’’ایک روزن‘‘

ایک روزن  معاشرے میں مکالمے کا دروازہ کھولنے کی ایک کوشش ہے۔ ایک روزن پہ لکھے جانے والے تمام مضامین کم سے کم حد تک لاگو (minimal) ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ ہم نا کسی سے پیسے لے رہے ہیں، اور نا ہی تحاریر کے لیے اعزازیہ دینے کا اہتمام رکھتے ہیں۔ کلِکس کی، بَہ جائے خود، ہمیں کوئی کوئی خاص طلب نہیں، اور نا ہی دھڑا دھڑ پوسٹیں لگانا ہمارا مَطمَحِ نظر ہے۔ ادارہ جاتی پالیسی مندرجہ ذیل ہے:

۱۔ ایک روزن پہ ہر مسلک، طبقے اور فکری جھکاؤ رکھنے والے افراد لکھ سکتے ہیں، مگر تحریر میں کسی دوسرے طبقے، مسلک یا فکری جھکاؤ رکھنے والے افراد کی تحقیر، اِہانت یا کردار کُشی بَہ معنی شخصی انہدام کو ہر گز شائع نہیں کیا جائے گا، البتہ روَیّے، اور کردار پر نقد و جرح ضرور ہو سکتی ہے۔ آپ کی تحریر کو جنسی تنوعات (sexual identification diversity)، سماج کے پِچھڑے طبقات کے لیے بین الاقوامی طور پر ابھرتے اور علمی طور پر مُروّجہ انصاف پسند، اور شمولیت انداز (inclusive)، اسماء (nouns, pronouns, adjectives, etc) برتنے کی ترغیب دی جاتی ہے، اور ان کے استعمال کے مناسب ادارتی لحاظ کا اہتمام رکھا جاتا ہے۔ مظلوم تردیدی روَیّوں (victim bashing) اور ثقافتی سٹیریوٹائپس کی سخت انداز سے ادارتی بیخ کنی کی جاتی ہے۔ کسی قوم، طبقے، اور مکتبِ فکر کو بَہ حیثیتِ مجموعی رد کر دینے کی ذہنی روش کو نا پسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسے رویے کسی بڑے سے بڑے نام ور لکھاری میں بھی موجود ہوں تو ان کو مناسب نوٹ کیا جائے گا، اور ادارتی مداخلت کی جائے گی۔

۲۔ ایک روزن کا بنیادی مقصد معاشرے میں مکالمے کی دبی فضا کو کھولنا ہے۔ اس لیے ہر ایسے موضوع کو جگہ دی جائے گی جس میں معاشرے کے حساس اور ٹابو taboo موضوع کو زیرِ بحث لایا گیا ہو۔

۳۔ ایک روزن وطنِ عزیز کا کوئی روایتی صحافتی ادارہ نہیں۔ اس کا مجموعی مزاج، علمی، ادبی اور فلسفیانہ ہے۔ اس لیے روایتی صحافیانہ طرز کی روز مَرّہ خبروں پہ رائے دینے سے اجتناب کیجیے۔ اہم خبر کے علمی، سماجی اور فلسفیانہ پہلوؤں پر مباحث کو ملحوظ رکھا جائے گا۔

۵۔ ایک روزن اپنے قارئین کے لیے اہم اور معیاری علمی، ادبی اور فلسفیانہ تحریروں کا انتخاب بھی شائع کرتا رہے گا۔

۶۔ ایک روزن پہ  پہلے سے شائع شدہ تحریروں کو نا گزیر وجوہات کی بنا پر شائع کیا جاتا ہے، تاہم تازہ اور غیر مطبوعہ تحریروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ پہلے سے شائع شدہ تحریریں ترجیح میں بہت نچلے درجے پر رکھی جائیں گی۔ اور خاص طور پر برقی ذرائع ابلاغ میں پہلے سے شائع شدہ تحریروں کو ایک روزن بھیجنے پر، یا پہلے یہاں شائع کروا کر، کہیں دیگر برقی ذرائع پر مکرر شائع کرانے کے شوقین لکھاریوں پر گہری نظر رکھی جاتی ہے۔ جُوں ہی ایسی صورتِ احوال اور رویّے کی بابت معلوم ہوتا ہے تو آئندہ کے لیے ایسے لکھاریوں کی تحریروں کو بَہ غیر مُطّّلع کیے نظر انداز کیا جاتا ہے۔

۷۔ ایک روزن پہ بھیجی جانے تمام تحریریں ایم ایس ورڈ/یونی کوڈ/سمارٹ فون پر ٹائپ شدہ صورت میں بھیجی جائیں۔ اگر آپ ان پیج مین لکھتے ہین تو اس کو یونی کوڈ میں تبدیل کر کے بھیجنا آپ کے ذمے داری ہے۔ ادارہ ہاتھ سے لکھی ہوئی، یا بَہ ذریعہ ڈاک موصول ہونے والی کسی تحریر کو شائع کرنے کا پابند نہیں۔

۸۔ ایک روزن کو بھیجی جانے والی ہر تحریر پہ مصنف کا نام لکھا جانا ضروری ہے۔ نئے لکھنے والے اپنی سوشل میڈیا کی IDs کے لِنک ارسال کیجیے، اور آپ کا فون نمبر بھی ہَم راہ ہو، تا کِہ آپ کی شناخت یقینی بنائی جا سکے۔ ساتھ تصویر بھی ضرور بھیجیے۔ شناخت کے بَہ غیر کسی تحریر کو شائع نہیں کیا جائے گا۔ مشکوک شناخت والی اور سَرقہ تحریر کو ہر گز شائع نہیں کیا جائے گا۔ سرقہ اگر وقتی طور پر معلوم نا ہو سکے تو بعد میں قائل کر دینے والی شہادت کی موصولی پر تحریر کو ہٹا دیا، offline  کر دیا جائے گا۔ آپ جن ذرائع سے اپنی رائے سازی، یا معلومات لے رہے ہیں، ان کا حوالہ دینا آپ کے قد کاٹھ کو کم نہیں کرتا، اور یہ ہمی سب کو بد دیانتی سے بچاتا ہے۔

۹۔ کوشش کی جائے گی کہ ہر موصُولہ، اور ادارہ کی پالیسی کے مطابق پوری اترنے والی، تحریر کو جلد اَز جلد شائع کیا جائے، مگر پھر بھی اس سلسلے میں دو سے تین دن کا انتظار درکار ہو گا۔ کبھی یہ دورانیہ طویل بھی اور طویل بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ جلد تحریر شائع کروانے کا ذوق رکھتے ہیں تو متبادل ذرائع ابلاغ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

۱۰۔ تحریر کی لمبائی کی کوئی قید نہیں البتہ ۳۰۰۰ الفاظ پر مشتمل تحریر پڑھنے میں ایک نشست مانگتی ہے۔ اس سے زیادہ الفاظ کی تحریر سے اجتناب کیا جائے۔

۱۱۔ ایک روزن ایک علمی مکالمے کے فروغ کا ادارہ ہے جس پر کسی قسم کی منافرت، اور گھٹیا تصورات کی ترویج کی اجازت نہیں ہے۔ ہمارا پہلا اور آخری مقصد اُن تمام پہلوؤں کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہے جنہوں نے معاشرے کو حبس زدہ بنا رکھا ہے۔ اسی طرح محبت، آشتی اور امن کا ہر وہ پیغام جو کسی بھی فرقے، عقیدے، مذہب، نسل، ونگ اور مسلک سے منسلک ہو عمل کیا جائے گا۔ تحریریں بھیجنے کا ای میل پتا:

tehreer@aikrozan.com