یاسر چٹھہ(ادارت)

یاسر چٹھہ نے انگریزی ادبیات میں ماسٹرز اور ایم فل کیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے قانون کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔

یاسر چٹھہ پچھلے کچھ عرصہ سے آن لائن بلاگنگ سائیٹس کے لئے لکھتے آ رہے ہیں۔ یاسرسماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ وابستہ ہیں جن کے لیے وہ تحریری اور مشاورتی شراکت رکھتے ہیں۔

پاکستانی سماج سے شدت پسند فکرکی بے دخلی کے لئے توازن پسند رویوں کی تلاش میں اُن کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔ وہ اس سلسلے میں باقاعدہ کچھ منصوبہ جات پر کام کر رہے ہیں۔

انگریزی ادبیات کے استاد

بین الاقوامی ادب اور علوم کے تراجم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ابلاغ کے مثبت اور تعمیری امکانات پر پُختہ یقین رکھتے ہیں۔

انگریزی ادبیات وانگریزی کے کلاسیک ادب  کا ترجمہ اُن کا اختصاص رہا ہے۔ اُردو کلاسیک ادب میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ابلاغ کے مثبت اور تعمیری امکانات پر پُختہ یقین رکھتے ہیں۔ اُن کے کچھ اُردو کلاسیک کے انگریزی تراجم بھی زیرِ تکمیل ہیں۔

اسلام آباد کے ایک سرکاری کالج میں شعبہِ انگریزی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ پاکستان کونسل آف سوشل سائنسز (COSS) سےبطور تکنیکی مُدیر منسلک رہے ہیں۔

عرفانہ یاسر (معاون ادارت)

عرفانہ یاسر گزشتہ ایک دھائی (2005) سے زیادہ براڈکاسٹ جرنلزم، ترقیاتی ابلاغیات (development communication) اور سماجی ذرائع ابلاغ (social media) سے منسلک ہیں۔

عرفانہ، جیو نیوز،ایکسپریس نیوز، کیپیٹل نیوز اور سی این بی سی پاکستان کے ساتھ پروگرامنگ اور نیوز کے شعبہ جات میں اہم ذمے داری والی تفویضات (assignments( سے وابستہ رہی ہیں۔

عرفانہ یاسر

اس کے علاوہ وہ فری اینڈ فیئر الیکشنز نیٹ ورک)FAFEN) اور پلاننگ کمیشن آف پاکستان میں بھی کام
کرتی رہی ہیں۔ عرفانہ یاسر نے فیئر اینڈ فری الیکشنز نیٹ ورک کے لئے رپورٹ رائیٹر اور ایڈووکیسی کے شعبوں میں کام کیا ہے۔ یہاں پر انہوں نے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ارکان کی کارکردگی سے لے کر پارلیمینٹ میں ہونے والی قانون سازی، اور سرکاری اداروں کی معلومات عامہ کی آسان فراہمی اور شفافیت کی ترویج کے لئے بھی کام کیا ہے۔ پلاننگ کمیشن آف پاکستان میں ڈویلپمنٹ کمیونیکیشن کے ماہر کے طور پر بھی کام کرتی رہی ہیں۔ یہاں انہوں نے میڈیا اور معاشرے میں ڈویلپمنٹ ڈسکورس کے پیدا کرنے کی ذیل میں اہم کردار ادا کیا ہے

مزید برآں وہ SZABIST اسلام آباد کے میڈیا اور کمیونیکیشنز ڈیپارٹمنٹ میں بطور visiting faculty خدمات سرانجام دی ہیں۔ ریڈیو پاکستان میں نیوز اینڈ کرنٹ افیئز کے ایک پروگرام کی میزبان کے فرائض بھی انجام دیئے ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے مابین جرنلسٹ ایکسچینج پروگرام کے تحت امریکہ سے جدید و مروج ذرائع ابلاغ کی بابت تربیت حاصل کی ہے؛ ٹیکساس کے شہر آسٹن میں کے NBC ٹی وی کے ذیلی ایکس این چینل کے ساتھ بطور فیلو کام کیا ہے۔

حالیہ دنوں آر وائی نیوز میں کرنٹ افیئرز پروڈیوسر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ میڈیا میں ایک لمبا عرصہ گزارنے کی وجہ سے ملٹی میڈیا میں خصوصی مہارت رکھتی ہیں۔

ملک تنویر احمد (معاون ادارت)

ایک روزن معاون
ملک تنویر احمد

ملک تنویر احمد نے جامعہ کراچی سے ابلاغ عامہ Mass Communication میں ماسٹرز کیا۔ کراچی اور اسلام آباد میں انگریزی زبان کے پرنٹ میڈیا سے منسلک رہنے کے علاوہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان سے ترقیاتی ابلاغ کے ماہر کے طور پر بھی منسلک رہے۔ حکومت نظم و نسق کے چلنے کا انداز اور ترقیاتی اور گوریننس کی اصلاحات کے عمل پر راست نظر رکھے رہے ہیں۔

دوران صحافت جہاں ملک کے سیاسی امور سے لے کر معاشی امور کو قلم بند کیا تو ساتھ ہی کالم نگاری کے میدان میں بھی طبع آزمائی کرتے نظر آئے۔ ایک قومی روزنامے سے بطور کالم نگار منسلک ہونے کی وجہ سے ملک میں سیاسی حرکیات، سماجی رویوں اور معاشی تغیرات پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ معتدل مزاج ہونے کے باعث اعتدال پسند نظریات کو رشحات قلم  کے ذریعے فروغ دینے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ ہر نوع کی انتہا پسندی کے ناقد ہونے کے باعث معتدل رجحانات کا فروغ اپنا نصب العین قرار دیتے ہیں۔

قاسم یعقوب(معاون ادارت)

قاسم یعقوب نے اُردو ادب اور لسانیات میں جی
اردو ادبیات کے استادسی یونیورسٹی فیصل آباد سے ماسٹرز کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل کے لئے ’’اُردو شاعری پہ جنگوں کے اثرات‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ آج کل پی ایچ ڈی کے لئے ادبی تھیوری پر مقالہ لکھ رہے ہیں۔

قاسم یعقوب بحیثیت شاعر اور نقاد جانے جاتے ہیں۔ تاہم وہ اپنا اختصاص ایک ناقد کے طور پر بنانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اُن کی دو کتابیں اُردو تنقید، چارشاعری اور ایک لغت کی کتاب منظر عام پر آ چکی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اُردو تنقید اور فکشن پر چار کتابیں مرتب کیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان اور مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔

ادبی تحریروں کے حوالے سے اُن کا موقف ہے کہ تحریر اکہری اور سطحی نہیں ہونی چاہئے کیوںکہ ادبی تحریر کی ایک روحانیت ہوتی ہے جو مراقبے پر مائل کرے تو گیان کے در کھلتے ہیں۔ مگر وہ ادبی ابہام اور بے معنویت کو اتنا ہی رد کرتے ہیں۔ البتہ نثر کی زبان کے اکہری اور مقصدی ہونے کے قائل ہیں۔ ان کے بقول تنقیدی زبان تھیسس اور دلائل پر کھڑی ہوتی ہے، اس میں رمزیت اورابہام پسندی معنی کی شکست و ریخت کا باعث بنتی ہے۔

قاسم یعقوب ایک ادبی مجلے ’’نقاط‘‘ کے مدیر ہیں۔ ’’نقاط‘‘ نے سنجیدہ حلقوں میں خوب پہچان بنائی۔ ’’نقاط‘‘ کی ادبی خدمات پہ پنجاب یونیورسٹی، اسلامی یونیورسٹی اور سرگردھا یونیورسٹی میں ایم اے اور ایم فل کے مقالات لکھے جا چکے ہیں۔ نقاط کے خصوصی شمارے ’’عالمی ترجمہ نمبر‘‘، ’’نظم نمبر‘‘ اور ’’کتاب نمبر‘‘ ہیں۔

قاسم یعقوب اسلام آباد کے ایک کالج سے بطور استاد منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر بھی وابستہ ہیں۔

(فیاض ندیم (معاون ادارت

فیاض ندیم نے گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حیاتیات میں گریجویشن اور ماسٹرز کیا۔ بعد ازاں انھوں نے اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے "تعلیمی انتظام و انصرام” میں ماسٹرز بھی کیا اور

fiaz-2 آج کل تعلیمی انتظام و انصرام (EPM)میں ایم ایس کر رہے ہیں۔ فیاض ندیم کریکولم   ونگ (curriculum) سے بھی گاہے گاہے وابستہ رہے ہیں۔ انھوں نے سکول اور کالج کی سطح کے حیاتیات کے مضمون کے نصاب کی تیاری میں بھی حصہ لیا

اُن کی لکھی اور نظر ثانی کی ہوئی درسی کتابیں خیبر پختونخواہ اور وفاقی تعلیمی اداروں میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ فیاض ندیم شستہ نثر لکھتے ہیں اور ادبیات کا گہرا مطالعہ بھی رکھتے ہیں۔ فیاض ندیم ادبیات کی معراج فکشن کو کہتے ہیں۔ اُن کا موقف ہے کہ فکشن ادبی جمالیات اور تجربے کی سب سے اعلیٰ صنف ہے۔ وہ اس سلسلے میں عالمی فکشن خصوصاً ایشیائی ادب (جاپان، کوریا، چائنا ، ویت نام، کمبوڈیا) کے ادب کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔

تعلیم اُن کے مضامین کا بنیادی موضوع ہے۔ وہ اس سلسلے میں جاپان، امریکہ اور کوریا کے طویل المدتی دورے بھی کر چکے ہیں۔ جہاں وہ دنیا بھر کے مندوبین سے ملاقاتوں کے علاوہ اپنے ملک کی تعلیم کی حالت کا بہتر موازنہ لے کر آئے ہیں۔

فیاض ندیم اسلام آباد کے ایک سرکاری کالج سے بطور استاد منسلک ہیں۔ اُن کا شعبہ حیاتیات اور نباتیات ہے۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments