خاک کی مہک از ناصر عباس نیئر: ایک تبصرہ

یاسرچٹھہ

 (یاسر چٹھہ)

کتاب کا نام: خاک کی مہک  

مصنف: ڈاکٹر ناصر عباس نیئر

اشاعت کا سال: 2016

پبلشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

20161022_233720

ناصر عباس نیئر اردو کی دنیا میں تنقیدی تھیوری کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ یہ پہچان انہوں نے کسی ستائش باہمی کی انجمن کی رکنیت حاصل کرکے نہیں بنائی۔ بلکہ یہ شناخت انہیں اپنے وسیع تر مطالعے، نفیس تنقیدی بصیرت، اپنے خطہ زمین سے روشن تر انسیت و محبت، اور سب سے بڑھ کے علم سے لگاؤ نے کما کر دی ہے؛ انہوں نے یہ شناخت کچھ تو اپنے خون کو ایندھن کر کے، اور کچھ اپنے دل کی لو سے روشنی لے کر تعمیر کی ہے۔ کتاب دوستی کی عملی تصویر ہیں، اور دوسروں کو بھی روز افزوں اپنی کتابیں تحریر میں لاتے جانے کے تسلسل سے دعوت مطالعہ دیتے رہتے ہیں۔ اچھے ذوق کی آبیاری ان کا مطمع نظر رہتا ہے۔ اس سے پہلے مابعد جدیدیت کی ادبی تھیوری اور خاص طور پر مابعد نو آبادیاتی مطالعے ان کی پہچان خاص رہی ہیں۔ گو کہ راقم ان تنقیدی مطالعات کو بھی تخلیق سے جڑے اور تخلیقی کام ہی سمجھتا ہے، لیکن اس سب یقین کے بارے باوجود اب کی بار ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا ایک نیا باب سامنے آیا ہے: ناصر عباس نیئر کے افسانوں کا پہلا مجموعہ بعنوان، خاک کی مہک شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں ہم ان کے افسانوں کے اس مجموعے کا تعارف اور کسی حد تک مختلف جہتوں یعنی ان افسانوں میں برتے جانے والے مختلف موضوعات، کہانیوں کے محل وقوع یعنی setting  ان کہانیوں میں پیش کئے گئے کرداروں، اور افسانہ نگار کا ان میں روا رکھا گئے عمومی اسلوبی حوالوں سے ایک تجزیہ پیش کریں گے: اور اس تجزیے کو ہر گز حتمی نہیں جانتے۔

ناصر عباس نیئر کے افسانوں کے اس اولین مجموعے کی اشاعت سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور نے کی ہے، ہارڈ بائنڈنگ میں ہے، اور یہ 160 صفحات پر مشتمل ہے، قیمت 700 پاکستانی روپے درج ہے۔ صاحب کتاب دیباچہ وغیرہ لکھنے کے مکلف نہیں ہوئے۔ انتساب کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ:

خاک کے اس ٹکڑے کے نام جس کی مہک نے یہ کہانیاں لکھوائی ہیں۔

دیباچے کی عدم موجودگی اور بظاہر کسی غیر مرئی توازن کے احساس کے برقرار رکھنے کی شعوری کوشش کے طور پر شروع ہی میں البتہ انگریزی ادیبہ، ورجینیا ولف سے ماخوذ ایک اقتباس پیش کرتے ہیں:

فکشن مکڑی کے جالے کی طرح ہے، جو شاید ذرا سا اٹکا ہوا ہے، مگر چاروں طرف سے زندگی سے وابستہ ہے۔ یہ وابستگی مشکل ہی سے سمجھی جاتی ہے۔

کتاب کا انتساب اور اس ورق کی الٹی طرف ورجینیا ولف سے کسی طور منسوب اوپر درج کیا گیا اقتباس پوری کتاب میں ایک بنیادی زمین اور اس کے اٹھے خمیر کے طور پر جا بہ جا موجود رہتا ہے۔ جب پہلا افسانہ بعنوان، کہانی کا کوہ ندا، شروع ہوتا ہے تو کسی پوسٹ گریجویٹ کلاس کے کمرہ جماعت کا منظر ہے۔ پروفیسر صاحب، جن کا نام سر احمد مذکور ہوتا ہے انہیں ایک ایسی کلاس سے واسطہ پڑا ہے جو مطالعے کا ذوق کم سے کم تر رکھتی ہے، لیکن ان طلباء کو ڈگری لینے کا خبط البتہ ضرور ہے۔ پروفیسر صاحب فکشن کی بات شروع کرتے ہیں اور لگتا ہے کہ صاحب کتاب اس افسانے میں پروفیسر صاحب کی باتوں اور خیالات کو ہی اپنے حروف ہائے دیباچہ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ افسانے کی شعریات، سماجیات اور اطلاقیات پر بڑی دلچسپ گفتگو ہوتی ہے۔ اس افسانے کے درمیان تک پہنچتے یہ تبصرہ کار اس عارضی مفروضے کی لپیٹ میں آنے لگا کہ ناصر عباس نیئر بطور افسانہ نگار، ناصر عباس نیئر بطور نقاد، سے چاروں شانے چت ہونے لگا ہے۔ خدشہ ہونے لگا کہ ناصر عباس نیئر کہیں افسانے کی بنت سے انصاف نا کر پائیں گے۔

لیکن افسانے کو مزید پڑھتے جانے پر یہ خدشات جلد ہی ہوا ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر جب افسانے کے اندر ایک کہانی چل پڑتی ہے جس میں غیرت کی بنیاد پر قتل کے واقعے کا ذکر ہوتا ہے۔ یہاں سے کہانی کے اندر وہ افسانوی تناؤ آنا شروع ہو جاتا ہے جو قاری کو اپنے ساتھ جوڑ لیتا ہے۔ اس موقع پر صاحب کتاب کا نقاد، تجزیہ کار اور افسانوی تخلیق کار ایک توازن سے آراستہ اسلوبیاتی لہر میں چلنے لگتے ہیں۔ مابعد جدیدیت کا شعور جا بہ جا اور سطر بہ سطر موجود رہتا ہے۔ پروفیسر صاحب کی باتیں افسانے کی شعریات اور کہانی کے سماجی کردار پر ناصر عباس نیئر کا عکس بنتی محسوس ہوتی ہیں۔ اور افسانہ اس کتاب کے دیباچے کا کافی حد تک قائم مقام بنتا نظر آتا ہے۔ کئی ایک بہت عمدہ سطریں آتی ہیں جو یہاں پر لائق نقل تصور کرتے ہوئے پیش کی جاتی ہیں:

1۔ سمیرا نے پوچھا، سر یہ کہانیاں سچی ہونی چاہئیں؟ سر احمد نے اپنی عینک درست کرتے ہوئے کہا، دیکھو کہانی ہونی چاہیے، اور بس۔ سچ اور جھوٹ، کہانی کے لیے بے معنی ہے۔ (صفحہ 9)

2۔ یہ نکتہ نوٹ کر لو، ہر کہانی ہر شخص کے لیے ایک طرح کی نہیں ہوتی۔ (صفحہ 17)

3۔ کہانی کا سب سے بڑا طلسم یہ ہے کہ وہ تجسس کو تحریک دیتی ہے، مگر تشکیک کا راستہ بند کر دیتی ہے۔ آپ لوگ تنقید پڑھتے ہیں تو آپ کے ذہن میں تشکیک پیدا ہوتی ہے۔ نئے سوال جنم لیتے ہیں، مگر کہانیوں میں آپ ہر لمحہ یہ جاننے کے مشتاق رہتے ہیں کہ آگے کیا ہوا؟ … بہر حال یہ کہانی کا طلسم ہے، اور بڑا ہی خطرناک۔ کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔ اب تک کہانیوں نے جتنی زندگیوں کے چراغ گل کیے ہیں، کاش اس پر کوئی تحقیق کرے! کل اور آج کی تمام بڑی جنگوں کے پیچھے کچھ کہانیوں ہی کا ہاتھ ہے۔ ہیلن سے لے کر صلیبی جنگوں، مہا بھارت سے 1857 کی آزادی کی جنگ تک اور اب نائن الیون کے بعد کی جنگیں۔ (صفحہ 20)

4۔ ایک کہانی، اس کا کوئی کردار، اس کا کوئی واقعہ، اس کا کوئی ایک جملہ، آپ کو اپنی ہستی کے غیر معمولی پن کے رو برو لاتا ہے، اور آپ خود کو ایک قدم اٹھانے، اور ایک فیصلہ کرنے پر مجبور پاتے ہیں۔ (صفحہ 23۔24)

5۔ آپ کو ایک کہانی کو سو طرح سے لکھنے کی روایت ملے گی۔ پنج تنتر کی کہانیاں عربی سے ہوتی ہوئیں، فارسی کی انوار سہیلی سے ہوتی ہوئے واپس ہندوستان پہنچتی ہیں اور کیا سے کیا بن چکی ہوتی ہیں۔ ایک طرف کہانیوں کے پروٹوٹائپ یعنی بنیادی کہانیاں ہیں، جن کی وجہ سے مختلف خطوں کے لوگ ایک جیسی کہانیاں لکھتے ہیں اور عالم فاضل لوگ چونک جاتے ہیں کہ ایک عظیم طوفان کی کہانی، گل گامش کی کہانی میں، وشنو مچھلی کے مچھلی بن کر منو کو عظیم سیلاب سے خبردار کرنے کی کہانی میں، اور سامی مذاہب کی مقدس کتابوں میں طوفان نوح کی کہانی میں کیسے نظر آتی ہے؟ دوسری طرف کہانی کے ذریعے دنیا کو سمجھنے اور برتنے کا طریقہ ہے، جو عقلی طریقے سے مختلف ہے اور ہم سب میں “بائی ڈیفالٹ” موجود ہے۔ عقل رکھنے کے باوجود ہم کم سے کم عقل کے ذریعے چیزوں کو سمجھتے ہیں، مگر کہانی کے طریقے سے، ہر وقت چیزوں کو سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ بہرحال، کہانی کے سچ میں دہرائے جانے کی خلقی صلاحیت ہے۔ یہ وہ مطلق سچ نہیں ہے جو ہر حال میں ہر جگہ ہر ایک کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ (صفحہ 25)

اس کے علاوہ اسی افسانے، کہانی کے کوہ ندا، میں پروفیسر صاحب کے کردار میں موجود حضرت کی جانب سے غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کے متلق بہت عمدہ نفسیاتی تجزیاتی تھیوری پیش کی گئی ہے جو غور اور دلچسپی سے پڑھنے کے نا صرف لائق ہے، بلکہ خود اپنی طرف توجہ مبذول کرا لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ البتہ مابعد جدیدیت کی عمومی فضا میں مرتب اس افسانے میں استاد کی مرکزیت بار بار عیاں ہوتی ہے جبکہ طالب علموں کے لئے وہ ایک روایتی مینارہ درست و نا درست اور علم کے ذخیرے کا روپ ہے۔ یہ بات کسی حد تک ایک تضاد کو پیش منظر میں لے آتی ہے۔

دوسرے افسانے کا عنوان، کفارہ، ہے۔ اس افسانے کی کہانی ایک گاؤں کے پس منظر میں وقوع ہوتی ہے۔ گناہ و ثواب پر بحث ہوتی ہے۔ یہ ساری بات دوبارہ سے اس اس افسانے کو غیرت کی بنیاد پر قتل کی طرف لے جاتی ہے۔ قتل کرنے والا خود اخلاقی و معاشی طور پر رذیل ہے، جیب کترا ہے۔ لیکن غیرت کی بنیاد پر قتل نے پدر سری اقدار والے معاشرے میں معزز پنا اس پر انعام کر دیا ہے۔ اس افسانے میں بھی کہانیوں کے انسانی زندگی میں کردار اور انہیں وجودی سوالوں سے درپیش کر دینے کی صلاحیت کا ذکر ملتا ہے۔ جس مرکزی کردار، خداداد سے جنسی تعلق استوار کرنے، کی وجہ سے ایک عورت اپنے بھائی کی غیرت کے احساس کی بلی چڑھ گئی، اس کردار خداداد میں گناہ و ثواب کی بحثوں سے دلچسپی اپنے اندر کے اندھیرے کے احساس کا شعور دلا دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ وہ روشنی کی طرف امکانات سے بھرپور سفر کی طرف چلنے لگتا ہے۔ اس افسانے کا اختتام خداداد کے یاد میں محفوظ رکھنے کے لائق ان لفظوں سے ہوتا ہے جب وہ اپنے سے زیادہ مذہبی علم رکھنے کے دعویدار، اللہ بخشے، سے بہت مشکل سوال پوچھتا ہے:

کیا کسی کی موت کے بعد اس سے نکاح کیا جا سکتا ہے؟ خداداد نے آنکھیں جھکائے ہوئے کہا۔
اللہ بخشے پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ (صفحہ 47)

تیسرے افسانے کا عنوان، ولدیت کا خانہ، ہے۔ یہ افسانہ بھی صاحب کتاب کی کسی بہت قریب سے دیکھی ہوئی جگہ میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اس افسانے میں بھی غیرت کے تصورات اور اس سلسلے میں عورت ہی کی سماجی طور پر خطا مرکزیت کو موضوع کہانی بنایا گیا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار اسکول ماسٹر اپنے اندر کی نفسیاتی بھٹی سے ایک بہتر شخص بن کے نکلتا ہے۔ لیکن پورے افسانے میں بہت شدید تناؤ کی فضا پیدا کرنے اور جسم اور روح کی جنگ کا منظر بہت عمدگی سے بنا گیا ہے۔ یہ افسانہ قاری کے اندر نفسیاتی ہلچل مچانے کی بھرپور صلاحیت کا حامل ہوسکتا ہے۔

چوتھا افسانہ کتاب کے نام پر، خاک کی مہک، ہے۔ یہ افسانہ اس خاک کی طاقت کو باور کراتا ہے جہاں سے کسی کا خمیر اٹھا ہوتا ہے۔ اس افسانے میں ایک سابقہ امام مسجد جو اب افسانہ نگار بن چکا ہے اس کی اپنے اردگرد سے اپنے مطالعے کی بنیاد پر شعوری پیش رفت کے باعث الگ تھلگ ہو جانے کی بپتا اور ان کے سماجی نتائج کا بیان ہے۔ افسانہ نگار میں شخصی اور نفسیاتی سطحوں پر کیا کیا تبدیلیاں برپا ہو جاتی ہیں اور ان سے کس قدر انسانی ذات کی پنہائیوں سے وابستہ علم برآمد ہوتا ہے، اس کا یہ افسانہ مرکزی کردار کی زبانی بہت خوبصورت مطالعہ و اظہار ہے۔ اس مضمون میں بھی پہلے تین افسانوں کی طرح غیرت کے نام کی سماجیات کے استبداد کا ذکر ہے جب ایک بچی کو محض اس لیے اسکول سے ہٹا لیا جاتا ہے اور گھر بٹھا دیا جاتا ہے کہ اس کی کاپی میں اس ویگن ڈرائیور کا موبائل فون نمبر لکھا مل جاتا ہے جو اس سمیت دوسری بچیوں کو پک ڈراپ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک امام مسجد کی معاشی اور روزگار کی فکروں کے بارے بڑے معتبر انداز سے آگاہ کیے جانے کی فنکارانہ سبیل نکالی گئی ہے۔ یہ بیانیہ صاحب کتاب کے سماجی شعور اور گہری معاشرتی و نفسیاتی بصیرت کے اہم حوالے کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ صاحب کتاب کی اپنے چنیدہ کہانی کے محل وقوع سے قریبی مشاہدوں کی دلیل ہے۔ جڑوں اور بنیادوں کی جانب لوٹ آنے اور اپنی بازیافت کرنے کے موضوعات ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ادب اور مذہب کی سماجی سطح پر روا اور برپا بعد و فاصلہ جات کے حوالے ہیں۔ ادب اور کہانیوں کے کافرانہ روش گردانے جانے کی باز گشت ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو جب ایک کردار کی جانب سے ان کے خاندانی پیشے یعنی امام مسجد سے افسانہ نگار بننے کی طرف مراجعت ہوتی ہے تو اس کردار کے والد کی جانب سے سماجی و مذہبی مزاحمت اور دباؤ کے عکاس یہ الفاظ سند ہیں:

اب تم مجھے سمجھاؤ گے۔ دیکھ لینا تمہارا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ تمہارے سینے میں وہ سب کتابیں ہماری امانت ہیں۔ میں قرآن کی رحل پر تمہیں الف لیلہ نہیں رکھنے دوں گا۔ (صفحہ 89)

مجموعے میں شامل پانچویں افسانے بعنوان، ہاں، یہ بھی روشنی ہے!، میں جنس، زوجیت، نسل انسانی کے خلق، تانیثیت اور ایک بار پھر سے مردانہ غیرت کے موضوعات کہانی کی بنیاد بنتے ہیں۔ جنسی عمل کی روحانیت کا احتمال ملتا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار عورت اپنی قوت کا اظہار اپنے خاص انداز سے کرتی ہے:

مجھے بسواس ہے کہ یہ رات ایک نئے سویرے کو جنم دے گی، اور اس مرتبہ تم اسے اپنی روشنی پانے کے سفر میں اکیلا نہیں چھوڑو گے!
اس نے آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا، مسکرایا اور کہا: ہاں، یہ بھی روشنی ہے۔
وہ دوسری مرتبہ مسکرایا تھا۔ اس کے گواہ دیوتا نہیں تھے، وہ اکیلی تھی۔
اس نے وہ مسکراہٹ جس پتھر میں قید کی، اسے ابھی تک کسی نے دریافت نہیں کیا۔ (صفحہ 108)

مجموعے کے چھٹے افسانے کا نام، جھوٹ کا فیسٹول، ہے۔ اس افسانے میں ایک بار پھر کہانی کی طاقت اور اس کے امکانات موضوع ہیں۔ گاؤں میں جھوٹ کے مقابلے میں سنائی جانے والی کہانیاں بہت دلچسپ اور انہیں موضوعات کو پیش منظر میں لاتی ہیں جن کا تذکرہ افسانہ نگار باقی کے افسانوں میں کرتا ہے۔ اس افسانے میں وقت کے دھارے کے ساتھ روایتی گاؤں کا نقشہ پیش ہوتا ہے؛ سیاست و صارفیت کے نئے زاویوں کو پرانے وقت میں روا رکھے گئے نو آبادیاتی کاروبار سے منسلک ہوتا دیکھا جا سکتا ہے۔

مرنے کے بعد مسلمان ہوا جا سکتا ہے؟ نام کے ساتویں افسانے میں مذہب پر قابضین کی طاقت اور حاشیے پر موجود اور سماجی طور پر دھتکارے ہوئے طبقات کے لوگوں کو مسلسل احساس گناہ میں مبتلا رکھنے کی روش پر بڑے نفیس انداز سے کاٹ دار طنز لکھی گئی ہے۔ لیکن کہانی کے بیانیے کے ادیبانہ انصاف میں ممتا مذہب سے ارفع درجوں پر فائز نظر آتی ہے۔ منظر کشی بڑی پر اثر انداز میں اور حقیقت پسندانہ طور سے کی گئی ہے۔ دیہات کی ثقافت کا ایک معتبر حوالہ ملتا ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو، ممتا کے جذبات کی پر اثر گونج سنائی دے گی:

تعویذ مسلمانوں کے لئے دیے جاتے ہیں۔” مولوی صاحب نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔
ٹھیک ہے مولبی صاحب۔ بس اتنا بتا دیں، میرے بچڑے مرنے کے بعد کیسے مسلمان ہو سکتے ہیں؟ ماں ہتھیار ڈالنے پر تیار نہیں تھی۔

مولوی صاحب ایک عالم حیرت میں تھے!
(صفحہ 138)

اس کے علاوہ بھی پانچ اور مختصر افسانے شامل ہیں جن میں بشن سنگھ مرا نہیں کئی ایک بڑے اہم سوال اٹھاتا ہے۔ اس مضمون کا اختتام اس بات پر کرنا چاہیں گے کہ ناصر عباس نیئر کی یہ کتاب محض سرسری پڑھنے کی، نہیں بلکہ بہت کچھ سوچنے کی دعوت ہے۔ یہ افسانے ایک قاری کے اندر ان سوالوں کو جگا دیتے ہیں جس طرح یونانی المیہ کچھ سوالوں کو جگا دیتا تھا اور اس المیاتی تجربے سے ایک نئے انسان کے طور پیدا ہوتے تھے۔ فرق اتنا ہے کہ یونانی المیہ خداؤں کی یاد دلاتا تھا، یہ افسانے انسان کے اندر کے شعور میں تلاطم پیدا کرتے ہیں اور اس کے اندر کا انسان جگاتے ہیں۔ افسانوں کا مجموعہ، خاک کی مہک، ایک باشعور ادیب اور اپنے وقت کے اپستیم سے منسلک، مربوط اور روشنی یافتہ مصنف کے افسانے ہیں۔ آخر پر یہ کہنا چاہیں گے ان کی زبان پورے افسانوں میں سلیس اور رواں رہی ہے اور ان کے اسلوب نگارش نے کئی ایک ایسے جملے ایسے فطری انداز سے تراشے ہیں کہ جو اشعار کا سا لطف دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ چن کر کتاب کی پشت پر بھی درج کر دیئے گئے ہیں۔

About یاسرچٹھہ 201 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

1 Comment

  1. تحریر بہت عمدہ ہے
    کیا بہتر ہوتا کہ ’خاک کی مہک‘ مجھ(انڈیا،دہلی) بھی پہنچتی۔

Comments are closed.