں یہ ترنت شائع ہوگیا۔ میں اکثراپنے افسانے، تبصرے اور تنقیدی مضامین مختلف پرنٹ اور انٹرنیٹ جریدوں کو بھجواتا رہتا ہوں، کبھی یہ خیال ہی نہ آیا کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی طبع زاد کی کوئی شرط ہوتی ہے۔

اتفاق سے انٹرنیٹ پر سرفنگ کرتے ہوئے چند روز بعد ایک دوسری ویب سائٹ ’’ایک روزن‘‘ پر نظر پڑی تو اس کے کنٹنٹس، فارمیٹ، ترتیب و تزئینِ مضامین دیکھ کر دل میں خواہش جاگ اٹھی کہ منٹو کا مضمون اس ویب سائٹ پر شائع ہونا چاہیے تھا۔ میں نے بلا سوچے سمجھے اس ویب سائٹ کے ایڈیٹر کو مضمون اشاعت کے لئے بھیج دیا۔ جس پھرتی سے میں نے مضمون بھجوایا، اُسی تیزی سے معذرت کا جواب ملا۔ وجہ ناقابل اشاعت یہ تھی کہ میرا مضمون انٹرنیٹ کی دنیا میں طبع زاد نہیں رہا تھا۔
مجھے بڑا تاؤ آیا، بھلا یہ کیا بات ہوئی؟ میرا خیال تھا کہ انٹرنیٹ پر تو مضامین کئی کئی جگہ شائع ہوتے ہیں۔ اسی دن عالمی سیاست پر ’’عوامی مقبولیت کیوں نہیں؟ ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا اور ایڈیٹر صاحب کو بھجوا دیا۔ وہ مضمون نہ صرف اُسی دن شائع ہوا بلکہ سینکڑوں قا رئین نے اسے پڑھا۔ یہ پچیس جون ۲۰۱۶ء کا دن تھا۔

وہ دن اور آج کا دن پھر میں نے پلٹ کر کسی اور ویب سائٹ کی طرف اپنے مضامین کی اشاعت کے لئے نہیں دیکھا۔ آپ حیران ہونگے کہ ایسی کیا بات تھی جس پر ’’ایک روزن ‘‘ نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں وہیں کا ہو رہا۔
’’ایک روزن‘‘ درحقیقت ایک استعارہ ہے ان کتھارسز کا جو اس تیزترین دنیا میں معاشی و سماجی انصاف کی زنجیر ہلانے کو تڑپتے ہیں، پر ان کا ہاتھ وہاں پہنچ نہیں پاتا۔ کیا ہوا اگر ہاتھ بپھرے ہوئے مسائل کے گریبانوں تک نہیں پہنچ پاتا، ہاتھ میں قلم تو اٹھایا جا سکتاہے۔

یہ ایک روزن کی پہچان ہے کہ اس نے نوجوان نسل کے ہاتھ میں قلم تھما دیا ہے۔ انہیں ذہنی اورنفسیاتی سپیس دیا کہ وہ اپنے دل کی بات کہہ سکیں۔ آج عالمی سیاسی صورت حال سے داخلی سیاست کے تانے بانے، معاشرتی و تہذیبی روایات ہوں یا جدید اور مابعد جدید تھیوریز کے حامل مضامین سبھی اپنی مہک لئے’ایک روزن‘ سے قارئین تک پہنچتے ہیں۔
لیکن یہ تو کوئی خاص کام نہ ہوا۔ بیشتر ویب سائٹس ایسا کر رہی ہیں۔ ’ایک روزن‘ میں ایسا کیا ہے جو اسے منفرد اور یکتا مینڈیٹ دیتا ہے کہ قاری اسے دیکھے۔
جی ہاں ایسا ہے ۔۔۔آپ ایک روزن کے اداریئے پڑھیئے۔ ایک روزن پر گزشتہ ایک برس میں ہونے والے
مکالمے اور گفتگو کے حصے کو ایک بار پھر دیکھیے:وہ قندیل بلوچ ہو یا عبدالستارایدھی، دہشت گردی کی فضا ہو کہ دفاعی معاملات پر نظر رکھنا، جنگجو ذرائع ابلاغ ہوں کہ غیرتوں کے قتل، عورتوں کا عالمی دن ہو کہ چیئرمین پاکستان سینٹ رضا ربانی کے خیالات، ایک روزن نے گزشتہ ایک برس میں جس متوازن سوچ کو جنم دیا ہے وہ ہے انکا حقیقی کارنامہ۔
ایک روزن میں خیالات کی ترسیل میں ڈنڈی نہیں ماری جاتی۔ سائبر دنیا میں صحافیانہ رویوں میں جو حالیہ تنزلی قارئین تک آشکار ہوئی ہے اس میں ایک روزن نے اپنی جداگانہ اور متوازن سوچ کو پروان چڑھایا ہے اور اس کی ایک وجہ بالکل صاف ہے: سماجی رویوں میں جو انتہا پسندی، عدم برداشت کے عنصر در آئے ہیں انہیں صرف قلم اور منصفانہ حکمرانی سے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔ منصفانہ حکمرانی کو حکومتی اداروں کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ تاہم ایک روزن کے پاس علم و فکر کی قلم بردار فوج ہے جسے وہ متوازن سوچ کے ساتھ سامنے لا رہا ہے۔
لیکن ابھی ابتدا ہے۔ عدم برداشت، انتہا پسندی کی سڑاند اور بدبو اس معاشرے میں رچ بس چکی ہے اسے نکلنے، بہنے اور دریا برد ہونے میں وقت لگے گا۔ ایسے دگرگوں حالات میں یہ قلم ہی ہے جو اپنی آزادی کا اعلان کر چکا ہے۔ اسے چلنے دیجیے۔ ریاست اور زندہ قوموں کی شان قلم کی حرمت میں پنہاں ہے۔ ’ایک روزن‘ پر کسی پوسٹ پر کمنٹس کرتے ہوئے میں نے عرض کیا تھا:
’یہ ہمارے سماج کے ہائیڈ پارک کا سپیکرز کارنر ہے۔ اسے زندہ رکھیے۔ ‘

ترقی یافتہ معاشروں میں جدید ٹیکنالوجی نے اپنے سماجی، معاشرتی اور تہذیبی ارتقائی عمل کو مہمیز دے دی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں سماج کے المیوں کو طشت از بام کرنے کے لئے دلوں کے اندر بوجھ اٹھائے افراد کہاں جائیں؟ یہ ایک بڑا سوال تھا جسے’ ایک روزن ‘نے ایڈریس کیا ہے۔

یہی وجہ تھی’ ایک روزن‘ میں آزادی تحریر و تقریر نے ایک نئے رخ کو اپنایا۔ برسوں پرانا روایتی جمود ٹوٹ رہا ہے۔ نوجوان نسل کے نمائندے قلم کی حرمت کو پہچان چکے ہیں۔ انہیں کام کرنے دیجیے۔ خاطر جمع رکھیئے، ریاست اور قانون دونوں ان کے ہاتھوں محفوظ ہیں۔ یہ ہے وہ احساس جو ’ایک روزن‘ نے سماجی سطح پر لوگوں تک پہنچایا۔

ایک اور اہم بات کہ ایک روزن نے اس سڑاند بھرے ماحول میں گفتگو اور مکالمہ کی تعلیمی اور فکری فضا کو مہمیز کیا ہے۔ دریچے کھول کر دوطرفہ ٹریفک کو یکساں روانی بخشی۔ گفتگو فورم میں قومی سلامتی، سیاسی اہداف، ویژن اور وسائل اور سماج کے چبھتے ہوئے ٹیبوز کو زیر بحث لایا گیا۔

یہ اتنا آسان کام نہ تھا۔ رَت جگوں کی محنت رنگ لارہی ہے۔ چند افراد پر مشتمل’ایک روزن‘ کی ٹیم نے جس مثالی صحافت کی بنیادیں رکھی ہیں اس پر تعبیروں کے محل تعمیر کرنا اتنا آسان نہیں لیکن ناممکن بھی نہیں۔ ’ایک روزن‘ نے جس کسوٹی کو سنگ میل قرار دے دیا ہے وہ اب ہر کس و ناکس کے بس میں نہیں۔

لیکن ابھی منزل دور ہے۔ خیال رہے کہ ’ایک روزن‘ کی ٹیم طویل سفر کی کشتی کے سوار ہیں۔ ٹیکنالوجی اور ریڈابیلیٹی دونوں پر ابھی بہت زیادہ کام کرنا باقی ہے۔ موضوعاتی تنوع کو مزید پھیلانا ہے۔ ادبی سطح کے قارئین کو متوجہ کرنے کے لئے جدید نثری تقاضوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ تحاریر میں ادبی و جمالیاتی چاشنی کو بڑھانا ہوگا۔ سماجی روح کے اِن دیرینہ زخموں کو مندمل کرنا ہوگا۔ ستر برس سے سوسائٹی کی کمر پر جبر کے کوڑے برسائے جانے کے عمل کو قلم کی حرمت ہی روک سکے گی۔ یہی ’ایک روزن‘ کر رہا ہے۔

انسان دوست سماج کے چہرے پر پھیلی برسوں کے تفکر کی لکیروں کو مٹانے کے لئے’ ایک روزن‘ کے لئے ہزاروں نیک تمنائیں۔

About نعیم بیگ 131 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔