گرد باد ناول کا ایک مختصر جائزہ

Naeem Baig

ناول گرد باد کا ایک مختصر جائزہ

تبصرۂِ کتاب از، نعیم بیگ 

“میراثی ہونے سے انکار میرے دماغ میں بیٹھ گیا تھا۔ سو، دو سو، ہزار، دو ہزار، پانچ ہزار جانے کتنے برسوں سے میں جوتیاں کھاتا چلا آ رہا تھا۔’ اوئے حرامدیا’ وہ گالی تھی جو چوہدری مجھے غصے میں نہیں دلار سے دیتا تھا۔

“اس وقت بھی جب وہ مجھے داد دینا چاہتا تھا اور میں اپنے ولد الحرام ہونے کو خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے باچھیں نکال دیتا اور مارے خوشی کے دم ہلانے لگتا۔ میں خود حرامدا تھا، لیکن اس کی حلال زدگی کی گواہی پر مامور تھا۔”

کوٹ ہرا سے نکلتا ہوا اپنے تا حدِّ آسمان مِحوَر پر  وحشی بگولے کی شکل میں گرد باد جو موجُو موچی کی زندگی میں تلاطم پیدا کرتا ہوا چراغے جیسے میراثی کی دہلیز پر جا رکتا ہے کہ وہاں اسے حضرت مولانا چراغ شاہ الہاشمی و القریشی دام برکاۃ کا سامنا ہے۔ وہ اُسی ‘مردِ مؤمن مردِ حق والا اسمِ اعظم جس کی مدد سے سارے طلِسمی قفل کھُل جاتے ہیں،’ کا دل دادہ ہے۔

شمو کنجری کے پلو سے بندھا حمیدے کا ہاتھ تھامے موجُو کے پاس چارہ نہ تھا کہ وہ بچپن کے اس دوست کی حویلی میں قیام کرے اور لاہور شہر کی ان دیواروں کو چشم دید گواہی کے لیے منتخب کرے، جہاں کوچہ فن کاراں میں استاد اشرف علی خان کی کتھک دنیا میں کوندے لہراتے ہیں۔ بے ارادہ و بے اختیار نرتکی کوچۂِ فن کاراں میں استاد جی سے ایک اُلوہی رشتے میں بندھ جاتی ہے۔


متبادل نقطۂِ نظر:

عاطف علیم کی کہانی کاری  از، یاسر چٹھہ


سماج کی عطا کردہ محرومیوں اور کثافتوں نے ہمیں خوابوں اور نعروں کی دنیا سے نکال کر ایسی سنگین دنیا میں لا کھڑا کیا ہے کہ ماضی کا متحیّر کر دینے والا کوئی خواب اور نظریہ اب باعثِ سکون نہیں رہا ہے۔

ہم بَہ یک وقت فطری نظریاتی ہتھیار لیے پوسٹ ماڈرن عہد میں جہاں دنیا شعوری سطح پر دور کھڑی ہے، میں  ابھی ابتدائی سطح کے مسائل سے نبرد آزماء ہیں۔ نتیجہ تاریکی کا ایک اور عہد مکرُوہ اجارا داروں کی سر پرستی لیے ہمارے سامنے کھڑا ہے۔

مذہبی کتابوں سے کشید کیے مرتب نظام ہائے جس میں مقامی چاشنی بھی شامل ہوئی ہمارا مقدّر بنے اور اسی نظام  کو لیے آمریت سڑکوں پر خون بہاتی رہی اور اجتماعی سوچ منجمد رہی۔

انسانی فہم و ادراک کائنات کے بعید ترین گوشوں کا سراغ لگا رہا ہے۔ ہماری بد قسمتی کہ ہم اپنے سماج اور اس کے تاریک گوشوں کو سمجھنےکے لیے ابھی تک ابتدائی مراحل سے ہی نہیں گزر پا رہے ہیں۔ آرٹ اور کلچر سے رُو گردانی اور جا بہ جا پا بندی آزادیِ اظہار، معاشرتی بے راہ روی کو بڑھا رہی ہے۔

سائنس کی بے پناہ نعمتوں نے دنیا بھر کی زندگی کو سہل اور پُر لطف بنا دیا ہے لیکن ہم تیسری دنیا کے باسی کائنات کی عقدہ کشائی کی بَہ جائے مہا بیانیوں اور اس کے ٹھیکے داروں کے چَنگُل میں پھنسے کائنات اور انسانیت کی تحقیرِ مسلسل میں مصروف ہیں۔

موجو کی زندگی ستر اور اسی کی مصائب زدہ دھائی سے گزرتی ہوئی بَہ ظاہر کھُلی لیکن در حقیقت نایاب تاریخ رقم کرتی ہے جو ناول کی صورت عاطف علیم نے اکیسویں صدی کی دوسری دھائی میں پیش کر دی۔

Gardbaad novel Atif Aleem aik Rozan JPG
گرد باد

گرد باد در اصل اسی سماج کی عکاسی کرتا ہے۔ عاطف علیم کی حقیقت اور سچائی ہم معنیٰ نظر آتی ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی چیزیں حقیقت ہو کر بھی حقیقی نہیں ہوتیں۔

یہ ایک سچے ادیب کا کام ہے کہ وہ ایسی حقیقتوں کے پسِ پردہ سچائیوں کی تلاش جا ری رکھے اور یہ کام  بین السُّطور سطر در سطر مصنف آشکار کرتا گیا۔

ناول کا بیانیہ رواں اور اسلوب دل کش ہے۔ لفظوں کی حرمت اور توقیر کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ عاطف علیم مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ہجر و فراق سے نکل کر تلخیِ حیات، روح کے گہرے گھاؤ اور نا آسودگی کو نفسیاتی پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔ یہی اس ناول کی بڑی خوبی ہے۔

بارے چند کرداروں کے عرض ہے کہ نیا حمیدا اس ناول سے کچھ الگ نظر آیا۔ اگر یہی کام پرانے حمیدے کے سپرد ہوتا تو قاری اس کے باطنی درد کو سمجھ چکنے کے بعد اس کے مَثبت اور کار و باری روَیّہ کو بَہ ہر حال جواز مہیا کرتا۔ یہ صرف ایک تاثر ہے (جو شاید میرے خود مصنف ہونے کے ناتے ابھرا ہو)۔

راقم مصنف کی مکمل ناول سپردگی کو کہیں زیادہ اہم مانتا ہے اور مصنف کے استحقاق کو عظیم تر جانتا ہے۔

About نعیم بیگ 128 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔