’’ایک روزن‘‘

’’ایک روزن‘‘ معاشرے میں مکالمے کا دروازہ کھولنے کی ایک کوشش ہے۔ ’’ایک روزن‘‘ پہ لکھے جانے والے تمام مضامین ایک کم سے کم حد تک لاگو (minimal) ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ ادارے کی ادارہ جاتی پالیسی مندرجہ ذیل ہے:

۔۱ ’’ایک روزن‘‘ پہ ہر مسلک، طبقے اور فکری جھکاؤ رکھنے والے افراد لکھ سکتے ہیں، مگر تحریر میں کسی دوسرے طبقے، مسلک یا فکری جھکاؤ رکھنے والے افراد کی تحقیر، اہانت یا کردار کُشی کو ہر گز شائع نہیں کیا جائے گا۔

۔۲ ’’ایک روزن‘‘ کا بنیادی مقصد معاشرے میں مکالمے کی دبی فضا کو کھولنا ہے۔ اس لیے ہر ایسے موضوع کو جگہ دی جائے گی جس میں معاشرے کے حساس اور ٹابو  taboo موضوع کو زیرِ بحث لایا گیا ہو۔

۔۳ ’’ایک روزن‘‘ صحافتی ادارہ نہیں۔ اس کا مجموعی مزاج، علمی، ادبی اور فلسفیانہ ہے۔ اس لیے صحافیانہ طرز کی روز مرہ خبروں پہ رائے دینے سے اجتناب کیجیے۔ اہم خبر کے علمی اور فلسفیانہ پہلوؤں پر مباحث کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ ’’ایک روزن‘‘ پہ انٹرویوز کو بھی شائع کیا جائے گا، تاہم ایسے انٹرویوز کو شائع کرنا ترجیح ہوگی جن سے مکالمہ کی فضا وا ہو سکے۔

۵۔ ’’ایک روزن‘‘ اپنے قارئین کے لیے اہم اور معیاری علمی، ادبی اور فلسفیانہ تحریروں کا انتخاب بھی شائع کرتا رہے گا۔

۶۔ ’’ایک روزن‘‘ پہ  پہلے سے شائع شدہ تحریروں کو نا گزیر وجوہات کی بنا پر شائع کیا جاتا ہے، تاہم تازہ اور غیر مطبوعہ تحریروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ پہلے سے شائع شدہ تحریریں ترجیح میں بہت نچلے درجے پر رکھی جائیں گی۔

۷۔ ’’ایک روزن‘‘ پہ بھیجی جانے تمام تحریریں ایم ایس ورڈ/یونی کوڈ/سمارٹ فون پر ٹائپ شدہ، یا ان پیج فائل میں بھیجی جائیں۔ لیکن کوشش کیجیے کہ ان پیج کے ذریعے  تحریریں نا ہی بھیجیے۔ ادارہ ہاتھ سے لکھی ہوئی بذریعہ ڈاک موصول ہونے والی کسی تحریر کو شائع کرنے کا پابند نہیں۔

۸۔ ’’ایک روزن‘‘ کو بھیجی جانے والی ہر تحریر پہ مصنف کا نام لکھا جانا ضروری ہے۔ نئے لکھنے والے اپنی سوشل میڈیا کی IDs کے لنک ارسال کیجیے اور آپ کا فون نمبر بھی ہمراہ ہو، تا کہ آپ کی شناخت یقینی بنائی جا سکے۔ ساتھ تصویر بھی ضرور بھیجیے۔ شناخت کے بغیر کسی تحریر کو شائع نہیں کیا جائے گا۔ مشکوک شناخت والی اور سَرقہ تحریر کو ہر گز شائع نہیں کیا جائے گا۔

۹۔ کوشش کی جائے گی کہ ہر موصُولہ اور ادارہ کی پالیسی کے مطابق پوری اترنے والی تحریر کو جلد از جلد شائع کیا جائے، مگر پھر بھی اس سلسلے میں دو سے تین دن کا انتظار درکار ہوگا۔ اس کے بعد ادادرہ کسی تحریر کی اشاعت کا پابند نہیں۔ لکھاریوں سے التماس ہے کہ تین دن تک اپنی تحریر کو کہیں اور شائع ہونے کے لیے نہ بھیجیں۔

۱۰۔ تحریر کی لمبائی کی کوئی قید نہیں البتہ ۳۰۰۰ الفاظ پر مشتمل تحریر پڑھنے میں ایک نشست مانگتی ہے۔ اس سے زیادہ الفاظ کی تحریر سے اجتناب کیا جائے۔

۱۱۔ ’’ایک روزن‘‘ ایک علمی مکالمے کے فروغ کا ادارہ ہے جس پر کسی قسم کی منافرت اور گھٹیا تصورات کی ترویج کی اجازت نہیں ہے۔ ہمارا پہلا اور آخری مقصد اُن تمام پہلوؤں کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہے جنہوں نے معاشرے کو حبس زدہ بنا رکھا ہے۔ اسی طرح محبت، آشتی اور امن کا ہر وہ پیغام جو کسی بھی فرقے، عقیدے، مذہب، نسل، ونگ اور مسلک سے منسلک ہو عمل کیا جایا گا۔ ہمارا کسی رائٹ یا لفٹ ونگ سے کوئی تعلق نہیں۔

tehreer@aikrozan.com